تلاش آج بھی ہے! – لطیف بلوچ

92

اسد مینگل، احمد شاہ بلوچ

تلاش آج بھی ہے!

تحریر: لطیف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

6 فروری 1976 بلوچ تاریخ میں دیگر سیاہ ایام کی طرح ایک دردناک دن ہے، اسی دن پاکستانی آرمی کے ایس ایس جی کمانڈوز نے کراچی سے میر بلخ شیر مزاری کی گھر سے گن پوائنٹ پر اسد مینگل اور احمد شاہ بلوچ کو اُٹھا کر لے گئے، بھٹو کی سول آمریت کا زمانہ تھا بلوچستان میں آگ و خون کی ہولی کھیلی جاری تھی، بلوچ قیادت جیلوں میں مقید تھا بلوچستان میں شاہ ایران کی مدد و کمک سے جنگی ہیلی کاپٹر بلوچوں کے گدانوں پر آگ برسا رہے تھے، جھالاوان، ساراوان کوہستان مری میں مزاحمت زوروں پر تھی، لوگ بھٹو کی مظالم کے خلاف پہاڑوں پر چلے گئےتھے، سردار عطاء اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری، گل خان نصیر، میر غوث بخش بزنجو، شیرو مری سمیت دیگر بلوچ رہنما حیدر آباد سازش کیس میں مختلف جیلوں میں سزا کاٹ رہے تھے، سردار عطاء اللہ مینگل جیل میں مقید تھے جب یہ دلخراش واقعہ رونما ہوا اُن کے بیٹے کو اغوا کرکے لئے گئے اور تادم تحریر اُنکی لاش نہیں ملی ہے، فوجی اسٹبلشمنٹ اور بھٹو رجیم نے سردار عطاء اللہ مینگل کے عزم و حوصلوں کو توڑنے اور انہیں کمزور کرنے کے لئے یہ عمل اپنایا لیکن اپنے جبر کے باوجود وہ عطاء اللہ مینگل کو نہیں توڑ سکے، نہیں جھکا سکے۔

1973 میں جب بلوچ قوم نے بھٹو کی ظلم و جبر، ناانصافی اور وحشت کے خلاف پہاڑوں پر چلے گئے مسلح مزاحمت کا آغاز کیا دیگر قبائل کی طرح مینگل قبیلے کے لوگ بھی بڑی تعداد میں پہاڑوں کو اپنا مسکن بنالیا، سردار عطاء اللہ مینگل کے بھائی میر مہر اللہ مینگل، میر ضیا اللہ مینگل، بیٹے مرحوم سردار منیر مینگل، علی محمد مینگل، سمیت قبیلے کے سرکردہ شخصیات پہاڑوں پر سرگرم عمل تھے۔

مینگل قبیلے کی بلوچ قومی تحریک میں عملی کردار اور جدوجہد سے فوج و بھٹو خالف تھے اس لئے اسد مینگل اور اُنکے ساتھی احمد شاہ بلوچ کو اغوا کرکے گمنام عقوبت خانوں میں ڈال دیا گیا۔ 6 فروری بلوچوں کے لئے مایوسی تکلیف اور اذیت ناک دن کی حیثیت سے طلوع ہوکر درد و دکھ غم اور کرب کیساتھ غروب ہوجاتا ہے، بلوچ قوم پر تکلیفوں، مایوسیوں، اذیتوں، سسکیوں و آہوں کی سیاہ بادل 27 مارچ 1948 کو چھا گئے، جب پاکستان نے فوجی طاقت کے ذریعے بلوچستان کی آزاد و خود مختیار حیثیت کو سلب کرکے جبری طور بلوچستان کو پاکستان کیساتھ الحاق کردیا۔ اس جبری الحاق نے بلوچستان میں نوآبادیاتی جبر کی بنیاد رکھی جبر کی اس گھٹا ٹوپ سیاہ رات نے ہزاروں بلوچوں کو نگل لیا,ظلم کی سیاہ رات کے خوفناکیاں، ہولناکیاں اور تباہ کاریاں بڑھنے لگیں، نوجوانوں کو نگلنے، پُر اسرار طریقے سے اُٹھا کر غائب کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال شدت سے جاری ہے، کہا جاتا ہے کہ اسد مینگل و احمد شاہ بلوچ کی گمشدگی کا کیس بلوچستان سے جبری اغوا و گمشدگی کا پہلا کیس تھا، اسد مینگل اور احمد شاہ کو دوران حراست تشدد کرکے شہید کردیا گیا تھا اس بات کا اعتراف بھٹو نے اپنی کتاب ’’افواہ اور حقیقت‘‘ میں کیا ہے اس کے علاوہ ایک ٹی وی ٹاک میں آئی ایس آئی کی سابقہ سربراہ حمید گل نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ اسد مینگل دلائی ٹارچر کیمپ مظفر آباد میں دوران تشدد شہید ہوگئے تھے۔

ریاست کی یہ مارو اور پھینکو پالیسی تاحال جاری ہے، سیاسی کارکنوں کو اُٹھا کر غائب کیا جاتا ہے، خفیہ ٹارچر سیلوں میں تشدد کا نشانہ بناکر دوران حراست شہید کرکے ویرانوں میں پھینک دی جاتی ہیں اور بہت سے نوجوانوں کو مار کر گمنام قبروں میں دفنائی جاتی ہے، بلوچستان میں ایسے بہت سے گمنام اور اجتماعی قبریں دریافت ہوئے ہیں، اسد مینگل اور احمد شاہ کے لاشوں کی طرح اور بہت سے نوجوانوں کے لاشیں اور قبریں گمنام ہیں، ٹارچر سیلوں میں دوران حراست انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کے بعد کسی گمنام قبر میں دفن کیجاتی ہے یا کسی ویرانے میں پھینک کر چیل و کووں اور جانوروں کا خوراک بنایا جاتا ہے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ایسے ناقابل شناخت مسخ لاشیں ملیں ہیں، جن کو ناقابل شناخت اور لاوارث قرار دے کر کسی قبرستان میں دفنایا گیا ہے، بلوچ آزادی کی تحریک کو دبانے کے لئے ریاست یہ حربے اور مارو و پھینکو والی پالیسی پر گذشتہ کئی دہائیوں سے عمل پیرا ہے۔

6 فروری 1976 کو ظلم کی جو تاریخ رقم کی گئی وہ ہر روز بلوچستان میں دہرائی جاری ہیں، ہر روز بلوچستان سے ماوں کی اسد و احمد شاہ چھین لئے جارہے ہیں، ہر روز محشر برپا کیا جاتا ہے، ظلم و جبر کی باوجود بلوچوں کی طلاطم خیز جذبوں اور وطن کے آزادی کی چاہت کو ختم نہیں کی جاسکی، قبضہ گیر کی ظلم و زیادتیوں میں جتنی اضافہ ہوتی جاری ہے بلوچ قوم کی دلوں میں وطن کے لئے مہر و محبت بڑھتی جاری ہیں۔ ہزاروں بلوچ شہید اسد مینگل و احمد شاہ بلوچ کی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے گمنام عقوبت خانوں میں ازیتں برداشت کررہے ہیں لیکن وہ اپنے سوچ اور نظریہ سے منحرف نہیں ہورہے، برآمد ہونے والی مسخ شدہ لاشیں یہ گواہی دینے کے لئے کافی ہیں کہ بلوچ نوجوان دشمن کی ٹارچر سیلوں میں بھی آزاد بلوچستان کا نعرہ بلند کرکے جام شہادت نوش کرتے ہیں، خوف ، لالچ اور مصلحت پسندی کی شکار ہونے کی بجائے موت کو ترجیح دیتے ہیں وطن پر مر مٹ کر وطن کا قرض اُتار دیتے ہے۔

زنداں میں بھی شورِش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے پریشاں نظری کا

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔