صدر اشرف غنی کے ٹویٹ اور پاکستان کی بوکھلاہٹ؟ – توارش بلوچ

98

صدر اشرف غنی کے ٹویٹ اور پاکستان کی بوکھلاہٹ؟

توارش بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

7 فروری کو اپنے دو ٹوئٹس میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’افغان حکومت کو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں پر امن احتجاج کرنے والوں اور سِول سوسائٹی کے ارکان کے خلاف تشدد پر شدید تحفظات ہیں اپنے دوسرے ٹوئٹ میں افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے لکھا کہ ‘ہمارا ماننا ہے کہ ہر حکومت کا یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سماجی سرگرمیاں کو سپورٹ کرے جو کہ اس دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہوتی ہیں جس سے ہمارے خطے اور اجتماعی تحفظ کو خطرہ ہے، دوسری صورت میں اس کے دیرپا منفی نتائج نکلیں گے۔

افغان صدر کے ٹوئٹ کے بعد افغانستان کے سابقہ وزیر داخلہ اور سابقہ نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سیکورٹی کے سربراہ امر اللہ صالح نے اسی حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس سنگین مسئلے پر یکساں تشویش کا اظہار کرتا ہوں اور افغان سول سوسائٹی سے التجا کرتا ہوں کہ وہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں پرامن شہری سرگرمیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔ ہم تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی حوالے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ایک حلقے کے ہاتھوں ستم کا شکار ہیں۔ ایک پشتون قوم کی رہبر کے اپنے پشتون لوگوں پر ظلم و جبر اور طاقت و پاکستانی دہشت گردی پر تشویش کو لیکر پاکستان آگ بگولا ہو گیا، وہ سارے پاکستانی نام نہاد صحافی اور سیاست دان جو ایک دہائی سے وزیرستان اور بلوچستان میں ہونے والے ریاستی ظلم و ناانصافیوں اور پاکستانی فوج کے ہاتھوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں شہید ہوئے معصوم لوگوں کیلئے خاموش تھے، اچانک جاگ اٹھے اور بھاشن بازی شروع کی یہ ردعمل یقیناً پاکستانی بوکھلاہٹ کی شکار ہونے کے ثبوت تھے کیونکہ پاکستان پیچھلے دو دہائیوں سے بلوچستان اور وزیرستان میں دہشت گردی کر رہی ہے۔ لوگوں کے گھروں کو مسمار کرنے، لوگوں کو ان کے گھر سے نقل مکانی پر مجبور کرنے، ان کے گاؤں پر بمباری کرنے سمیت جارحیت کی حدیں پار کی ہے لیکن آج تک وہ دنیا کی آنکھوں میں پٹی باندھنے میں کامیاب ہو پائی ہے، لیکن جب پی ٹی ایم سامنے آئی اور ریاست سے سوال کرنے لگا تو پاکستانی ایجنسیاں خوفزدہ ہو گئے کیونکہ وہ ظالم فوج جس نے ہر کسی کے دل میں اپنا خوف قائم کیا تھا، جس نے بھی اپنے لیئے اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کی تھی اس کو قتل کر دیا جاتا تھا، جو بھی ظلم و ناانصافی کے خلاف بولتا تھا اس کو اغواہ کیا جاتا تھا، اس لیے لوگ خوفزدہ ہو گئے تھے اور اس ظالم فوج اور دہشت گرد آئی ایس آئی کے خلاف بولنے سے سب ڈرتے تھے کہ کہیں وہ بھی دوسروں کی طرح اغواہ نہ ہو جائیں لیکن پی ٹی ایم نے لوگوں کے دل سے یہ خوف نکال دیا۔ پی ٹی ایم کی بہادر لیڈرشپ نے اپنے لوگوں کے سامنے ریاستی دہشتگردی کا پردہ پاش کیا۔

یہ دیکھ کر ریاست بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی پھر وردی کے پیچھے دہشتگردی کا نعرہ بازاروں سے نکل کر کوچوں، گلیوں تک پہنچ گیا اور ہر پشتون دیدہ دلیری سے ریاستی قابض اور دہشت گرد فوج کو ان کے اصل نام یعنی دہشت گرد سے پکارنے لگے۔ دہشت گرد فوج اور ایجنسی آئی ایس آئی نے اپنی پوری کوشش کی کہ پی ٹی ایم کو خاموش کریں، مختلف پروپگنڈے کیئے گئے، پی ٹیم ایم کے خلاف ہزاروں ہتھکنڈے استعمال میں لائے گئے، جن میں ان کے کارکنان کی گمشدگی، دھونس و دھمکی ان کے خلاف جھوٹے ایف آئی آر، اپنے سب حربے استعمال کیئے لیکن پی ٹی ایم کو جھکانے میں ریاست ناکام ہوئی کیونکہ پی ٹی ایم کو پشتون قوم کا مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ وہ پشتون جو بارڈر کے اس سائیڈ سے لیکر بارڈر کے اُس سائیڈ تک ہر جگہ پاکستانی پنجابی دشمن کے ہاتھوں مر رہے ہیں، ایک طرف پاکستانی فوج اپنے وردی میں عام لوگوں کو ٹارچر کر رہی ہے ان کے گھروں پر بمباری کر رہی ہے تاکہ امریکہ سے ڈالر بٹور سکیں تو دوسری جانب افغانستان میں پشتون قوم کو تباہ و برباد کرنے والا بھی پاکستان اور پنجابی ہے، جس نے افغانستان کو لہو لہان کر دیا ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں معصوم بچے و بچیاں اور عورتیں آئی ایس آئی(طالبان) کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں، پشتون اپنے قوم کے ازلی دشمن پنجابی سے اب بخوبی آگاہ ہو چُکا ہے، اس لیے اب وہ کھل کر پاکستانی دہشت گرد فوج کو سرے عام چیلنج کر رہے ہیں۔ پاکستانی پنجابی فوج نے پشتونوں کیلئے کچھ نہیں بچایا ہے بلکہ جب چاہا پشتونوں کو قتل کیا جب چاہا ان کو ڈالروں کیلیے مروایا جبکہ جب ضرورت بڑھی تو ان کو ان کے اپنے قوم کے خلاف استعمال کیا لیکن اپنی دہشتگردی سے پشتون قوم کی نسل کشی کبھی نہیں روکا اسی لیئے آج اپنے اصل دشمن کی پہچان کرتے ہوئے پشتون قوم اس کے خلاف کھڑی ہو گئی ہے۔

کل جب صدر افغانستان ڈاکٹر اشرف غنی نے پاکستانی فوج کی ظلم و جبر اور ریاستی دہشت گردی و خطے میں اس کے ظالمانہ کارروائی پر بلوچ و پشتونوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تو پورا پاکستان آگ بگولا ہو گیا، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو ڈر ہے کہ کہیں سارے پشتون اپنے اصل دشمن کے خلاف یکجاہ نہ ہو جائیں، دوسرا یہ کہ پاکستانی دہشت گردی جس کو پی ٹی ایم نے پوری دنیا کے سامنے ایکسپوز کیا ہے، اب صدر اشرف غنی کے ٹوئٹ سے اس کو دنیا میں مزید پذیرائی ملے گی، پنجابی فوج پریشان ہے کہ پوری دنیا ان کی دہشتگردی کے بارے میں جان پائے گی۔ ایک خطرہ پاکستان کو یہ ہے کہ جو باتیں پاکستان میں مظلوم اقوام اور پاکستانی غلامی کے زیر سائے تلے بلوچ، سندھی اور دوسرے مظلوم اقوام بارہا کر چُکے ہیں کہ پاکستان اس خطے کیلئے ایک خطرہ ہے پاکستان اس خطے میں اپنی دہشتگردانہ کارروائیوں کی وجہ سے سارے اقوام کیلئے ایک خطرہ ہے اب اس کے بارے میں پوری دنیا کو آگاہی حاصل ہوگی اس ڈر سے ریاست اور ان کے ادارے جو ہمیشہ سے ریاستی بیانیہ کی ہی تقویت کرتے آئے ہیں بوکھلاہٹ کے شکار ہو گئے ہیں۔

اگر ہم تصویر کے دوسرے رخ یعنی کہ پاکستانی اندورنی معاملات والی بات پر اظہار خیال کریں تو کیا ریاستی دہشتگردی گاؤں میں بمباریاں، ہزاروں لوگوں کا قتل، لاکھوں لوگوں کی نکل مکانی، جیٹ طیاروں کا استعمال، ہزاروں لوگوں کی جبری گمشدگیاں، مذہبی شدت پسندوں کی مدت و کُمک، ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دینا، مسخ شدہ لاشیں پھینکنا، ماورائے عدالت ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا قتل کرنا، ہزاروں لاشیں اجتماعی قبروں میں دفنانا کہاں کے اندرونی معاملات ہو سکتے ہیں؟ کیا کسی قوم کی نسل کشی کرنا اندرونی معاملہ ہے؟ کیا کسی آزاد ریاست پر قبضہ کرنا پھر وہاں کے وسائل لوٹنا اور پھر وہاں کے ہزاروں لوگوں کو اٹھانا و ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنا اندورنی معاملہ ہے؟ پھر اس طرح تو کشمیر مسئلہ بھی اندرونی معاملہ ہے؟ فلسطین بھی ایک اندرونی معاملہ ہے؟ یمن اور عراق کے مسائل بھی اندرونی ہیں؟ افغانستان کے مسائل بھی اندرونی ہیں، پھر اقوام متحدہ و ہزاروں ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی کیا ضرورت ہے؟

لیکن جب کشمیر کا معاملہ آتا ہے تو دنیا میں اس کا سب سے زیادہ ڈھنڈورا پاکستان پیٹتا ہے، دنیا میں کشمیر ایشو کو عالمی ایشو بنانے کی سب سے زیادہ کوشش پاکستان نے کیا ہے، کل ہی کی بات ہے جہاں پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے نام سے پورے پاکستان میں فوج اور آئی ایس آئی کے کارندوں اور ان کے حمایتوں نے پورے پاکستان میں کشمیریوں کے حق میں مظاہرے کیئے، اگر پاکستانی سیاستدانوں کے زاویہ نظر سے دیکھا جائے تو کشمیر کسی بھی طرح عالمی مسئلہ نہیں ہو سکتا ہے۔ اگر بمباری اور جیٹ طیاروں کا استعمال ہزاروں کا قتل عام و ہزاروں کی مسخ شدہ لاشیں اندرونی معاملات ہیں تو بلٹ گن اور سو دو سو پاکستانی جہادیوں کا قتل کہاں عالمی ایشو ہے لیکن پاکستان ایک جھوٹا و مکار ریاست ہے جو صرف اپنے ظلم و جبر کو دنیا کے سامنے چھپانا چاہتا ہے۔

کیا آج اسی ریاست پاکستان نے افغان سرزمین کو لہو لہان نہیں کیا ہے؟ سویت یونین کے زمانے میں ہزاروں جہادیوں کو ٹرین کرکے افغانستان میں امریکہ کا جنگ کچھ ڈالروں کیلئے لڑایا، وہ مداخلت نہیں تھا؟ پیچھلے سترہ سالوں سے افغانستان میں آئی ایس آئی(افغان طالبان) افغان لوگوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں، ان کو قتل کر رہے ہیں، ان کے زمین کو لہو لہان کیا ہے، لاکھوں معصوم لوگوں کو قتل کیا ہے، ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا ہے، کیا یہ مداخلت نہیں ہے؟ لیکن جب ایک زمہ دار ہمسایہ اور اپنے قوم کے لوگوں پر ایک قابض ریاست کی دہشت گردی پر سوال کیا جاتا ہے تو یہ ریاست کیلئے اندرونی معاملات میں مداخلت ہو جاتا ہے۔

آج پاکستان اپنے پراکسیوں کے ذریعے ایران افغانستان اور انڈیا سمیت پورے دنیا میں دہشتگردی سرانجام دے رہی ہے، پاکستانی آئی ایس آئی براہ راست عالمی شدت پسند تنظیموں جن میں داعش، طالبان سمیت مختلف ایسے تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے جن کی بلوچستان میں منظم نیٹورک آئی ایس آئی نے بنائے ہیں نا صرف بلوچستان بلکہ خیبرپختونخوا میں بھی ریاست نے ان کو منظم انداز میں تشکیل دیا ہے، انڈیا میں پاکستانی دہشت گردی اب ایک ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ پوری دنیا اس سے آگاہ ہے۔ اب پورے دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان اور اس کی دہشت گرد فوج اس خطہ کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور اس خطے میں اگر دہشتگردی کو ختم کرنا ہے تو پاکستان کے خلاف پوری دنیا اور خاص کر اقوام متحدہ کو سخت اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان نا سرف یہاں مظلوم قوموں پر قابض ہے بلکہ یہاں پر جارحیت میں ملوث ہے، ہزاروں بےگناہ و معصوم لوگوں کے قتل میں پاکستانی دہشت گرد فوج اور آئی ایس آئی کا براہ راست ہاتھ ہے، جو جاریت و نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے اور جب ایک ریاست کسی قوم کے خلاف جارحیت پر اتر آتا ہے، ہزاروں لوگوں کو قتل کرتا ہے، تو عالمی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس قوم کیلئے آواز بلند کرتے ہوئے، پاکستان جیسے ریاستوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے لیکن آج تک ہم مظلوم اقوام کو مایوسی کے سیوا کچھ نہیں ملا ہے، جو ذمہ داری دنیا اور مہذب اقوام و اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی بنتی ہے اُسے سرانجام دینے میں ناکام رہے ہیں، آج پاکستان نہ صرف آزادی سے مظلوم اقوام کی نسل کشی کر رہی ہے بلکہ اس پورے خطے میں دہشتگردی سرانجام دے رہی ہے، اس پورے خطے میں دہشتگردی کے نیٹورک بنا چُکی ہے، آج پاکستان کے سارے ہمسایہ ممالک یہ تشویش رکھتے ہیں کہ پاکستان ان کے زمین پر دہشتگردی کروا رہی ہے لیکن آجتک دنیا ان ممالک کو سُننے کیلئے تیار نہیں ہے، افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے مطابق ‘ہمارا ماننا ہے کہ ہر حکومت کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سماجی سرگرمیاں کی سپورٹ کرے جو کہ اس دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہوتی ہیں، آج دنیا کو بلوچ قومی تحریک کو اخلاقی و سفارتی مدد کرنے اور پشتون تحفظ موؤمنٹ کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بلوچ و پشتون پاکستان جیسے ناسور ریاست سے اپنے آپ کو آزاد کرا سکیں۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔