چیئرمین خلیل بلوچ کا اہم انٹرویو – توارش بلوچ

126

چیئرمین خلیل بلوچ کا اہم انٹرویو

توارش بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے چیئرمین اور بلوچ رہنماء چیئرمین خلیل بلوچ نے 12 مارچ کو ٹیگ ٹی وی سے طاہر اسلم گورا کے پروگرام بلا تکلف میں ایک اہم انٹرویو دیا، جہاں بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے کئی اہم مدوں پر بات کرتے ہوئے بلوچ قوم کا موقف پیش کیا جس میں کچھ اہم ایشوز پر بھی چیئرمین خلیل بلوچ نے کافی تفصیل سے بات کی، چیئرمین خلیل بلوچ سے جب ٹیگ ٹی وی کے اینکر کی جانب سے یہ سوال کیا کہ کیا آپ کی پارٹی پاکستان سے کسی بھی طرح کا مذاکرات کرنے کو جا سکتی ہے؟ آپ کی پارٹی جو آج بلوچستان کے آزادی کے جدوجہد میں فرنٹ لائن پر ہے تو کیا مذاکرات کے حوالے سے آپ لوگوں سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے اور اگر رابطہ کیا گیا تو آپ کا رسپونس کیا ہوگا؟

جس پر چیئرمین خلیل بلوچ نے اپنی پارٹی کے موقف کو کافی تفصیل کے ساتھ بیان کیا خلیل بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچ نیشنل موؤمنٹ کا پروگرام آزادی کا پروگرام ہے، ہم آزاد بلوچستان کے علاوہ کسی بھی دوسرے نقطے پر بات کرنے کو راضی نہیں ہونگے، ہماری پارٹی کی بنیاد جب شہید غلام محمد بلوچ نے رکھا اُس وقت ڈکٹیٹر مشروف کا دور تھا لیکن پارٹی نے اپنے موقف سے کسی بھی طرح کا کمپرومائز نہیں کیا اور آج تک ہم اپنے آزادی کے نقطے پر کھڑے ہیں۔ بلوچ نیشنل موؤمنٹ ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے مذاکرات کو غلط عمل قرار نہیں دیتا لیکن بلوچ نیشنل موؤمنٹ پاکستان سے مذاکرات یونائٹیڈ نیشن جیسے اداروں کی موجودگی میں کرے گا کیونکہ بلوچ نیشنل موؤمنٹ پاکستان کے فریم ورک میں نہیں رہنا چاہتا، جبکہ قومی آزادی سے کمتر کوئی بھی عمل بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے پروگرام میں نہیں ہے، مزید بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ کا کہنا تھا کہ بی این ایم ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے ہمیشہ عوام کے اندر رہ کر قومی آزادی کا پرچار کرتا آیا ہے لیکن اس کے باوجود ریاستی فوج نے پارٹی کے بہت سے کارکنان کو اغواء کیا جبکہ درجن بھر ساتھیوں کو پارٹی کے چیئرمین شہید غلام محمد بلوچ اور لالا منیر سمیت نمیران کرکے ان کی لاش پھینک دی گئی ہے لیکن ریاستی جبر اور ناانصافیوں کے بعد بھی پارٹی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹی ہے اور جدوجہد کر رہی ہے۔

چیئرمین خلیل بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح دنیا کے اندر پاکستان بلوچستان کو اپنا ایک صوبہ ظاہر کرتا ہے بلکہ حقیقت میں بلوچستان پر یہ ایک قبضہ ہے جبکہ بلوچ پارلیمنٹ نے 1947 میں بھاری اکثریت سے یہ قرار داد منظور کرایا تھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کریں گے، پھر اس کے بعد پاکستان نے فوج کے زور سے بلوچستان پر قبضہ کیا جبکہ قلات میں واقع مسجد کے گیٹ پر پاکستانی فوج کی بندوقوں کے نشان ابھی تک موجود ہیں، تو ہم ایک قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ دنیا کو یہ ماننی پڑے گی کہ بلوچستان پاکستان کا ایک صوبہ نہیں بلکہ ایک مقبوضہ علاقہ ہے جبکہ دنیا آج بخوبی آگاہ ہے اور اتنی نابلد نہیں ہے البتہ دنیا کے پاکستان کے ساتھ جو مفادات ہیں، جو رشتے ہیں، وہ پاکستان کے ساتھ ہیں جبکہ یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ بلوچستان پر پاکستانی آرمی نے قبضہ کیا ہے اور ہماری لڑائی ہماری جدوجہد اس قبضہ کی خلاف ہے۔

طاہر اسلم کے پوچھے گئے ایک سوال پر کہ آج کل جو عمران کی نئی حکومت آئی ہے اور اُسے وہ نیا پاکستان کا نام دیتے ہیں جبکہ وہ انڈیا کو بار بار تلقین کرتے ہیں کہ آپ کے یہاں انسانی کی حقوق کی پامالیوں ہو رہی ہیں، بھارت ہندوستان میں کشمیریوں،سکھوں اور مسلمانوں پر ظلم بند کرے تو کیا ہم توقع رکھ سکتے ہیں کہ بلوچستان میں جو ظلم ہو رہا ہے، اس کے خلاف ایکشن لینگے، کیا آپ سے کوئی رابطہ ہو پایا ہے، جس پر بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے چیئرمین کہتے ہیں پاکستان میں اصل حکومت فوج کرتی ہے جبکہ یہ چہرے ہیں جو ابھی نئی حکومت آئی ہے یا اس سے پہلے والا تھا بلکہ یہاں پر جو اصل حکمرانی ہے، وہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں میں ہے۔ پاکستان کس منہ سے بھارت یا کسی دوسرے ملک کو تلقین کرے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیاں بند کریں، جبکہ پاکستانی فوج آفتاب جیسے سات سال کے بچے کو اغواہ کرتی ہے، ہمارے 62 سالہ خواتین لاپتہ کر دیئے جاتے ہیں جبکہ حالیہ رفیق بلوچ کا واقعہ جس کی ویڈو کلپ شاید آپ کے سامنے گذری ہوگی، جہاں ایک نہتے بلوچ کو 10 سے 12 پاکستانی فوجی قتل کر دیتے ہیں تو یہ ریاست کو چلانے والا ملٹری ہے جبکہ یہاں کوئی جمہوری حکومت نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا دنیا کی سپر پاور ملک آپ کو سُن رہے ہیں یا ماضی میں آپکو سُناگیا ہے اور کیا آگے جاکر وہ آپ کو سنیں گے خلیل بلوچ کہتا ہے کہ دنیا کو ہمارا موقف سُننا ہوگا کیونکہ خطے میں پاکستان جو دہشتگردی پھیلا رہی ہے اور جس سے خطہ دہشتگردی کا شکار ہے تو دنیا کو سُننا ہوگا اس خطے میں بلوچ جو نیشنلزم کے فکر و فلسفہ کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہے اور جو اس خطہ میں خطرناک مرض یعنی کہ اسلامی انتہا پسندی ہے اس سے ایک سیکولر قوم ہے اور وہ اس سے دلچسپی نہیں لیتا جبکہ پاکستان کے دیگر جو علاقے ہیں چونکہ کے پی کے اور دیگر علاقوں میں یہ بہت زیادہ پائی جاتی ہے، جبکہ بلوچ کے یہاں اس طرح کا کوئی رحجان نہیں ہے ہاں البتہ پاکستان نے بھرپور کوشش کی ہے کہ بلوچ قوم جو فطرتاً ایک سیکولر قوم ہے اس کے یہاں مذہبی انتہا پسندی کو پھیلائے، پنجاب سے کے پی کے سے بہت سے لوگ بھیجے گئے ہیں تاکہ بلوچ کا جو سیکیولر رحجان ہے اس کو مذہبی انتہا پسندی کا شکار کیا جائے اور وہاں کے ماحول کے دوسرے علاقوں کی طرح پراگندہ کیا جائے لیکن بلوچ فطرتاً سیکیولر قوم ہے، اس لیئے ریاست کی کوششیں ناکام ہوئی ہے، دوسری جانب بلوچستان سنٹرل ایشیا کا گیٹ وے ہے اور بلوچ کا جو جیو پولیٹیکل اہمیت ہے، وہ دنیا کو کھینچ لائے گا اور ہم اُمید رکھتے ہیں بلکہ ہمارا یقین ہے کہ دنیا بلوچستان کو ضرور سُنے گا۔

طاہر اسلم کی جانب سے چین کے بارے میں سوال پر بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے چیئرمین اور بلوچ رہنماء کہتے ہیں کہ چین سے ہم کوئی توقع و اُمیدیں نہیں رکھتے ہیں کیونکہ چین نے بلوچ کی مرضی و منشاء کے بغیر بلوچستان میں سرمایہ کاری شروع کی ہے جو ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچ سے دشمنی ہے، ہم چین کو اپنا ایک دشمن تصور کرتے ہیں، چین کی پاکستان کو جو مدد ہے جس کی وجہ سے بلوچ قتل عام ہو رہی ہے اور پھر چین کا پاکستانی معیشیت کو سہارہ دینا تو ہم چین کے ان اقدامات کو دشمنی تصور کرتے ہیں اور چین بلوچ کا ایک دشمن ہے ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک سپر پاور ہے لیکن آج کے دور میں کسی بھی جگہ سرمایہ کاری کرنا وہاں کے لوگوں کے مرضی و منشاء کے خلاف ممکن نہیں ہے، سرمایہ کاری کیلئے جو سب سے ضروری چیز ہوتی ہے، وہ امن ہے لیکن چین جہاں سرمایہ کاری کر رہا ہے، وہ وہاں کے لوگوں کے مرضی و منشاء کے خلاف ہے۔ جو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہوگا، بغیر بلوچ کے مرضی و منشاء کے چین نہ سی پیک کو قابل عمل بنا سکتا ہے، نہ اپنے دیگر منصوبوں کو قابل عمل بنا سکتا ہے۔

ایک اہم سوال پر کہ کیا خطے کے دیگر ہمسایہ ممالک بلوچ قومی آزادی کے سامنے رکاوٹ ہونگے یاکہ ان کو مدد و کُمک کریں جس پر بلوچ آزادی پسند پارٹی بی این ایم کے چیئرمین خلیل بلوچ کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں لگتا کہ خطے کے ممالک ہماری قومی آزادی کے جدوجہد کے خلاف ہونگے، افغانستان میں لاکھوں لوگ پاکستانی پراکسیوں کے ذریعے شہید کئے گئے ہیں، پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ افغانستان کو اپنے زیر تسلط لائیں۔ جس کیلئے پاکستان ہمیشہ سے کوشش میں رہا ہے اور افغانستان کے ساتھ ہمارے تاریخی رشتہ ہے، اس لیئے ہمیں نہیں لگتا کہ افغانستان ہماری جدوجہد کے خلاف ہوگا جبکہ خطے کی دیگر ممالک بھی پاکستان کے فرقہ واریت کا شکار ہیں، پاکستانی فرقہ واریت کا بھارت اور ایران بھی شکار ہے، تو پاکستان سب کا دشمن ہے اور خطے میں سب ممالک کا دشمن ہے تو ہم اُمید کرتے ہیں کہ ہمارے ہمسایہ ممالک ہمیں مالی اور اخلاقی مدد و کُمک کریں گے۔

ایک سوال پر کہ پاکستان میں جو دیگر محکوم قومیں ہیں، جیسے کہ پشتون سندھی اور مہاجر جبکہ پشتون تحفظ موؤمنٹ کی جانب سے بارہا ریاست کو بنگلادیش کی طرح اشارہ دیا گیا ہے کہ اگر ہم پر ایسے ہی مظالم اور جبر جاری رہی تو ہم بھی مکمل آزادی کا نعرہ بلند کر سکتے ہیں، جبکہ الطاف حسین بھی اب مکمل self determination کی بات کر چُکے ہیں تو کیا آپ لوگ ایک ساتھ ایک پولیٹیکل الائینس کی جانب جا سکتے ہیں؟

طاہر اسلم کی پوچھے گئے سوال پر چیئرمین خلیل بلوچ فرماتے ہیں کہ بہ حیثیت مظلوم قوم ہم نے ہمیشہ سے کوشش کی ہے کہ پاکستان کے دیگر مظلوم قومیتوں کے ساتھ ایک الائینس بنیں کیونکہ پشتونوں کے ساتھ جو ہوا ہے اور جو الطاف حسین اور ان کی پارٹی کی ساتھ کیا گیا، البتہ الطاف حسین تو ان کے(پاکستان) فریم ورک کی سیاست کر رہے تھے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مہاجروں کو بھی لاپتہ کیا گیا۔ پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی تو ہم کہتے ہیں کہ اس ریاست کے خلاف ہم مظلوم قوموں کو یکجاہ ہونا چاہیئے، میں آپ کی تسلط سے دیگر ذرائع سے پشتون تحفظ موؤمنٹ سے رابطہ کرنے کوشش میں ہوں جبکہ الطاف حسین کے ساتھ میرا رابطہ ہوا ہے، سندھیوں سے ہمارے رابطہ ہے، تو کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں دیگر مظلوم اقوام جن پر پاکستان ظلم کر رہی ہے ان کو ساتھ لیکر چلیں آج میں دیکھ رہا ہوں کہ پشتونوں میں نیشنلزم کا جذبہ ابھر رہا ہے، جو اچھی چیز ہے نیشنلزم کی اُبھار پشتون قوم کیلئے بہت اچھا ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ اشتراک ہو لیکن ہمارا جو پوائنٹ ہے وہ کمپرومائزنگ والا نہیں ہے، ہمارا راہ سیدھا ہے، اگر وہ ایک اچھے الائینس کی جانب پیش قدمی کریں گے تو ان کو ساتھ لیکر چلنے کو ضرور تیار ہونگے اس صورت میں وہ اگر ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم چار قدم بڑھائیں گے۔

پاکستان بھارت حالیہ کشیدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر چیئرمین خلیل بلوچ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس صورتحال کو پہلے آنا چاہیئے تھا کیونکہ آج پاکستان بھارت میں جو کر رہی ہے بھارت کو اپنی دفاع میں ایسے اقدامات اُٹھانے چاہیے ایسا نہیں ہے کہ ہم انسانی تباہی چاہتے ہیں لیکن پاکستان باز آنا والا ریاست نہیں ہے، آج دنیا جو پاکستان کی نیوکلئیر پاور کے خوف میں ہے کہ ہاں یہ نیوکلئیر پاور دہشتگردوں کے ہاتھوں لگ سکتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ آج یہ کن کے ہاتھوں میں ہے، پاکستان آرمی خود ہی ایک دہشتگرد فوج ہے لشکر طیبہ، جیشِ محمد اور دیگر درجن بھر جو دہشتگرد تنظیمیں ہیں یہ پاکستان کے اپنے بنائے ہوئے ہیں تو ہم اُمید رکھتے ہیں کہ ہندوستان اپنی دفاع میں آگے بڑھے گا، بلوچ اپنے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس صورتحال میں دیگر ہمسایہ ممالک کو بھی اپنے دفاع کیلئے پاکستان کے خلاف عملی اقدامات اُٹھانے چاہیئے، افغانستان اور بھارت کو اپنے لوگوں کیلئے پاکستان کے خلاف ایکشن لینا چاہیئے، میں یقین سے کہتا ہوں کہ پاکستان بالا کوٹ میں ہونے والے حملے کا جواب دے گا، انڈیا کو وہ کشمیر یا بھارت میں کوئی دہشتگرد کارروائی سے بھارت کو حملے کا جواب دے گا۔

آخر میں بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے بلوچ مہاجریں کے اہم نقطے پر بات چیت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سی پیک کی وجہ سے بلوچستان سے تقریباً ایک لاکھ سے دو لاکھ لوگ مائگریٹ کر چُکے ہیں کچھ افغانستان کی طرف اور کچھ پاکستان کی دیگر علاقوں کی طرف تو دنیا کو بلوچ مہاجریں کی مدد کرنی چاہیے جو دربدر کی زندگی گزار رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں ایک انسانی المیہ نے جنم لیا ہے اور دنیا کو اس المیہ کو ختم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔