نیشنل پارٹی ہر فورم پر لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھائیگی – جان محمد بلیدی

51

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کیلئے احتجاج جاری، نیشنل پارٹی رہنماوں اور کارکنان نے اظہار یکجہتی کی۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاجی کیمپ کو 3493 دن مکمل ہوگئے۔ نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی، رسول بخش کھیتران سمیت سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی جبکہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے سمیت اپنے پیاروں کے حوالے سے تنظیم کے پاس کوائف جمع کرائے۔

نیشنل پارٹی کے رہنماء جان محمد بلیدی نے لاپتہ افراد کے لواحقین کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا ساتھ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنماء ڈاکٹر مالک کے خصوصی پیغام کیساتھ کارکنان کے ہمراہ لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لیے کیمپ آئے ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے اس موقعے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم کے انسانی اور قومی حقوق غضب کرنے کا سلسلہ بلوچ قومی ریاست پر انگریزوں کے قبضے سے ہی شروع ہوا اور متواتر بلوچ قوم کی مرضی اور منشاء کے بغیر بلوچ قومی ریاست کو تقسیم در تقسیم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بلوچ ریاست پر قبضے سے لیکر بلوچ قوم اپنی حقوق کی بحالی کیلئے جدوجہد کرتی آرہی ہے اور اس آواز کو دبانے کیلئے ظالمانہ سلوک میں شدت آتی رہی ہے جبکہ بلوچستان میں اقوام کے منشور اور اصولوں سمیت انسانی اقدار، اخلاقیات اور حقوق کی پامالیاں جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں شدت سے جاری ہے جس کے تدارک کیلئے قوموں کے عالمی ضامن اقوام متحدہ سمیت عالمی معاشرہ خاطر خواہ اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے اور اس طرح اقوام متحدہ مظلوم و محکوم اقوام پر ظلم و جبر روکنے میں ناکام رہی ہے اور اسی وجہ سے اقوام متحد کا انسانی حقوق کے حوالے سے منشور محض کاغذی سفارشات دکھائی دیتے ہیں جن پر اقوام متحدہ عمل درآمد کرانے کا اختیارنہیں رکھتی ہے۔

ماما قدیر نے کہا کہ بلوچ قوم نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قوانین کے عین مطابق انسانی حقوق کی جنگ لڑی ہے حالانکہ قابض ریاستوں نے ہمیشہ عالمی قوانین اور اصولوں کو پامال کیا ہے۔ بلوچ قوم قومی اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے اور پاکستان بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہے لیکن پاکستان عالمی اصولوں کو پاوں تلے روند رہا ہے جس کے باعث عالمی امن اور بھائی چارے کے فضاء کو قائم رکھنا ممکن نظر نہیں آتا ہے۔

لاپتہ افراد کے احتجاجی کیمپ آکر ایاز قمبرانی کے لواحقین ان کی بازیابی کیلئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

لواحقین کے کہنا تھا کہ ایاز قمبرانی کو 14جولائی 2015 فورسز نے کوئٹہ قمبرانی روڈ سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ لواحقین نے کہا کہ ہم انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے پیاروں کی بازیابی کے کردار ادا کریں اگر ہمارے پیاروں پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

دریں اثناء تنظیم کی جانب سے 19 جنوری 2016 کو قمبرانی روڈ بشیر چوک سے لاپتہ ہونے والے غلام یاسین ولد غلام نبی،23مئی2014کو اسپلنجی سے کوئٹہ آتے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے عنایت اللہ بنگلزئی، سریاب مِل کوئٹہ سے 28 دسمبر   2010 کو لاپتہ کیے گئے سردا داروں خان ابابکی، گرین ٹاؤن کوئٹہ سے 25 جولائی 2015 کو لاپتہ کیے گئے جمیل احمد ولد عبدالغفور کے کوائف جمع کیے گئے جبکہ تنظیم کی جانب سے صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت انسانی حقوق کے اداروں سے ان افراد کو بازیاب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔