میرے وجود کا دشمن میرا کلچر ڈے منا رہا ہے؟ – سُرگُل بلوچ

136

میرے وجود کا دشمن میرا کلچر ڈے منا رہا ہے؟

سُرگُل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گذشتہ ایک دہائی سے ہر سال دو مارچ کو بلوچ قومی ثقافت کے دن کے طور پر منانے کا دستور چل پڑا ہے، جس میں آج کل بلوچ کھاتا پیتا طبقہ یعنی مڈل کلاس، لچڑ گروپ یعنی منشیات فروش وغیرہ اور حکمران اشرافیہ کلچر ڈے منانے میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ اس سال بھی اسی اُوپری طبقے میں اچھی خاصی گرم جوشی پائی جارہی ہے۔ دو مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں بڑے بڑے شلواروں والے کپڑے، دستار اور چوٹ خصوصی طور پر تیار کیئے جا رہے ہیں۔ کئی بڑے تقریبات کے اعلان بھی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ناچ گانے کے پوسٹر بھی منظر پر آچکے ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد خوبصورت ٹُھمکے لگانے کے ریہرسل بھی کررہے ہیں۔ الغرض قومی غیرت دکھانے کا یومیہ میلہ لگ بھگ سج چُکا ہے۔

اس سب میلے جھمیلے میں حیران کُن و غور طلب بات یہ ہیکہ اس میلے کا خصوصی ٹھیکہ دار مملکت خداداد کا فوجی اشرافیہ ہے۔ فوجی اشرافیہ کی خصوصی دلچسپیوں سے بلوچستان کے بڑے بڑے شہروں میں فیسٹیول میلے فنکشن کے اہتمام کیئے جا رہے ہیں۔ ناچ گانے کیلئے نامور گلوکاروں کی بکنگ بھی انہی ٹھیکیداروں نے کنفرم کر لی ہیں اور سرکاری سطح پر اہم نمائندے بھرپور شرکت کیلئے تیار کھڑے ہیں۔ گویا اب دو مارچ کا ثقافتی میلہ سرکاری سطح پر قبولیت و منظوری حاصل کر چکا ہے۔

دو مارچ کے اس ثقافتی میلے میں فوجی اشرافیہ کی دلچسپی و شرکت کیوں حیران کن ہے، اسے سمجھنے کے لئے صرف ایک دہائی پیچھے کی تاریخ کا مختصر جائزہ لیں تو تمام ابہام خود بخود کلیئر ہو جاتے ہیں۔ آج کی نسل کو بخوبی علم ہے اور یہ کوئی قرونِ وسطیٰ کی یادداشت نہیں بلکہ ایک دہائی پہلے کی بات ہے کہ حالیہ تحریک جو نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے ساتھ ایک آتش فشاں کی طرح پھٹ کر ابھرا تو مجموعی طور پر پورے بلوچ وطن کو اس نے اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ کوہِ سلیمان سے مکران تک اور کراچی سے زابل و ہلمند تک بغاوت کی لہریں بلند ہوئیں۔ نوجوان نسل نے تمام لسانی و قبائلی تفریقوں کو مَسل کر قومی اتحاد کا خوبصورت گلدستہ تعمیر کیا اور جذبۂ بغاوت کو قومی پہچان بنایا۔ اس قومی بغاوت نے قابض کی پاؤں تلے زمین کھسکا دی اور قابض فوج اپنی بے بسی پر بھوکلا کر رہ گیا، جس کے بعد حواس باختہ قابض فوج نے تمام جنگی قوانین کو پاؤں تلے روندتے ہوئے درندگی کی حدیں پار کر دیں۔ بے گناہ نہتے عوام کا قتلِ عام، دیہاتوں و گھروں کا مسمار کرنا، لوٹ مار، بلوچ فرزندوں کو اٹھا کر غائب کرنا، مسخ شدہ لاشیں پھینکنا اور اجتماعی قبروں میں سینکڑوں فرزندوں کو درگور کرنا، بلوچ خواتین کی بے حرمتی و عصمت دری جیسے درندگی تک کی تمام وحشیانہ جرائم کا ارتکاب قابض فوج نے اپنی حواس باختگی میں کئیں۔

بیچ چوراہوں پر بلوچی ننگ و ناموس کی بے حرمتی کرتے ہوئے درندہ صفت فوج نے بچوں و خواتین سمیت بزرگوں تک کی تذلیل کا سلسلہ شروع کیا۔ بے لگام فوجیوں نے کھلے عام بلوچ خواتین کی تلاشیاں لینا شروع کئیں اور بزرگوں کو کان پکڑوا کر سڑک پر مرغا بنوایا۔ منہ کھولنے پر نوجوان بچوں کو اٹھا کر غائب کر دینا عام ہو گیا۔ بلوچی دستار پہننے پر بزرگوں کو اذیت دیا جاتا۔ نوجوانوں کے سر پر چے گویرا کی ٹوپی دیکھ کر سر منڈوائے جاتے اور مار مار کر ہڈی پسلیاں توڑ دی جاتیں۔ حتیٰ کہ بلوچی شلوار تک بیچ بازار میں کاٹے جانے کا رواج عام کرکے خوف و وحشت کا راج رائج کیا گیا۔ اپنی ان تمام وحشیانہ کرداروں سے سفاک فوج نے ثابت کر دیا کہ وہ قابض ہے اور گذشتہ چھ سے سات دہائیوں کا یہ قبضہ بالکل تازہ تازہ یلغار معلوم ہونے لگا۔ ساتھ ہی انہی رویوں سے بلوچ قوم کا اجتماعی باغیانہ روش بھی ثابت ہوگیا، جس کی وجہ سے ستر سالوں بعد بھی قابض کیلئے بلوچ دھرتی ایک مقبوضہ زمین اور ہر بلوچ اجنبی کی حیثیت رکھتا ہے جوکہ بلوچ راج کی یقینی سربلندی کی نشانی ہے۔

وحشی فوج اپنی روایتی خصلت کے مطابق بلوچ قوم کے نام و نشان کا دشمن بن گیا۔ بلوچی زبان میں لکھے گئے تمام رسالے و کتابیں بھی بلوچ نوجوانوں کی طرح اٹھا کر غائب کر دی گئیں، جن پر تاحال پابندی عائد ہے۔ اسی بربریت کے مقابلے میں بلوچ فرزندوں نے قومی تشخص کے دفاع میں زیادہ شدت سے اپنی پہچان کو آشکار کرنا شروع کیا۔ قابض کی نفرت آمیز رویئے کے خلاف سرفروش نوجوانوں نے دو مارچ 2009 کو خضدار کالج میں کلچر ڈے کا اہتمام کرکے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ جہاں آپ ہماری تاریخ و ثقافت سے نفرت کرتے ہیں، وہیں ہم اپنی تاریخ تہذیب و ثقافت کا جشن منا کر اپنی عظیم باغیانہ تاریخ پر فخریہ قربان ہونے کیلئے تیار ہیں۔ دو مارچ کے اسی تقریب پر وحشی دشمن نے بم حملہ کر کہ نوجوان سٹوڈنٹس جنید بلوچ اور سکندر بلوچ کو شہید کیا اور کئی نوجوانوں کو زخمی کردیا۔ یہ قابض کی بلوچ قوم سے انتہائی نفرت کا مکروہ اظہار تھا۔ لیکن اس حملے نے کسی بھی طور بلوچ نوجوانوں کے حوصلے پست نہیں کیئے۔ قومی تشخص کے محافظ شہید نوجوانوں کے اعزاز میں اگلے دو مارچ کو زیادہ جوش و خروش کے ساتھ شہدائے دستار کے نام پر قومی ثقافتی دن کے طور پر منایا گیا۔ جس کے بعد ایک سلسلہ شروع ہوا جو قطعی طور بھی کسی قوت سے ختم کرنا ناممکن ہو گیا۔

جو مکروہ چال قابض نے بلوچ راج کے خلاف بُنا تھا، وہ اس کے اپنے گلے پڑ گیا اس لئے اس نے ایک اور چال بُنا۔ چینی قوم میں ایک مثال مشہور ہے کہ جس دشمن کو آپ ڈائریکٹ مقابلہ میں شکست نہیں دے سکتے اس کے ساتھ نباہ کرکے قربت بڑھائیں اور اسے اندر سے ختم کر دیں۔ پاکستانی عیّار حکمرانوں نے ہوبہو یہی کیا۔ جس بلوچی دستار، کپڑے اور ثقافت سے قابض کو شدید نفرت تھی اچانک اسی ثقافت کو سیلیبریٹ کرنا شروع کیا مگر اسکی شکل یکسر بگاڑ دی۔ جس طرح پنجاب میں بسنے والوں بلوچوں کیلئے فِکس کیا گیا ہے کہ “بھیڑ بکری پال بلوچا، ہو جا مالا مال بلوچا” یعنی بلوچ صرف بھیڑ بکری پال لے اور پنجابی حکمرانی کرے اسی طرح بلوچستان کے بلوچ عوام کو اونٹ اور جھونپڑی پہ ناز کرنے پر لگا دیا گیا۔

پہلے پہل بدنام زمانہ ڈاکو عزیر بلوچ اور احمد اقبال جیسے کاسہ لیسوں کے ذریعے لیاری میں کلچر ڈے کے نام پر ناچ گانے کا رواج شروع کیا گیا تو بعد ازاں فوجی پروٹوکول میں بلوچوں کو اونٹوں پر بٹھا کر دو مارچ کے اصل حقائق کو دھندلا کیا گیا۔

ذرا غور کریں کہ ایک دہائی پہلے جو دشمن بیچ سڑک پر بلوچی شلوار کاٹ رہا تھا اور بزرگوں کے دستار اچھال رہا تھا آج خود بلوچی دستار پہن کر ناچ گانے کے میلے کو سیکورٹی فراہم کر رہا ہے۔ ایک طرف دشمن نے بلوچی زبان و ادب کی کتابوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے تو دوسری طرف بلوچی زبان کے زر خرید گلوکاروں کو خطیر رقم دے کر انہیں ڈھول کی تھاپ پہ نچا رہی ہے۔ یقیناً اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ کل تک جو ثقافتی میلہ سجتا تھا وہ خالصتاً قومی تشخص کی دفاع میں تھا اور اس میں باغیانہ روش موجود تھی مگر آج کا میلا فقط بے حیائی اور ننگا ناچ کیلئے لگ رہا ہے، جس میں قابض فوج کے ساتھ بلوچ اشرافیہ پہلی صف میں کھڑے ہیں۔

آج کا باشعور نوجوان اس قدر کم فہم و بھلکڑ نہیں ہے کہ اپنی کل کی یادداشت بھلا دے اور دشمن کی اس عیار چالبازی کو سمجھ نا پائے۔ بلوچ قومی تشخص کو آج بھی وہی خطرہ لاحق ہے۔ آج بلوچ فرزند اپنی دھرتی پر غیر محفوظ ہیں۔ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں اور انکی دشمن کے ہاتھوں بے پردگی روز کا معمول بن چکا ہے۔ بلوچی زبان، تاریخ و ادب کی کتابوں پر پابندی عائد ہے۔ بلوچ فرزندوں کی آزادانہ نقل و حرکت، سیاست و صحافت پر مجرمانہ پابندی عائد ہے۔ جبکہ دشمن بلوچ قوم کو یہ باور کرانے میں لگا ہوا ہے کہ بلوچ قوم کی تاریخ و تقدیر اونٹ اور جھونپڑی کے ساتھ لیوا ہے۔

بلوچ فرزند اپنی تاریخ پر ناز کرتے ہوئے جذبہ بغاوت کیساتھ شہدائے دستار کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتا ہے اور ہر قسم کی سرکاری بے حیائی کا بائیکاٹ کرتا ہے۔ نئی نسل کو بلوچ شہداء کا یہ پیغام ہے کہ وہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے بلی کا شکار نہ بنیں بلکہ شہداء کی عظیم روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہر مکارانہ چال کا بھرپور جواب دیں۔ ایسے کسی بھی تقریب کا حصہ نہ بنیں جس سے عظیم شہداء کے قربانیوں کی توہین ہو بلکہ شہدائے دستار کا دن منا کر دشمن کو ایک اور کرارا جواب دیں۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔