کوئٹہ :لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3494 دن مکمل

25
File Photo

پاکستان تاریخی اقوام کی انسانی حقوق کی آزادی سلب کرنے کا مرتکب ہے – ماما قدیر بلوچ

کوئٹہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3494 دن مکمل ہوگئے پشتون تحفظ موؤمنٹ اور سول سوسائٹی کے وفد نے لاپتہ افراد کے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وفد سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا اقوام متحدہ کے ان رکن ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جو قانونی اعتبار سے بین الاقوامی اعلامیہ کی پاسداری کا پابند ہونے باوجود تاریخی اقوام کی آزادی سلب کرنے کا مرتکب ہے جن میں بلوچ ،پشتون، سندھی اور مہاجر اقوام شامل ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ پاکستان نا صرف عالمی امن و سلامتی کے لئے خطر کی علامت بنا ہے، بلکہ دنیا بھر میں اسکی پرچار اور نافز العل ہونے کے لئے مؤثر اقدامات اٹھانے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان پر فوج کشی کرکے بلوچ قوم پر جبر اپنی بالا دستی قائم کرکے تب سے آج تک بلوچ قوم کی بنیادی انسانی حقوق داؤ پر لگ چکی ہے، جہاں انکی جان مال عزت آبرو تہذیب و ثقافت سے کھلواڑ کیا جاتا ہے مگر بجائے اس قومی سیاسی موقف پر عمل درآمد کرنے کی پاکستان اور اسکے استعماری فورسز انسانی پیکر کو نیست ونابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو قومی بقاء اور بنیادی انسانی حقوق کی تحفظ کا آواز بن کر ابھرتا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے اپنی گفتگو کے آخر میں کہا کے ریاستی فورسز کے شر سے بلوچ سیاسی کارکن سمیت خواتین اور بچے بھی محفوظ نہیں ریاست آج بھی مارو اور پھینکو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کچھ لوگوں کو چھوڑ کر مزید کو لاپتہ کرنے کا ریاستی چال بھی واضع ہے حال ہی میں  کیچ میں بڑے پیمانے پر آپریشن کے دوران فورسز نے اپنی جارجیت سے خواتین بچوں کو شہید کرکے کئی افراد کو لاپتہ کردیا ہے۔