باتیں اور کارکردگی – کوہ گَرد

86

باتیں اور کارکردگی

کوہ گَرد

دی بلوچستان پوسٹ

کل ایک آرٹیکل نظروں سے گذرا، جس کا لمبا چوڑا عنوان تھا، زربار نامی کسی لکھاری کا تھا۔ اس کے آرٹیکلز پہلے بھی پڑھے تھے، جس کے 90% لکھنے کا مقصد ایک خود ساختہ لیڈر کو جبراً قومی لیڈر بنانا ہے جبکہ ان کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے تو وہ صفر ہے۔ کل کی مضامین بھی وہی پہلے والوں کی طرح ہی تھا۔ وہی 1996 کا رٹا لیڈری کی بھڑک بازیاں اور کچھ نہیں لیکن کچھ نقطوں پر میں نے چاہا کہ مختصراً اپنے خیالات کا اظہار کروں، رائٹر صاحب لکھتے ہیں کہ اگر نواب اور سردار کو آرام و آسائش کی ضرورت ہوتی، تو وہ پاکستان سے کروڑوں ھڑپ سکتا تھا، مطلب کہ یہاں وہ بلوچ پر اور قومی تحریک پر یہ احسان جتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میں سردار تھا، میرے پاس پیسہ، مال، گاڑی تھا جبکہ یہاں وہ تاریخی مثالیں دینا بھول گئے کہ کس طرح قومی آزادی کیلئے دنیا کی عظیم شخصیت نے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فکری جدوجہد میں شامل ہو کرایک کارکن کی حیثیت سے جدوجہد کرکے شہید ہوئے ہیں۔

چے گویرا ارجنٹینا سے کیوبا پھر کیوبا جہاں اس کو سب عیش و عشرت مل گیا تھا، لیکن سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وہ پھر بولیویا چلے گئے اور وہاں سامراجی دشمنوں سے لڑتے شہید ہوئے، دنیا کی دیگر مثالیں نہیں بلکہ بلوچستان میں ایسے ہزاروں مثالیں سنگت ثناء بلوچ جیسے ملیں گے، جن کو مالی مسئلہ نہیں تھا کہ وہ جدوجہد میں شامل ہو گئے بلکہ قومی آزادی کے فکر سوچ اور جذبے نے آزادی پر مر مٹنے کا حوصلہ و ہمت دیا، میں اس صاحب عالم کو یہ بتاتا چلوں کہ ہر بلوچ جہدکار اپنا پیٹ پال سکتا ہے لیکن وہ اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، تو وہ اس شرط پر نہیں کہ وہ امیر و غریب تھے بلکہ اس شرط پر کہ قوم غلام ہے۔ قربانیوں پر احسان جتانے والے قومی جہدکار نہیں ہو سکتے، اسی بات کو مزید آگے لیجاتے ہیں کیا وہ عیش و عشرت جو بلوچستان میں شاید ایک حدتک اس کو میسر تھے، وہ اب میسر نہیں ہیں؟ کیا وہ عیش و عشرت چھوڑ کر کسی بلوچ سرمچار کے ساتھ پتھروں پر سویا ہوا ہے؟ چار چار دن سے بھوکا ہے؟ بلکہ آج جہاں پر وہ قیام پذیر ہے، وہاں بلوچستان سے زائد عیش و عشرت موجود ہے، بلوچستان سے زیادہ خوبصورت اور بہتر جگہ میں رہائش پذیر ہے، یہ وہی ایک ہاتھ سے دینے اور دوسری ہاتھ سے لینے والی بات ہے۔

کیا دنیا میں مجھے کوئی ایسے لیڈر سے آشناء کرا سکتا ہے، جو جدوجہد آزادی شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی زمین اور ساتھیوں کو چھوڑ کر چلا گیا؟ لیڈر تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہوتے ہیں، ان کا ہمت ہوتے ہیں چونکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ لیڈر کبھی بھی اپنے ساتھیوں کو میدان جنگ میں چھوڑ کر چلے نہیں جاتے ہیں، جس کی واضح مثال اُستاد جنرل اسلم بلوچ کی شہادت تک اپنے ساتھیوں کی ہمراہی تھی، جس کی مثال ہمیں ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ جیسے عظیم لیڈر کی صورت میں ملتا ہے۔ ڈاکٹر اللہ نظر پر پاکستانی قابض فوجی جیٹ طیاروں نے کئی حملے کئے ہیں، کئی جگہوں پر وہ زخمی بھی ہوئے ہیں لیکن ان کا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ جنگ میدان میں ہوتی ہے ساتھیوں کی ہمت کی وابستگی لیڈر سے ہوتا ہے اور وہ فرد جو جنگ شروع ہونے سے پہلے زمین چھوڑ کر چلا جائے، وہ لیڈر نہیں ہوتے ہیں۔

آج بھی بلوچ حقیقی لیڈرشپ اپنے قوم کے ساتھ ہے، اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہے، آگے موصوف لکھتے ہیں کہ بلوچستان نیشنل موؤمنٹ کے چیئرمین نے انڈین میڈیا میں ہلکے پھلکے زبان کا استعمال کیا لیکن پلوامہ حملے کے بعد جس طرح کچھ لوگ نے جو اسی خود ساختہ لیڈر سے وابستہ ہیں، ٹوئٹر میں اپنا تماشہ بنایا ہوا ہے وہ قابل دید ہے، جہاں ہندوستان کی حمایت ہی نہیں بلکہ جس طرح اپنے آپ کو ان کا اپنا ظاہر کر رہے ہیں، جیسے جڑوا بھائی ہوں لیکن چونکہ بلوچ نیشنل موؤمنٹ بلوچ قومی تحریک کی موجودہ سیاسی نمائندہ پارٹی ہے، جس کے الفاظ دوسرے قوموں کیلئے معنی رکھتے ہیں، وہ ایسے ہی زبان کا استعمال کرے گا۔ جس زبان کا استعمال سیاسی لوگ کرتے ہیں، بی این ایم لیڈر کو انڈین میڈیا میں لیڈری دکھانے کا کوئی شوق نہیں ہے، چیئرمین نے جن الفاظ کا چناؤ کیا وہ ہر لیڈر کرتا ہے تاکہ دوسرے پارٹی یا قوم سے ایک دوستانہ ماحول کا قیام عمل میں لایا جائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، کم جونگ جس کے ساتھ ان کے کچھ وقت پہلے سنگین اختلافات تھے کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ بہت لائق اور قابل لیڈر ہے بہت ذہین ہے، اب جن کی سوچ اور سوچنے کا پیمانہ چار تعریفی الفاظ تک رہ گیا ہے ان کی کیا بات کریں۔

موصوف آگے جاکر بلوچ قومی تحریک کی سب سے بڑے کارروائی، جو کراچی میں فدائین رازق جان، ازل جان اور رئیس جان نے کیا، اس کو اپنے الفاظ میں ایک ناکام کارروائی قرار دینے کی کوشش کر رہا تھا چونکہ ہندوستان کا وہ مثال دیتے ہیں کہ ہندوستان نے اس حملے کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا تھا، تو بالغ لوگوں کو سمجھنا چاہیئے کہ ہندوستان کوئی پاگل نہیں ہے کہ حکومتی سطح پر حملے کو آزادی پسندوں کا حملہ قرار دیکر چین سمیت پوری دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کرے گا کہ جو الزام پاکستان لگاتا ہے یعنی کہ ہندوستان بلوچستان میں ملوث ہے، دنیا اس بات کو سچ سمجھے۔ کوئی بچے کو بھی اس بات کو سمجھنے میں دشواری نہیں ہوگی لیکن اگر حملے کی کامیابی کی بات کریں تو شاید یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ عالمی میڈیا میں بلوچ مسئلہ ڈسکس ہوا ہے، چین نے جو حملوں کو اپنے لوگوں سے چھپاتے تھے، پہلی مرتبہ سرکاری طور پر یہ اعلان کرنا پڑا کہ پاکستان میں سی پیک کی وجہ سے ہمارے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ نیو یارک ٹائم اور واشنگٹن پوسٹ جیسے اخباروں نے بھی بلوچ مسئلے پر کھل کر بات کی۔ جو میرے خیال سے بلوچ قومی تحریک کا سب سے بڑا اثر و رسوخ رکھنے والا حملہ ہے، لیکن جس نابلدی سے صرف ایک فرد کے دفاع میں ان سب جدوجہد، قربانیوں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس سے واضح ثابت ہوتا ہے کہ رائٹر کیلئے قومی تحریک اور شہداء سے صرف ایک فرد کا دفاع ہی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا مقصد بس تحریک پر قابض ہوکر قومی اور مسلح پارٹیوں کو گوریلا کارروائی کے نام پر پہاڑوں پر ہی محدود کرنا جبکہ وقت و حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ دشمن کے خلاف زیادہ سے زیادہ کارروائیوں کی ضرورت ہے۔

اپنے آرٹیکل کو مختصر کرتے ہوئے ان کی کارکردگی پر ایک مختصراً جائزہ لیتے ہیں، چونکہ کسی بھی طاقت کا جائزہ اس کی کارکردگی سے کیا جاتا ہے کیا وہ جو باتیں کر رہے ہیں، ان کی اپنی پوزیشن وہاں پر کیا ہے؟ جن مڈیوں کو بہانہ بنا کر خود ساختہ لیڈر نے جو حرکتیں کی آج اس مڈی کی کیا حالت ہے؟ آئے دن میڈیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوہلو سے لیویز نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولا بارود دریافت کیا، یہ مڈی لیویز کہاں سے دریافت کر رہی ہے، کن کے ہیں عام بلوچ کے تو نہیں، کیا جنگوں پر لیکچر قومی پارٹیوں پر تنقید لیڈروں کے خلاف منفی پروپگنڈا کرنے والوں کی کچھ کارکردگی ہے اور جب کچھ کارکردگی ہے ہی نہیں تو پھر کیسے وہ اتنی بھڑک بازیاں کرتے ہیں، جن کی کارکردگی کی وجہ سے قومی تحریک آج دنیا میں زیر بحث ہے، ان پر انگلیاں اُٹھانے کے کیا جواز بچتے ہیں؟ جن پر وہ معطلی کا پرچار کرتے ہیں ان کی کارکردگی ان سے دس گنا زیادہ ہے، جن کی شاخیں قوم کے اندر پیوست ہو چُکے ہیں، جن کے ساتھی روز دشمن پر حملہ وار ہوتے ہیں، دشمن فوجیوں ہر ضربیں لگاتے ہیں جبکہ اس دورانیئے میں تنظیموں کے اندر اتحاد بھی عمل میں لایا گیا ہے، اور دوسری طرف وہ خود ساختہ لیڈر ہے جس کو کسی نے آج تک اپنے ساتھ الائینس میں نہیں لیا ہے، جس کو قوم گھاس نہیں ڈالتا، جن کی کارکردگی قومی تحریک میں بس پروپگنڈا کرنا اور ایک نام نہاد نیوز کے تھرو اپنی ساکھ بچائے رکھنے کی کوشش ہے، تو میں ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے ان جیسوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ بلوچ قوم فیسبک میں نہیں بیٹھا ہوا ہے، جو آپ کی بھڑک بازیاں دیکھ کر آپ کی آہ و بھگت شروع کریں بلکہ بلوچ قوم عملی طور پر دیکھ رہا ہے کہ کون کیا ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔