تربت: بلوچی زبان کا ادیب فورسز کے ہاتھوں لاپتہ

351

نظر دوست بلوچی زبان کے نامور ادیب اور متعدد بلوچی کتابوں کے مصنف ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے علاقے تربت سے بلوچی زبان کا ادیب فورسز اور خفیہ ادارے کے اہلکاروں کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق بلوچی زبان کے نامور شاعر اور قلمکار نظر دوست کو ان کے گھر سے فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہے۔

علاقائی ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا کہ نظر دوست کئی سالوں سے مسقط آرمی میں حاضر سروس سپاہی کی حیثیت سے باقاعدہ ڈیوٹی سرنجام دے رہے تھے اور چند ہفتے قبل دو ماہ کی چھٹیاں گزارنے اپنے گھر آئے تھے کہ انہیں فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

نظر دوست بلوچی زبان کے نامور ادیب اور متعدد بلوچی کتابوں کے مصنف ہے۔

واضح رہے بلوچستان میں کسی ادیب کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی متعدد ادیبوں کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے، ماضی میں لاپتہ ہونیوالے ادیبوں کے گمشدگی بعد مسخ شدہ لاشیں بھی ملی ہے جبکہ بلوچستان سے متعدد قلمکار اس صورتحال کے باعث دیگر ممالک میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔