بلوچ تحریک آزادی اور شطرنج کا موازنہ – نودشنز بلوچ

102

بلوچ تحریک آزادی اور شطرنج کا موازنہ

تحریر:نودشنز بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت بلوچ قومی بقا، بلوچ کلچر اور بلوچ قومی شناخت خطرہ میں ہیں۔ موت آکر ان تمام چیزوں کے آنگن پہ دستک دے رہا ہے، اسی وجہ سے آج بلوچ نوجوان مسکراتے مسکراتے موت کو گلے لگا رہے ہیں۔

مائیں، بہنیں قومی شناخت اور بقا کے خاطر اپنے بھائی اور بیٹوں کو اپنے ہاتھوں سے بارود سے بھری گاڑیوں میں بِٹھا کر مادر وطن پہ قربان کر رہے ہیں اور مائیں بہنیں اپنے بیٹوں اور بھائیوں کی میت پہ بلوچی نازینک گاتے ہوئے انہیں مادر گلزمین کے دامن پہ مسکراتے ہوئے سلارہے ہیں اور سینہ تان کر بھرے محفلوں اور بازاروں میں یہ کہتے ہیں آج میرے بیٹے یا بھائی نے ہمارے سر کو فخر سے بلند کیا ہے۔

ان تمام چیزوں کے باوجود آج بھی کئی سوالات ذہنوں اٹھ رہے ہیں؟ اس وقت بلوچ تحریک آزادی نے کس قدر کامیاب حاصل کی ہے یا ناکامی۔

صحیح معنوں میں اگر ہم آج بلوچ قومی تحریک پر ایک ہلکی نگاہ دوڑائیں، ماضی سے لیکر حال تک غلطیاں اور کمزوریاں زیادہ نظر آتے ہیں اور کامیابیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہاں اس بات سے میں انکاری نہیں ہوں کہ بلوچوں نے کچھ مدت کے لیئے تھوڑی بہت کچھ کامیابیاں حاصل کی ہو، مگر مستقل کامیابیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج بلوچ کمزور اور دشمن بلوچ سے کئی گناہ طاقت ور ہے اور طاقت ور کے سامنے کمزور سے غلطیاں ہوتے رہتے ہیں، مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ صحیح معنوں میں ہم اگر اپنے غلطیوں پہ نظر دوڑائیں، غلطیاں اس قدر بڑھتے جارہے ہیں اور انہی غلطیوں سے دشمن ہمیں ہر روز کمزور کررہا ہے۔

اگر ہم بلوچ قومی آزادی کے جنگ کا شطرنج سے موازنہ کریں تو ہم صحیح طریقے سے سمجھ سکتے ہیں کہ ہم نے کتنی بڑی غلطیاں کی ہیں اور آج ہماری پوزیشن کہاں پر ہے، ہم کس قدر مضبوط یا کمزور ہوچکے ہیں۔

میں یہی سمجھتا ہوں بلوچ قومی تحریک میں ہم نے شروع سے لے کر آج تک دشمن کی پوزیشن کو نہ سمجھا ہے نہ ہی سمجھنے کی کوشش کی ہے، نہ جانے اس کے وجوہات کیا ہیں، مگر حقیقت میں ہم صرف دشمن کو کمزور اور اپنے آپ کو بالاتر سمجھ کر وقت اور حالت کو سمجھے بغیر دشمن کو چیک میٹ کرنے کی جلدی میں تھے۔ اسی بیچ ہمیں جہاں بھی تھوڑا بہت چیک دینے کا موقع ملا ہم بغیر سوچے سمجھے چیک دیتے رہے۔ ہم یہ نہیں سوچ رہے تھے کہ ہمیں ان چیکوں سے کیا فائدہ ہوگا؟ اور کیا نقصان ہوگا؟ اور ہم ہر چال پہ چیک دیتے رہے۔ دشمن ہماری تمام چالوں اور پوزیشن کو صحیح طریقے سے سمجھ گیا اور ہمیں گھیرنا شروع کیا۔ اسی بیچ ہم تو کئی چیک دشمن کو دے کر دشمن کی ہار اور اپنے جیت اور کامیابی کی خوشی منانے کی تیاری کر رہے تھے، دوسری جانب جب دشمن نے ہمیں چیک دینا شروع کیا۔ تو ہم نے اس سے پہلے دشمن کو کئی چیک دیئے تھے مگر دشمن کے گھوڑے، توپ، ہاتھی اور وزیر سب زندہ تھے اور دشمن نے اپنے پہلے چیک میں ہمارے گھوڑے کو مارا، پھر بھی ہم نہیں سمجھ سکے، ہم اس وقت تک بھی بلا وجہ بلامقصد کے چیک دیتے رہے اور دوسری جانب دشمن بھی ہمیں چیک دے کر ہمارے گھوڑے، توف اور ہاتھی کو مار رہا تھا۔ جب ہم سمجھ گئے، تب تک آدھا کھیل ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا تھا، اب ہم نے اپنے چالوں کو سنبھال سنبھال کر چلانے کی کوشش کی اوراسی بیچ دشمن ہمارے چوکھٹ پر آکر دستک دے رہا تھا اور ایسی دستک کہ ہم چیک میٹ ہونے کو پہنچ گئے اور ہم دفاعی پوزیشن میں آگئے تھے۔ ہمارے سامنے تمام راستے ختم ہوچکے تھے، ہم نے اپنے ایک اور توپ کوسامنے لایا، دشمن کو چیک دیا، توپ کو قربان کرکے ہم چیک میٹ ہونے سے بچ گئے۔

میں نے پہلے بھی کہا کہ ہم شروع سے لے کر ایسی چالیں چلا رہے تھے، ہم چیک تو دشمن کو دے رہے تھے مگر اس سے فائدہ ملنے سے زیادہ ہم نقصان اٹھا رہے تھے۔ ایک بار پھر ہم نے ایک ایسی چال چلا کر دشمن کو اپنے وزیر کے ذریعے ایک ایسی چیک دی کہ ہم تو یہی سمجھ گئے یہ آخری چیک اور چیک میٹ کے مترادف ہوگا مگر ہوا ایسا دشمن نے ایک ہی چال میں اپنے چیک کو ختم کیا اور الٹا ہمیں چیک ہوا اور ہم اپنا وزیر کھوبیٹھے۔

اب کھیل یہاں پہ ہے، ہم اپنا ایک ہاتھی، ایک گھوڑا اور دونوں توپ کھو چکے ہیں اور دشمن کے ابھی تک دونوں توپ دونوں گھوڑے اور دونوں ہاتھی سمیت وزیر زندہ ہے اور دشمن ایسی چالیں چلا رہا ہے کہ اس کے پیادے ایک یا دو چال بعد وزیر بن جائینگے۔

ان تمام چیزوں کے باوجود اگر آج بھی بلوچ نہیں سمجھا اور بلا وجہ، بلا سوچے سمجھے چیک پہ چیک دیتا رہا سب کچھ ختم ہوگا۔ اورمائیں بہنیں مادر گلزمین کی خاطر اپنے جگر کے گوشوں کو بارود سے بھری گاڑیوں میں بٹھاتے رہینگے اور ان کی میتوں پہ نازینک گاتے رہینگے، مگر صحیح معنوں میں ہم کھیل کب کے ہار چکے ہونگے۔ اس دن ہمارے سامنے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کرنےکے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔