چاغی: ایران کے 4 مغوی فوجی اہلکار بازیاب

177

پاکستانی فورسز نے آپریشن کے دوران ایرانی فوجیوں کو بازیاب کیا – آئی ایس پی آر کا دعویٰ

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر بلوچستان کے ضلع چاغی سے ایران کے چار مغوی فوجی اہلکار بازیاب کیئے گئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے بلوچستان کے ضلع چاغی سے چار مغوی فوجی اہلکاروں کو فوجی آپریشن کے دوران بازیاب کرایا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اغواء کار ایران کے 4 مغوی فوجیوں کیساتھ پاکستان میں داخل ہونیکی کوشش کر رہے تھے کہ چاغی کے علاقے اموری کے مقام پر انہیں بازیاب کرایا گیا

ان کا مزید کہنا ہے کہ فورسز نے پاک افغان سرحد سے تین سے چار کلومیٹر دور بلوچستان میں ضلع چاغی کے علاقے اموری میں کارروائی کی گئی جبکہ چاروں مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کراکر ایرانی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے۔

گذشتہ سال ایرانی سرحدی فورسز اور مقامی باسیج فورسز کے چودہ اہلکاروں کو سیستان و بلوچستان کے سرحدی علاقے میرجاوہ کے علاقے گوالشتاپ کے مقام پر قائم چوکی سے اغواء کیا گیا۔

پاسدارنِ انقلاب کور کے سرابرہ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اہلکاروں کو اغواء کرنے سے پہلے بے ہوش کیا گیا تھا۔

پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری کا دعویٰ تھا کہ اس واقعے میں اغواء کاروں کو اندرونی معاونت حاصل تھی، جس کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوتا۔

جنرل جعفری کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے ذمہ دار اپنے انجام کے لیے تیار رہیں۔ ایران کو غیر مستحقم کرنے کے لیے دشمن ممالک بڑے پیمانے پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں، لیکن ایرانی فورسز انکے ان سازشوں کو ناکام کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔

ایران کے فوجی اہلکاروں کو اغواء کرنے کی ذمہ داری ایرانی حکمراں نظام کی مخالف مسلح جماعت “جیش العدل” نے قبول کی تھی۔