لاپتہ افراد کیمپ میں بیٹھے کچھ بہادر کرداریں – خادم بلوچ

31

لاپتہ افراد کیمپ میں بیٹھے کچھ بہادر کرداریں

خادم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

انسان کیلئے موت بڑی چیز نہیں لیکن بلوچستان میں لوگ پاکستانی ٹارچر سیلوں میں جانے کے بجائے موت کو ترجیح دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی عقوبت خانوں میں انسان کو انسان جیسے چھوڑا نہیں جاتا، قابض فوج کے اہلکار اور ایجنسیوں کے بندے بچوں تک کو ظلم کی آخری حد تک ٹارچر کرتے ہیں۔ ان کے ظلم اور درندگی دیکھ کر انسانی روح کانپ اٹھتی ہے۔ میں ان لوگوں میں شمار ہوں، جس نے زندان نہیں دیکھا ہے البتہ میرے بہت سے دوست زندان کی جبر کا سامنے کر چُکے ہیں ان سے یہی سُننے کو ملا ہے کہ وہاں صرف آپ مرنے کا ہی دعا کر سکتے ہیں چونکہ پاکستان ایک غیر فطری ریاست ہے، جس کیلئے انسان اور انسانیت کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں ۔

وہ اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی وحشیانہ حرکت پر اتر سکتے ہیں، جس کی واضح مثال ہمیں بنگلادیش میں ملتا ہے جہاں قابض فوج کے اہلکار بنگالی خواتین تک کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتے ہیں، بچے بھی ان کی ظلم کا شکار ہوتے ہیں، یہی المیہ آج بلوچستان میں بھی جنم لے چکا ہے جہاں کئی ہزار افراد پاکستانی فوج کے ٹارچر سیلوں میں انسانیت سوز اذیت کا سامنا کر رہے ہیں لیکن جس طرح سے حالیہ وقت میں بلوچ خواتین نے ہمت بہادری اور حوصلے سے اپنے بھائیوں اور گمشدہ افراد کیلئے تاریخی جدوجہد کا آغاز کیا ہے۔ اس نے اب سارے بلوچ نوجوانوں کے دل سے یہ خوف نکال دیا ہے کہ جب ہم جبری گمشدہ ہونگے تو ہمارے لیئے کوئی آواز نہیں اٹھائے گا بلکہ بلوچ بہادر مائیں بہنیں جو بانک حوران، بہن سیما، بی بی گل، بانک طبیہ، بانک مہرنگ کی صورت میں کوہ چلتن کی طرح کھڑے ہیں اور غیر قانونی گمشدہ اپنے بھائیوں کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں جس نے دشمن کو نفسیاتی طور پر شکست دیا ہے۔

انہی کے جدوجہد کے بدولت آج بہت سے گھروں میں خوشیاں واپس آئی ہیں، بہت سے لاپتہ افراد بازیاب ہوئے ہیں، بہت سے ماؤں کے لخت جگر دشمن کے ظالم سیلوں سے نکل کر گھر کو لوٹ آئے ہیں، ان کی جدوجہد کی وجہ سے گمشدہ افراد کے لواحقین کو پھر سے ایک اُمید ملی ہے کہ ہمارے پیارے بھی لوٹ آئیں گے، ہمارے گمشدہ بھائی اور بچے بھی زندان سے نکل آئیں گے آج جو ہمت جرات اور حوصلے کا مظاہرہ بلوچ خواتین نے کیا ہے، وہ تاریخ کے پنوں میں ہمیشہ کیلئے درج رہے گا، ان کی ہمت جرات اور بہادری نے لوگوں کو خاص کر عام نوجوانوں کے اندر مایوسی کا خاتمہ کیا ہے، دشمن کا جو خوف تھا، آج اس کا ایک حد تک خاتمہ ہو چُکا ہے اور اس کے خاتمے میں بلوچ خواتین کا کردار بہت بڑا ہے۔ بلوچ ماں و بہنوں کی مخلصانہ جدوجہد انکی مستقل مزاجی انکی ہم فکری اور دور اندیشی و مضبوط اور بلوچ قوم سے ان کی محبت آج کامیابیوں کی وجہ بنی ہیں۔

اب تک کے بازیاب ہونے والوں کے گھر میں خوشیاں پہنچانے والوں کی پیچھے یہی کردار ہیں۔ قوم کو بیدار کرنے والوں میں ماؤں و بہنوں کا بڑا کردار رہا ہے۔۔ وقت و حالات سے انجان، اندھے، بہروں تک کو اپنی آواز پہنچائی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر منظور لکھتے ہیں کہ ہمارے پاس خیربخش مری ہے۔ اور سندھیوں کے پاس شیخ ایاز ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ہمارے پاس ماما قدیر، بی بی گل، ماہ رنگ اور اوران جیسے کردار بھی ہیں، جو کسی دوسرے محکوم قوم کے پاس نہیں ہیں۔ جب کاروان میں شامل ایسے سنگت جو ہمراہ ہوں. تو ایسے کاروان کو دبانا اور کمزور کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اگر آج نصیر جان جیسے سیاسی طلباء رہنماء ظالم کے شکنجوں سے بازیاب ہوکر نکل کر گھر پہنچے ہیں. تو اسکی مکمل کریڈٹ اسکے پھول جیسی بیٹی مہرنگ اور اس کیمپ میں بیٹھے ہر ہم فکر سنکت کا ہے۔

جو چیر دینے والی شدید سردی میں بھی اپنے پیاروں کی بازہابی کے لیئے جہدِ مسلسل میں تھے، سلام ایسے ماؤں بیٹیوں کو اور ان گمنام نظریاتی سنگتوں کو جو ہمارے ہمفکری سنگت نصیر، حسام جیسے ہزاروں گم شدہ دوستوں کو بازیاب کرنے کے وجہ بنے ہیں. کاروان و جدو جہد اور مقصد صرف یہی تک نہیں۔ بلکہ ہزاروں گم شدہ افراد ابھی تک ظالم کے زندانوں میں قید ہیں۔ لاپتہ افراد کی جدوجہد تب تک ختم نہیں ہوگی، جب تک اخری سنگت بازیاب نہیں ہوتا۔ اپنی ماؤں اور بہنوں کی ہمت جرات اور بہادری کو دیکھ کر اب ہمیں زاہد جان، ذاکر جان، عزت جان، شبیر جان جیسے دوستوں کی واپسی کا انتظار اور بھی شدت سے رہیگا۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔