غیر ملکی افواج کا انخلا و افغانستان سے دہشت گرد گروپوں کو نکالنا بات چیت کا محور ہے – طالبان

64
افغان طالبان نے کہا ہے کہ انہیں امریکہ کے ساتھ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری بات چیت کے تازہ دور سے واضح اور مفید نتائجکی توقع ہے ۔

طالبان ترجمان سہیل شاہین کے مطابق دوحہ میں جاری بات چیت کا محور وہی دو معاملات ہیں جو 17 سال سے جاری تنازع کے اہم معاملات ہیں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ افغان سر زمین کوئی دہشت گرد گروپ یا فرداستعمال نہیں کرے گا۔

طالبان ترجمان شاہین نے کہا کہ ملا بردار دوحہ میں تعارفی بات چیت میں شامل ہو ں گے تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کیا وہ بات چیت کے باقی دور میں بھی شریک رہیں گے یا نہیں۔ تاہم طالبان قبل ازیں یہ کہہ چکے ہیں کہ ملا بردار کو ذاتی طور پر ان مذاکرت میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کے بقول وہ پہلے ہی طالبان مذاکراتی ٹیم کا اعلان کر چکے ہیں۔

قبل ازیں رواں ماہ طالبان کی طرف سے اعلان کردہ 14 رکنی مذاکراتی ٹیم میں  حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی بھی شامل ہیں۔

قطر میں ہونے والی بات چیت میں امریکی وفد کی قیادت امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کر رہے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں افغان مفاہمت کے نمائندہ خصوصی مقرر ہونے کے بعد وہ متعدد بار خطہ کا دورہ کر چکے ہیں۔خلیل زاد سوائے ایران کے ان تمام ملکوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کر چکے ہیں جن کے افغانستان میں مفاد ہیں۔

گزشتہ ماہ قطر میں چھ روز تک جاری رہنے والےمذاکرات کے دوران طالبان اور امریکہ نے دو اہم معاملات پر بات چیت کے ذریعے حل کے لیے دوورکنگ گروپ قائم کیے تھے۔

طالبان ترجمان شاہین نے کہا ہے کہ یہ ورکنگ گروپ اپنی سفارشات اور ایک ڈرافٹ معاہد ہ وضع کریں گے۔