نظریہ نام کا کوئی چیز ہے کہ نہیں؟ ۔ عبدالواجد بلوچ

132

نظریہ نام کا کوئی چیز ہے کہ نہیں؟

تحریر۔ عبدالواجد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

موجودہ بلوچ سیاست کی حالیہ کشمکش،اتحادوں کا بننا پھر بکھرنا، نظریہ و فکر و خودنمائی کے مابین فرق، روایتی طرز سیاست کے اس منظر نامے اور روایتی و فرسودہ خیالات کے انقلابیوں کے رویوں کو جب دیکھا جاتا ہے تو ہمیں پاکستانی طرز سیاست اور پاکستانی نفسیات کا خیال رہتا ہے۔ کیونکہ ہمارا ناطہ بالواسطہ یا بلاواسطہ پاکستان سے ہے، اسی لیئے شاید یہ حضرات ابھی تک اس ریاست کے نفسیات سے چھٹکارہ نہیں پائے۔ مثلاًہم پاکستانی سیاست سے منسلک پاکستانی پارلیمانی پارٹیوں جن میں مسلم لیگ(ن)،پیپلز پارٹی،ایم کیو ایم،تحریک انصاف اور بھی بہت سے پارٹیان ہیں جن کے درمیان اپنے حلقوں کو لیکر اکثر الیکشن خواہ وہ بلدیاتی ہوں یا عام الیکشن ان کا نوک جھونک ہر وقت برقرار رہتا ہے، کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ پارٹیاں اپنے جیالوں کے ذریعے ایک دوسرے کے گریبان بھی چاک چاک کرتے ہیں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے۔

بالکل اسی طرح اب ہم اپنے معاشرے میں آزادی و انقلاب کے دعویدار اور کتاب سے رہنمائی لینے والے مڈل کلاس کے رہنمایان اور ان کے جیالوں، بالخصوص موجودہ دور کے فیملی اتحاد و نواب و سرداروں کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی قربتیں اور ماضی میں کتاب سے رہنمائی لینے والے بندوق برداروں کی ان سے بے رخی اور ان کو اپنے حلقہ احباب میں کسی بھی طرح برداشت نہ کرنا قابل ذکر ہیں، جن کو ہم آگے جاکر عوام کے سامنے بیان کرینگے۔ اسی مضمون میں ان رویوں اور پاکستانی طرز نفسیات کا ذکر کیا جائے گا۔

بہ حیثیت سیاسی کارکن اس تحریک کے لئے مخلص ہوکر ہمیشہ آواز اٹھایا اور اس چیز پر ہمیشہ ایمان رکھا کہ اداروں کی بالادستی قائم رہے، مقدس اداروں کو شخصیات کے حصار سے آزاد کرانا، ہمارا سیاسی مقصد ہے اور اس مقصد کے لئے ہم بلوچ سیاسی کارکنان کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ اس تحریک کی ابتداء جس بھی انداز سے ہوا گو کہ وہ سائنسی بنیادوں پر محیط تھا کہ نہیں وہ الگ بحث ہے لیکن ہم اس امر پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس جنگ میں جو بھی شامل ہورہا ہے اور جنہوں نے جانیں دی ہیں، وہ رضا کارانہ صورت میں اس تحریک کا حصہ بنیں، نا ان کا کوئی ذاتی مقصد تھا اور نا ہی مراعات حاصل کرکے قوم کا سودا کرنا۔۔۔۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس نشیب و فراز کے دورانیئے میں کچھ قوتوں نے ریاست کے ساتھ ساز باز کرکے بلوچ قومی تحریک کو نیلام کرنے کی کوشش کی۔

ہم تفصیل میں نہیں جاتے لیکن موجودہ دور میں جس طرح چند قوتیں بلوچ قومی تحریک کو مختلف قسم کی Lobiesبنا کر انہیں صرف اپنیprojectionکے لئے استعمال کررہے ہیں، وہ سب کے سامنے عیاں ہے۔ جس طرح بلوچ سیاسی کیڈرز جو اس تحریک کے خیر خواہ ہیں انہیں مختلف طریقوں سے اس تحریک سے کنارہ کش ہونے کے لئے بہانے اور حربے استعمال کئے جارہے ہیں، یقیناً وہ آگے جاکر بھیانک شکل اختیار کرسکتا ہے۔ میں قطعاً نہیں کہتاکہ اس امر کو بڑھاوا دینے کے لئے صرف اور صرف سردار و نوابوں کا کردار ہے بلکہ مزید شدت کے ساتھ اس امر کو تقویت نام نہاد مڈل کلاس کی جانب سے مل رہا ہے۔ جب بھی میچور سیاسی کارکنان نے کوشش کی کہ اداروں کی بالادستی اولیت کا حامل ہو اور میرٹ پر قابل کارکنان کو آگے لانے پر جب جب سوالات اٹھایا جانے لگا تو ان سوالات و آوازوں کو بند کرنے کے لئے طاقت استعمال کی گئی، اگر طاقت کا استعمال ناممکنات میں ہوتا تو پرانے طرز نفسیات و روایتی انداز میں سوشل میڈیا سمیت اپنے یرغمال کنندہ میڈیا کے ذریعے الزامات، بہتان، غداری کے اسناد ہاتھ میں تھمانا اور ان کارکنان کو متنازعہ کرکے انہیں خاموش کیا جاتا، اس ضمن میں بہت سے سیاسی کارکنان خاموش ہوکر اس تحریک سے کنارہ کش ہوگئے۔ کچھ نے سمجھوتہ کرکے ان حضرات کے بغل میں پناہ گاہیں تلاش کئیں لیکن اس میدان آمریت میں کچھ ایسے کارکنان ہیں جو واقعی عجیب قسم کے غدار ہیں کیونکہ وہی غدار ہمیشہ اداروں کی بالادستی کا مطالبہ کرتے ہیں، ہمیشہ جمہور کی اہمیت پر بات کرتے ہیں، ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ مقدس اداروں کو شخصیات کے حصار سے نکالا جائے، ہمیشہ یہی کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ مقدس انقلابی پارٹیوں کے کردار کو اس تحریک کے پیش نظر اس نقطے پر چلایا جائے کہ یہاں سب رضا کارانہ صورت میں اپنا حصہ دے رہے ہیں۔

کوئی بھی ان نام نہاد لیڈروں اور نوابوں کے گھر کے دہلیز پر خدمات دینے والا رعایا نہیں بلکہ نظریے کی بنیاد پر سیاسی تربیت حاصل کرنے والے مخلص سیاسی کارکنان ہیں لہٰذا ان سے اپنے رعایا جیسا سلوک نا برتا جائے۔ اسی لیئے تونقار خانوں میں ان کی آوازیں ابھی تک جاری ہیں، جب تک ادارے بالادست نا ہوں جب تک حقیقی سیاسی کارکنان کو ان کا حقیقی وقار نا دیا جائے۔ یہ بات ان نام نہاد مسلط کردہ لیڈرشپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ان کی دھمکیاں،ان کے شوکاز نوٹس اور بات بات پر معطل کرنے والا عمل اب سکرات میں ہے کیونکہ حقیقی عمل اس میدان کارساز میں اپنا چہرہ دکھا چکا ہے اور بہروپیئے کی مانند قوم و کارکنان سے دھوکہ کرنا اور مختلف قسم کی لابیز کے ذریعے اپنا اجارہ داری قائم کرنے کا رویہ اب دم توڑ چکا ہے۔

حقیقی کارکن اپنے حیثیت پہچان چکے ہیں، انہیں یہ اندازہ ہے کہ ان کی اہمیت کیا ہے انہیں اس امر کا ادراک ہے کہ نظریہ و دھوکہ دہی کے مابین فرق کتنی ہے۔ اس بات کا اندازہ ان لیڈران کوہونا چاہیئے کہ اب وہ بادشاہ سلامت نہیں رہے کہ ان کے دربار میں سرنگوں ہوا جائے، اس تحریک کی کامیابی و کامرانی کے لئے خون کی دریا بھی ہیں، ان خون کے قطروں سے سمندر بنی تھیں اس لئے نا کہ ان قطرہ خوں کو کیش کرکے اپنے مفادات کی تکمیل کی جائے بلکہ ان خون کے ہر گرتے قطرے پر یہ نعرہ تھا کہ وہ آزاد جمہوری بلوچستان کے لئے گر رہے ہیں۔ مفادات کے اس نقار خانے میں ہر اس سیاسی کارکن کا شور برپا ہوگا جس نے حقیقی رنگ میں سیاسی تربیت پائی ہے اور ان استادوں کی تربیت کا لاج رکھ کر اس امید کے ساتھ ایک قوت بنیں گے جس سے اداروں کی بالادستی قائم ہو۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لیئے جائیں ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ آپ لوگوں کا گریبان ہوگا اور کارکنان کے ہاتھ۔ کیونکہ کارکنان نظریاتی ہیں بلکہ روایتی منافق و چاپلوس نہیں جو ہوا کے جھونکوں سے ختم ہوں اور رہی بات منفی پروپگنڈے کے الزامات کی مختلف نوعیت کے غداری اسناد کی تو اس حقیقت کا پتا بلوچ قوم کو چل چکا ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔