کراچی میں پشتون بچوں کی اموات افسوسناک اور پاکستانی میڈیا کی خاموشی قابل مذمت ہے ۔ ترجمان بی این ایم

58

بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ کراچی میں معصوم پشتونوں کا زہریلا کھانا کھانے سے اموات انتہائی افسوسناک اور اس پر پاکستانی ریاست اور نام نہاد آزاد میڈیا کی خاموشی نہایت ہی شرمناک اور معتصبانہ عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس واقعہ، ریاستی بے حسی اور غیر انسانی رویے کے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور متاثرہ پشتون خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں

ترجمان نے کہا کہ یہاں پانچ معصوم سمیت پوری خاندان موت کی وادی میں اترجاتا ہے لیکن میڈیا، سول سوسائٹی اور میڈیا کی کان میں جوں تک نہیں رینگتی۔ یہی میڈیا پنجاب میں ایک مرغی اور کتے کی گٹر میں گرنے کے خبر پر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔

انہوں نے کہا پاکستانی ریاست کی تعصب، بہیمانہ طرزِعمل اور منافقانہ اجتماعی رویہ یہ طے کرچکے ہیں کہ بلوچ، پشتون، سندھی،مہاجر اور دیگر مظلوم قومیں غلام ہیں اور غلام کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں، وہ پشتون بچوں کی طرح زہریلا کھانا کھلانے سے موت کے گھاٹ اتارے جاتے ہیں یا بلوچ بچوں کی طرح فوجی بمبارمنٹ سے بے دریغ قتل ہوجاتے ہیں۔ غلام کبھی بھی آقا کے برابر حقوق کا حقدار نہیں ہوسکتا۔

ترجمان نے کہا کہ ان بچوں کی اموات کس چیز سے ہوئی ہے یہ واضح نہیں ہوسکا کیونکہ کوئٹہ کی ہوٹلوں میں انسانی گوشت کی کھانے کے طور پر بکنے کی مثالیں بھی پرانی نہیں ہیں۔ یہاں بھی یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ یہاں بھی ان معصوم بچوں کے ساتھ ایسی غیرانسانی عمل ہوا ہو لیکن ہمیں پاکستان سے یہ امید بھی نہیں کہ اس واقعے کا شفاف طریقے سے تحقیقات کرے گی۔

ترجمان نے کہا کہ ایسے واقعات ہماری اجتماعی روح پر پاکستان کے لگائے گئے زخموں کو مزید گہرا کرتے ہیں اور ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ بلوچ، پشتون، سندھی، مہاجر اور دیگر مظلوم قومیں اپنی بقا اور قومی وقار کے لئے اس درندہ صفت ریاست کے خلاف مشترکہ محاذ بناکر صف آراء ہوجائیں۔