سعودی عرب خاشقجی قتل کا ’اوپن ٹرائل‘ کرے، اقوام متحدہ

48

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار 11 مشتبہ ملزمان کی خفیہ سماعت کو عالمی معیار کے مطابق عوام اور ٹرائل مبصرین کے لیے منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی اقوام متحدہ کی 3 رکنی ٹیم کی سربراہ اگنیس کیلامارڈ نے سعودی عرب سے ابتدائی طور پر حراست میں لیے گئے 10 ملزمان کے نام سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ سعودی عرب کی حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ مقدمے کی کارروائی کے طریقہ کار عالمی برادری کو اس کے منصفانہ اور جانبدار ہونے سے اور اس کے اختتام پر حاصل کیے جانے والے نتائج سے متعلق مطمئن کردے گی تو وہ غلطی پر ہیں‘۔

ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے اعلان کے باوجود باوجود سعودی ولی عہہد محمد بن سلمان کے قریبی ساتھی سعود القحطانی جنہیں جمال خاشقجی کے قتل کی وجہ سے برطرف کیا گیا تھا وہ ان 11 مشتبہ ملزمان میں شامل نہیں ہیں۔

اگنیس کیلا مارڈ نے عالمی طاقتوں کے سفارتکاروں کی سعودی عرب کی سماعت میں شرکت پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’ انصاف کی عدم فراہمی میں کردار ادا کرنا خطرہ ہے، کیا یہ ظاہر کرنا چاہیے کہ یہ ٹرائل انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہیں‘۔

الجزیرہ کے سینئر سیاسی تجزیہ کار مروان بشارہ نے کہا سعودی عرب کی جانب سے اوپن ٹرائل کرنے کے امکانات نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ ایک شو ٹرائل کے بجائے ایک اوپن اور سنگین ٹرائل لازمی طور پر اس جرم کے اصل ذمہ داران تک پہنچائے گا‘۔

مروان بشارہ نے کہا کہ ’ جیسا کہ ہم سی آئی اے ڈائریکٹرز سمیت دیگر مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے سنا تھا کہ یہ ولی عہد کی واضح شمولیت کے بغیر نہیں ہوسکتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ سعودی عرب پی آر حاصل کرنے کے لیے اسے ایک شو ٹرائل کے طور پر جاری رکھے گا‘۔

خیال رہے کہ 25 جنوری کو اقوام متحدہ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے لیے کولمبیا یونیورسٹی کی اگنیس کیلامارڈ کی سربراہی میں عالمی ماہرین کی 3 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔

یاد رہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھنے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو ترکی میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے تھے لیکن پھر ان کی واپسی نہیں ہوئی تھی، جس کے بعد ان کے قتل کی خبر آئی تھی جبکہ ترک حکام نے تفتیش کے بعد ایک مفصل رپورٹ جاری کی تھی۔