امن مذاکرات میں افغان خواتین کی شرکت لازمی ہے – انجلینا جولی

25

آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ اداکارہ اور اقوام متحدہ کی مندوب برائے  پناہ گزین انجلینا جولی نے امن مذاکرات میں افغان خواتین کی شمولیت پر زور دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے حقوق پامال کرکے افغانستان سمیت دنیا کے کسی حصے میں امن و استحکام نہیں آ سکتا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزراء اور سفارت کاروں سے خطاب میں انجلینا جولی کا یہ بھی کہنا تھا کہ امن مذاکرات میں خواتین کو شامل کرنے سے متعلق عالمی برادری کی خاموشی ایک طرح کا الارم ہے اس لئے اس حوالے سے فوری عملی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔

جولی نے کہا کہ افغانستان کی ہزاروں خواتین امن مذاکرات میں  اپنے اور بچوں کے حقوق کی ضمانت چاہتی ہیں اور یہی ان کا مطالبہ بھی ہے ۔

امریکہ اور طالبان حکام کے درمیان افغان امن مذاکرات کا آغاز گزشتہ سال ہوا تھا تاہم بعض خواتین کو خدشہ ہے کہ امریکہ کی نگرانی میں کام کرنے والی اتحادی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے  بعد سنہ 2001 والا طالبان کا دور واپس آجائے گا اور ایک مرتبہ پھر ان کی آواز دبا دی جائے گی۔

ادھر امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے افغان تعمیر نو نے طالبان کے جاری کردہ  ایک بیان کے حوالے سے کہا کہ طالبان خواتین سے متعلق آئینی  لبرل پالیسی پر غور کریں گے اور اس پالیسی کے تحت ہی وہ خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے ۔

جولی کا مزید کہنا تھا کہ وہ محب وطن ہیں،  انہیں اپنے ملک سے پیار ہے اور وہ امریکہ کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایسے امریکہ پر یقین رکھتی ہیں جو عالمی برادری کا حصہ ہے ۔ امریکہ اور دیگر ملکوں کوجائزہ لینا ہوگا کہ وہ کس طرح تصادم کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔