عزت بیچ کر ذلت خریدنا – پیادہ بلوچ

34

عزت بیچ کر ذلت خریدنا

تحریر: پیادہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان ہزاروں سال کے تاریخ کا وارث، صدیوں سے اپنے ایمانداری، مہمان نوازی، ننگ و ناموس کی حفاظت، دوستی نبھانے وعدے کا پابند، سچ کی راہ میں جان کی پرواہ کیئے بغیر آگے بڑھنے کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس سرزمین بلوچستان کو انگریزوں نے قدرتی وسائل سے مالامال سمجھ کر اس پر قبضہ جمانے کی جو ناکام کوشش کی تو مادر وطن کے جانبازوں نے مختلف جنگی حربے استعمال کرکے انگریز کو شکست دیکر بلوچستان سے نکلنے پر مجبور کردیا کیونکہ اس نے پہلے صرف یہ سوچ کر بلوچستان میں قدم رکھا کہ بلوچستان صرف قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن جب نکلنے پر مجبور ہوگیا تو اپنی شکست سے یہ سبق حاصل کرگیا کہ اللہ تعالی نے سرزمین بلوچستان کو جتنا قدرتی وسائل سے مالامال کیا ہے، تو اس کی حفاظت کیلئے بھی ایک ایسی قوم پیدا کی ہے، جسکے ساتھ اگر قیامت تک جنگ لڑی جائے پھر بھی شکست کے سوا کچھ حاصل نہیں کی جاسکتی۔

اگر کوئی قوت ان سب باتوں کو جان کر بھی قبضہ جمانے کی کوشش کرےگا، وہ ایک بیوقوف ہوگا، جو ایسا سوچے گا یا وہ اگر قبضہ جما بھی لے تو کچھ وقت کے بعد وہ بھی اپنی بوریا بستر اٹھانے پر مجبور ہوجائیگا۔

یہ تو سوچ تھا انگریز کا، جس نے بلوچستان سے سبق حاصل کرکے یہاں سے نکلنے پر مجبور ہوا، تو پھر پاکستان کی کیا حیثیت ہے جو یہاں پیر رکھ کر آرام کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

بالفرض اگر پاکستان ابھی دنیا کے سامنے اپنے قوت کا جو مظاہرہ کررہا ہے، تو ہر بات میں بلوچستان کا نام استعمال کرتا ہے۔ بلوچستان کے شہیدوں نے اپنی جان قربان کرکے اپنے وطن کی بھرپور حفاظت کرنے کا ثبوت دیدیا ہے اور آگے بھی دیتے رہینگے لیکن یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو نواب، میر، سرداروں کی شکل میں محتاجی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں، بظاہر یہ لوگ آپکو صاف ستھرے لباسوں میں نظر آئینگے۔ ان کے پاس گاڑی، بنگلہ، پیسہ، سب کچھ ہوگا مگر پھر بھی محتاج ہونگے کیونکہ عوام کے دل میں انکے سامنے انکو عزت دی جائیگی لیکن پیٹ پیچھے انکو بے عزتی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ریاست پاکستان میں انکو کتوں کی نسبت بھی عزت نہیں ہے۔ انکو پاکستانی فوج اور ادارے ایسے بلیک میل کر چکے ہیں کہ انکے پاس پاکستان کے غلامی کرنے کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

جب بھی پاکستانی ادارے ان نام نہاد لٹیرے نواب، میر و سرداروں کو ذلیل کرتا ہے، تو یہ اپنی ذلیل ہونے کا غصہ مظلوم عوام پر اتارنے لگتے ہیں اور ریاستی ادارے اپنا کام مکمل ہونے کے بعد انکو خود سراج رئیسانی جیسے ریاستی کارندوں کی طرح عبرت کا نشانہ بناتے ہیں۔

میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ آج اگر یہ نواب، میر، سردار بلوچ سرمچاروں کے ساتھ دشمن پاکستان کو ختم کرنے کیلئے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے تو آج انکو ریاستی کٹھ پتلیوں کے قدموں تلے زندگی بسر کرنا نہیں پڑتا اور شاید آج بلوچستان میں انکی عزت بھی سرمچاروں کی طرح زیادہ ہوتی کیونکہ آج اگر بلوچ سرمچار جہاں کہیں بھی ہیں، وہ اگر بھوکے پیاسے بھی اپنی زندگی گذارتے ہیں یا زندانوں میں اذیتیں سہہ رہے ہیں، مگر انکی عزت اور بہادری اور جوانمردی کی مثالیں دشمن بھی دینے پر مجبور ہے۔

آج اگر پاکستانی فوج اور ادارے ان سرداروں کو بظاہر جو رقم ادا کرتے ہیں یا انکو ہوائی جہازوں میں بیرون ملک سفر کرواتے ہیں تو محض دنیا کو دکھانے کیلئے کہ بلوچستان کے وارث یہی ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔