بلوچستان میں 78 فوجی آپریشن، 108 افراد لاپتہ، 230 گھروں میں لوٹ مار اور 31 نعشیں ملی ۔ بی این ایم ماہانہ رپورٹ

72

انسانی حقوق اورعالمی میڈیا کی خاموشی پاکستانی بربریت کو مزید تقوت پہنچا رہی ہے ۔ بلوچستان میں لوگوں کوحراست میں لے کر ماؤرائے عدالت قتل کرنا معمول بن چکی ہے ۔ اسی مہینے میں دس مسخ شدہ لاش بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بر آمد ہوئے اور ریاست پاکستان نے انہیں بغیر تحقیقات کے دفنا دیا۔ بی این ایم ترجمان

بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات دل مراد بلوچ نے میڈیا میں جنوری 2019 کی بلوچستان صورت حوالے ماہانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری کے ماہ قابض فورسز نے بلوچستان بھر میں78 آپریشنز کرکے108 افراد کو حراست بعد لاپتہ کیاجبکہ دوران آپریشن فورسز نے230 سے زائد گھروں میں لوٹ مار کی۔ خضدار کے علاقے گریشک،آواران اور سبی میں دوران آپریشن پچاس سے زائد گھروں کو لوٹ مار کے بعد نذر آتش کیا گیا۔ آواران، خضدار اور کیچ کے مختلف علاقوں میں قابض فورسز نے سات نئی چوکیاں قائم کیں۔
اسی ماہ 31 نعشیں بھی ملیں جس میں دس لاشیں وہ تھیں جن کو لاوارث قرار دے کر بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کے دفنا دیا گیا جبکہ 7 بلوچ شہید کیے گئے جس میں دوران حراست ایک بزرگ بلوچ کی شہادت بھی شامل ہے جسے فورسز نے7 مئی2016 کو جھاؤ سے حراست بعد لاپتہ کیا تھا جبکہ 14 افراد کے قتل کے محرکات سامنے نہ آ سکے۔

جنوری کے ماہ ریاستی عقوبت خانوں سے46 افراد بازیاب ہوئے۔ جس میں 2009 کا ایک لاپتہ شخص، 2015 کے چار، 2014 کے سات، 2016 کے چار، 2019 کے بارہ اور 2018 کے آخری مہینوں میں فورسز ہاتھوں لاپتہ ہونے والے 18 شامل تھے جوبازیاب ہوئے۔

دلمراد مراد بلوچ نے کہا ہے کہ جس طرح بلوچوں کو اٹھانے کے معاملے پر پاکستانی میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے خاموش رہتے ہیں اسی طرح بازیاب ہونے والوں کے مسئلے پر خاموش میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں نے چھپ سادھ لیا اور کوئی یہ سوال سامنے نہیں لاتا کہ یہ لوگ کس قانون کے تحت لاپتہ رکھے گئے ہیں ۔

دلمراد بلوچ نے کہا انسانی حقوق اورعالمی میڈیا کی خاموشی پاکستانی بربریت کو مزید تقوت پہنچا رہی ہے ۔ بلوچستان میں لوگوں کوحراست میں لے کر ماؤرائے عدالت قتل کرنا معمول بن چکی ہے ۔ اسی مہینے میں دس مسخ شدہ لاش بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بر آمد ہوئے اور ریاست پاکستان نے انہیں بغیر تحقیقات کے دفنا دیا۔ اس سے پہلے توتک سے بر آمد کئے گئے وہ ڈیڑھ سوسے زائد مسخ شدہ لاشیں بھی اسی طرح بغیر شناخت کے دفنا دئیے گئے ۔ وقتا فوقتا بلوچستان کے کئی علاقوں سے ایسی درجنوں نعشیں برآمد ہوئیں جنھیں شناخت کئے بغیر لاوارث قرار دیا گیا ۔اس سے لاپتہ افراد کے خاندانوں میں انتہائی تشویش پیدا ہوئی ہے۔

ان تمام واقعات کے باوجود بھی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی بلوچوں کے سامنے سوالیہ نشان ہیں۔

انہوں نے مزید کہاپاکستانی ریاست اورریاستی ادارے بلوچ نسل کشی کے واضح ہولناک پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور میڈیا کے مسلسل نظر انداز کرنے کی وجہ سے پاکستان اپنی جارحیت میں روزبہ روز اضافہ کررہاہے ۔

انہوں نے مزید کہا اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے صدر کی جانب سے حالیہ دورے میں بلوچستان میں انسانی بحران کو نظرانداز کرنا اپنے عہدے کے تقاضوں کی منافی عمل ہے جس سے گزشتہ دس سالوں سے اپنے پیاروں سے بازیابی کے لئے سراپااحتجاج لوگوں کوشدید مایوسی ہوئی ہے ۔

دل مرداد بلوچ نے کہا بلوچ نیشنل موومنٹ ذمہ دار عالمی اداروں سے مسلسل یہ اپیل کرتا آیا ہے کہ بلوچستان میں پاکستانی بربریت کی روک تھام کے لئے عالمی اداروں کی مداخلت ضروری ہوچکا ہے بصورت دیگر پاکستان اپنے مظالم اور بربریت کے سلسلے میں مزید اضافہ لائے گا جس سے بلوچ انسانی المیے میں مزید سنگین تر ہوگا ۔

دل مرادبلوچ نے کہا ہر مہینے بلوچستان میں پاکستانی بربریت اور ہولناک فوجی کاروائیوں کی دستاویزی رپورٹ لانے کا مقصد دنیا اور ذمہ دار عالمی اداروں کے سامنے یہ حقیقت عیاں کرنا ہے کہ پاکستان کس پیمانے پر بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں کررہاہے۔عالمی ادارے اگر بلوچستان میں اس بربریت اورانسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر اپنی ذمہ داریوں کااحساس کرکے عملی اقدام نہیں اٹھاتے تو پاکستان اسے استثنیٰ کے طورپر استعمال کرکے انسانی حقوق کے پامالیوں کے تاریخ میں ایک نئی ہولوکاسٹ درج کرے گا۔

جنوری 2019 کے مہینے کی تفصیلات دنوں کے حساب سے درج ہیں۔

1 جنوری
۔۔آواران کے علاقے مشکے اورضلع واشک کے علاقے راغے کے پہاڑی سلسلوں میں زمینی و فضائی فوجی آپریشن 7 روز سے جاری ہے زمینی مشکے اور راغے کے پہاڑی علاقوں میں دن کے وقت زمینی فوج کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بھی مدد حاصل ہے ۔۔
مشکے کے علاقوں کُلان ،گرؤ،زونگ،دار بند،کوہ راحت،کوہ اسپیت، میشتل راغے کی طرف بند کُنر،پیزگ، میں زمینی فوج کے ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹربھی آپریشن میں شامل ہیں۔
دوران آپریشن فورسز متعدد افراد حراست بعد لاپتہ ،جن میں سے چارافرادکی شناخت ہو گئی ہے۔
مشکے کے علاقے جیبری سے دو افراد بابو ولد ملا محمد حسین،راشد ولد سنگو جبکہ مشکے سے متصل علاقے رونجان سے دو بھائی ڈاکٹر محمد نور اور مراد علی ولد مرادکو فورسز نے دوران آپریشن لاپتہ کر دیا ہے۔

۔۔۔پاکستانی فوج کے ہاتھوں 18دسمبر 2018آواران کے علاقے مالار کرک ڈل میں بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے لیبر و ماہیگیر سیکریٹری چیف اسلم بلوچ کے گھر پر چھاپے دوران حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے دلدار ولد قادر بخش سکنہ مالار کرک ڈل حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔ یاد رہے دلدار کے ساتھ حراست کے بعد لاپتہ ہونے والا صدیر ولد گمشاد تاحال لاپتہ ہیں۔

۔۔۔ تربت کے علاقے دشت کے علاقے جتانی بازار، پٹوک اور ہاہوٹ چات میں فوج نے نئی چوکیاں قائم کرکے تمام آمدورفت کے تمام راستوں پہ سخت چیکنگ بھی جاری ہے ۔

۔۔۔ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے تربت کے علاقے ہوشاپ میں دوکمسن بچے رجب ولد روزی اور بہار ولد شہسوار سکنہ ہوشاپ کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

2 جنوری
۔۔۔کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے میر ہزار محمد شہی اور سکندر علی ہلاک ۔
۔۔۔ 19دسمبر 2018کو گوادر کے علاقے نیا آباد سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے نوید ولد حاجی نصیر سکنہ شولیگ دشت آج گوادر سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا کچھ مہینے پہلے گوادر کے علاقے فقیر کالونی سے حراست کے بعد لاپتہ ہونے جام کریم ولد جام موسیٰ سکنہ دشت شولیگ گوادر سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔

۔۔۔پاکستانی سیکورٹی فورسز نے آواران کے علاقے تیرتیج میں سیٹھ محمد علی ولد عبدو کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ، سیٹھ محمد علی اپنے ٹرک کے ذریعے کراچی سے واپس آرہے تھے کہ قابض فوج نے تیرتیج کے مقام پر ٹرک ڈرائیور اور کلینر سمیت حراست میں لے لاپتہ کردیا بعد میں کلینر اور ڈرائیور کو چھوڑ دیا
۔۔۔ ضلع کیچ کے علاقے مند سے قابض فورسز نے محمد عظیم ولد پھْلان سکنہ گوبردکوحراست میں لاپتہ کیاگرفتاری کے وقت محمد عظیم اپنے اپنے کھیتوں میں کام کررہا تھا۔

3 جنوری
ضلع لسبیلہ کے ساحلی علاقے گڈانی میں قابض فورسز نے آپریشن کیا جس سے معمولات زندگی معطل،لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔
فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لے لیا ہے۔
یہ آپریشن بلوچستان کے دیگر علاقوں سے فوجی بربریت کی وجہ سے نقل مکانی کرکے یہاں بسنے والے لوگوں کے خلاف کیاگیا بلوچستان میں فوجی بربریت کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے گھر با ر چھوڑ کر بلوچستان سمیت کراچی اور اندرون سندھ کے مختلف علاقوں میں پناہ گزین کی زندگی گزاررہے ہیں اور اکثروہاں بھی پاکستانی سیکورٹی فورسز اپنے ظلم و جبر کا نشانہ بنارہے ہیں۔

۔۔۔بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قابض فوج کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے تین مرکزی رہنما بازیاب ہو گئے۔
بی ایس او کے چئیرمین ظریف رند بلوچ، سیکریٹری جنرل چنگیز بزدار بلوچ اور سیکریٹری اطلاعات اورنگزیب بلوچ کو فوج نے کوئٹہ سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا

4 جنوری
۔۔۔بلوچستان کے علاقے ناگ میں قابض فوج کے پھینکے گئے کھلونا بم پھٹنے سے تین بچے شہید اورایک زخمی فوج نے دیہی علاقے میں کھلونے شکل کے بم آبادی کے قریب پھینکے تھے جسے بچوں نے کھلونا سمجھ کر کھیلنا شروع کیا اس حادثے میں
ناگ کے علاقے کلی بہرام میں 7سے 10سال کے عمر کے محمدعمر ،محمد احسان بی بی عاصمہ اور لال بی بی شدید زخمی ہو گئے جو بعدزخموں کی تاب نہ لاکر شہید ہوگئے جبکہ لال بی بی شدید زخمی ہیں ۔

۔۔۔کل رات سے بلوچستان کے ساحلی شہر گڈانی فوجی محاصرے میں ہے ابھی تک متعدد افراد کو سیکورٹی فورسز نے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ۔ گڈانی کے علاقے نیو ٹاؤن کل رات سے فوجی محاصرے میں ہے ابھی تک متعدد کو افراد کو سیکورٹی فورسز نے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا حراست بعد لاپتہ ہونے والوں کا تعلق آواران سے ہے

۔۔۔تین سال قبل پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے شخص کی لاش بر آمد، 7مئی 2016کو جھاؤ کے علاقے ڈولیجی سے قابض فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ ہونے الہی بخش ولد پیرجان سکنہ جھاؤ ڈولیجی کو دوران حراست شہید کرکے کل رات اس کی لاش بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی میں پھینک دیا گیا۔

5 جنوری
۔۔۔ تربت کے علاقے ہوشاپ دمب میں قابض فورسز نے گھر چھاپہ مارکر کمسن بچے عارف ولد شاکرسکنہ دمب ہوشاپ کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا

۔۔۔ 10دسمبر 2018کو دشت کے علاقے دورو سے آرمی چیک پوسٹ سے حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے بشیر ولد حاجی حمزہ سکنہ شولیگ دشت حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ۔

۔۔۔ ضلع واشک کے علاقے راغے پیزگ میں پاکستانی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں اوربلوچ جہدکاروں سرمچاروں کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی۔جس میں سرمچار عبدالکریم عرف احسان ولد کمال سکنہ راغے پیزگ شہید ہوئے۔ ۔

6 جنوری
۔۔۔ خضدار میں قابض فورسز نے 29دسمبر2018کو باغبانہ سے خضدار جاتے ہوئے ایک ڈاکٹر محمدآصف ولد عبدالکریم زہری کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

۔۔۔ فوج کے ہاتھوں 10دسمبر 2018کو مند کے علاقے کوہ ڈگار سے حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے دو سگے بھائی ملا خلیل اور حلیم ولد عبد الرحمان سکنہ کوہ ڈگار مند دو دن قبل حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔

۔۔۔۔ فوج نے دشت کاشاپ کے علاقے گؤرکی سنٹ میں ایک نئی چوکی قائم کی یاد رہے پچھلے نو دنوں میں سیکورٹی فورسز کا یہ ساتواں چوکی ہے جو اس نے دشت کے مختلف علاقوں میں قائم کئے ہوئے ہیں

۔۔۔۔نامعلوم افرادنے فائرنگ کی فائرنگ سے سردار حیات خان ساجدی کے چھوٹے بھائی حفیظ ساجدی کو ہلاک کردیا تاہم ابھی تک ہلاکت کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے۔

7 جنوری
۔۔۔آواران کے علاقے جھاؤ میں قابض فوج کا آپریشن ، زیرکانی سے دو درجن سے زائد لوگوں حراست میں لے کر کیمپ منتقل کیاگیا جہاں ان پر شدید تشدد کیا گیا پھر لوگوں لوگوں کو زخمی حا لت میں چھوڑ دیا گیا جن میں سے عید محمد ولد لعل بخش کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور اس کے دونوں گردوں نے کام کرنا چھوڑ دی ہے۔

یاد رہے 17فروری2017کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے اسی گاؤں میں دوران آپریشن دو عمر رسیدہ شخص دوست محمد اور محمد عمر کو حراست میں لے کر دوران حراست شہید کرکے ان کی لاشیں ورثا حوالے کیا تھا۔

۔۔۔ خضدار کے تحصیل گریشگ کے مختلف علاقوں میں آپریشن کیا اور دوران آپریشن دو سگے پیرجان اور زباد جان ولد جنگیان کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔
قابض فورسز نے گریشگ کے مختلف علاقوں اسپکنری اور سینکری میں گھر گھر چھاپہ مار کر خواتین اور بچوں کو شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایااورگھروں میں توپھوڑ کی ہے۔
یاد رہے پچھلے ایک ہفتے سے سیکورٹی فورسز کے جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشنوں میں تیزی دیکھنے کو آرہی ہے دشت ، مشکے اور خضدار کے مختلف علاقوں میں فوجی کی بڑی تعداد میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں اور دوران آپریشن ابھی تک متعدد لوگوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔

۔۔۔کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس سے لاپتہ شوکت علی ولد صالح محمد سرپرہ سکنہ موسیٰ کالونی کوئٹہ بوری بند لاش برآمد ہوئی وہ 6 جنوری کو گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ تھا ان کا آبائی علاقہ کردگاپ ضلع مستونگ ہے۔شوکت علی ڈگری کالج کا طالب علم تھا اور یاسین ہسپتال کوئٹہ میں بطور ڈسپنسر کام کررہا تھا

8 جنوری
۔۔۔کوئٹہ اورگردونواح سے دس مسخ شدہ لاشیں برآمدہوئیں جو ممکنہ طورپر بلوچ لاپتہ افراد کی ہیں لیکن قابض ریاست نے انہیں لاوارث قرار دے کر ایدھی ایمبولینس سروس کے ذریعے دشت کے قبرستان میں دفنا دیا گیا۔

9 جنوری
۔۔۔۔19 دسمبر 2017 کو مند کے علاقے مھیر سے قابض فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے سدیر احمد ولد محمد ایوب بلوچ بازیاب ہوگئے۔

۔۔۔ خضدار کے علاقے گریشگ سے قابض فوج نے فضل ولد قادر بخش سکنہ سہر دپ گریشگ کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

۔۔۔ مستونگ سے جولائی 2016قابض فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے سابق ریٹائرڈ ڈی ایس پی عبد الکریم بنگلزئی حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔

۔۔۔ کیچ کے علاقے کولواہ کے مختلف علاقوں جت، بلور، شاپکول اور تنزلہ کے پہاڑی علاقوں میں قابض فورسز آپریشن کررہے ہیں جس میں فورسز کی زمینی فوج بڑی تعداد میں حصہ لے رہی ہے جبکہ انہیں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بھی کمک حاصل ہے۔
۔۔۔کوئٹہ کے علاقے سریاب مل کالونی سے 22 سالہ نوجوان شناخت محمد عارف ولد لطیف کی لاش برآمد ہوئی ہے جسے گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔قتل کے محرکات معلوم نہ ہوسکے ۔

10 جنوری
۔۔۔ فوج نے پنجگور کے تحصیل پروم گومازی میں چھاپہ مارکر امین ولد عیسی ،جمعہ ولد عیسی ،ظہور احمد ولد عرض محمداور درمان ولد یار محمد کویہاں تشدد کا نشانہ بناکر ان کے ہاتھ پاؤں باندھنے کے بعد آرمی کیمپ منتقل کیا۔ مطابق دوران چھاپہ خواتین اور بچوں کو شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ؂

۔۔۔ فورسز کے ہاتھوں 28نومبر 2018کو تربت کے علاقے پیدراک سولانی سے دوران آپریشن حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے مجید ولد مہراب سکنہ سولانی حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔
یاد رہے 28نومبر2018کوتربت کے علاقے گوارکوپ ،پیدراک ، جمک ، نیامی گلک, سری کلگ،اور سولانی میں سیکورٹی فورسز نے آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے 16افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا

۔۔۔خضدارکے علاقے گزیشہ میں قابض فورسز نے آپریشن کرکے بیس افراد کو حراست میں لے کر کیمپ منتقل کیا اور فوج نے ان تمام افراد سے موٹر سائیکل چھین کرپہاڑی سلسلوں میں آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔
سینکری گریشگ میں آپریشن کے دوران ایک نوجوانوں کو اٹھانے پر خواتین نے مزاحمت کی تو فوج نے ان خواتین پر تشدد اورفائرنگ کی ،اس کے بعد ناصر ولد فقیر سکنہ سینکری کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا۔
گریشگ کے علاقے زباد ،لوپ ،سہر دپ،باہڑی میں آپریشن ابھی تک جاری ہے اور آج صبح بدرنگ گریشگ سے حراست میں لئے گئے بیس افراد کوتشددکے بعد رہا کیا گیاہے جب کہ ان تمام لوگوں کے موٹر سائیکل آپریشن میں استعمال کئے جارہے ہیں۔

۔۔۔ ضلع خاران کے نواحی علاقے لجے ،توک میں قابض فورسز نے بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کردیا۔

11 جنوری
۔۔۔ فورسز کے ہاتھوں مستونگ ایک سال چھ ماہ قبل مستونگ کے علاقے کونگڑھ سے اغواۂوکر لاپتہ ہونے والا لیویز اہلکار عبیداللہ ولد مستری نوراللہ لہڑی آج مستونگ کے علاقے پڑنگ آباد سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔

۔۔۔خاران میں قابض فورسز کے ساتھ جھڑپ میں دوجہدکار نوراحمد ساسولی عرف نجیب اور شہزاد بلوچ عرف آصف مادرِ وطن کی مٹی کا قرض ادا کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے وہ بی ایل اے کے سرمچا ر تھے ۔

۔۔۔خضدار کے علاقے گریشگ بدرنگ سے پاکستانی فوج نے ایک نوجوان امین ولد محمد نصیب کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

12 جنوری
۔۔۔ پانچ سال قبل خضدار کے تحصیل زہری سے قابض فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے قبائلی رہنما میر عرفان زہری اور میر فرہاد زہری آج کوئٹہ سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے اس کے ساتھ خضدارسے ایک سال قبل حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے ظہور احمد زہری بھی حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں

۔۔۔پنجگور:قابض فورسز نے سات افراد منیر ولد نیک سال سکنہ بالگتر تش ،غفورولد آدم، محمد جان ولد جمعہ ،عوض ولد جمعہ ، محمدولد رستم اورانور ولدکریم بخش سکنہ کیلکور چوٹین کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

۔۔۔پنجگور کے علاقے گرمکان سے قابض فورسز نے گرمکان نوک آباد سے تنزیل ولد محمد اقبال کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

13 جنوری
۔۔۔ قابض فورسز کاشہیدغلام مصطفیٰ اور بلوچ زبان کے معروف گلوکار استاد منھاج مختار کے گھروں پر چھاپہ لگایااورگھرمیں موجود لوگوں کو حراساں کیا۔

14 جنوری
۔۔۔ تمپ کے علاقے تگران وکائی کے مقام پر پاکستانی فوج نے نئی کیمپ قائم کی ہے۔
اور آمد و رفت کے تمام راستوں پر سخت چیکنگ جاری ہے اور علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی بھی فضائی گشت ۔

۔۔۔ کیچ کے علاقے زامران جالگی میں قابض فورسز نے آپریشن کیا اوریہاں پہلے بھی متعدد بار آپریشن کرکے ان ڈپوؤں کو نذرآتش کرچکاہے۔جالگی سرحدی علاقہ ہے جہاں تیل کے سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے چھوٹے ڈپوقائم ہیں اور ہزاروں لوگوں کی روزگار وابستہ ہے ۔

تربت کے علاقے ہوشاپ میں 13جنوری2019کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے اسکول ٹیچر صغیر ساجن ولد محمد مراد سکنہ ہوشاپ گریڈ بازار کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ۔ صغیر بالگترمیں سکول ٹیچر ہے جو ہوشاپ سے نکل بالگتر کو اپنے ڈیوٹی پر جارہاتھا

15 جنوری
۔۔۔قابض فورسز کے ہاتھوں کوئٹہ میں 5 اگست 2015 کو کوئٹہ سے لاپتہ ہونے والے نوجون صدام حسین بنگلزئی اورچار سال قبل لاپتہ ہونے والے شہزاد قمبرانی بھی بازیاب ہوکر اپنے گھر کو پہنچ گئے ہیں۔

۔۔۔خاران سے قابض فورسز کے ہاتھوں2فروری 2017کوحراست بعد لاپتہ ہونے والا عامر بلوچ بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔

عامر بلوچ کی کمسن بہن انسہ بلوچ اپنے بھائی کی بازیابی کے لئے کئی مہینوں سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں اپنے بھائی کی بازیابی کے لئے سراپااحتجاج تھی۔انسہ بلوچ کی جدوجہد کو مختلف حلقوں کی جانب خوب سراہنا ملی اورانہیں ’’تمام لاپتہ کی بہن ‘‘بھی کہاجاتارہا۔

۔۔۔ کیچ کے علاقے تمپ میں قابض فورسز نے چھاپہ مارکر دو سگے بھائی واجو رحمت اور ایوب ولد حاجی ایوب کو حراست میں لے کر بعد ازاں بالاچ کو چھوڑ دیا گیا واجو رحمت تاحال لاپتہ ہیں

۔۔۔ تمپ کے علاقے بند گواز میں قابض فورسز نے گراؤنڈ پر چھاپہ مارکر چھ افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ،گراؤنڈسے حراست بعد لاپتہ ہونے والوں کی شناخت عزیر ولد ماسٹر زبیر ،واجو ولد تاج محمد،سہیل ولد یونس ،اسیر ولد ماسٹر ارشاد،زحیم ولد پٹھان اور سجاد ولد بشیر کے ناموں سے ہوگیا ،جن میں بعد ازاں پانچ افراد کو چھوڑ دیا اور سجاد ولد بشیر تاحالاپتہ ہیں

17جنوری
گوادرکے علاقے مونڈی سے قابض فورسز نے راشد ولد عبدالرسول حراست بعد لاپتہ کیا راشد ایک خلیجی ملک میں مزودری کرتا تھا اور چند دن پہلے اپنے خاندان سے ملنے آیا تھاجبکہ محمد ایوب ولد بشیر احمد چار سال قبل حراست سے بعد لاپتہ ہونے والا بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ۔

18 جنوری
۔۔۔بالگتر گوری سے دو سگے بھائی سمیت چار افرادقابض فورسزکے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ، پاکستانی فوج نے گوری میں چھاپہ مارکر چار افرادبشام ولد جہانگیر، شفیع ولدجہانگیر،خمار ولد لقمان اور عزت ولد دلدار کو ان کے گھروں سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا ہے۔

۔۔۔خضدار شہر کے مختلف علاقے نیواڈہ ،کنڈ،اور جعفر آباد میں قابض فوج نے آپریشن کاکرکے گھر گھر تلاشی کے دوران کئی گھروں سے قیمتی سامانوں کا صفایا کردیا۔

۔۔۔گوادر میں پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں نے ایک مشترکہ آپریشن میں نیا آباد سے چار افراد کو گرفتار کرکے جبری طور پرلاپتہ کردیاہے۔

گوادر سے قابض فوج کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کی شناخت واجو ولد سوالی سکنہ زرین بگ دشت ، ابراہیم ولد وشدل سکنہ سوہی دشت ، الطاف بلوچ اور انصاف بلوچ سکنہ گوادرکے نام سے ہوگئی الطاف خود پولیس میں ملازم ہے۔ واجو اور ابراہیم کا تعلق دشت سے ہے جہاں وہ آپریشن اور گرفتاریوں سے مجبور ہوکر مذکورہ خاندان گوادر منتقل ہوگئے تھے ۔

19 جنوری
۔۔۔خضدار کے علاقے گریشگ سے وحید ولد شاہ مرادسکنہ مرہ گریشگ اور حفیظ ولد دلمراد سکنہ سہر کرودی کوپاکستانی سیکورٹی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیاہے۔

۔۔۔کیچ کے علاقے مند بلوچ آبادسے قابض فوج نے یاسین بلوچ کوحراست میں لے کر لاپتہ کیا ۔

۔۔۔ آواران کے تحصیل مشکے کے گاوں کلر کے رہائشی بلوچ لیکچرار خالد نوید ولد جان محمدفورسز کے حراست سے بازیاب ہوگئے جنہیں 12 اور 13 مارچ 2018 کی درمیانی شب لس بیلہ سے اس کی رہائش گاہ سے قابض فوج نے حراست میں کر لاپتہ کیاتھا۔ خالد نوید ڈگری کالج بیلہ میں لیکچرار ہے۔

۔۔۔ خضدار کے علاقے گریشگ بد رنگ میں قابض فورسز نے چھ افراداحمد جان ولد زہری خان، واحد ولد زہری خان ،ایاز ولد فیض ،برکت ولد فیض ،خالدولد ملا حسن ،اور عبدالواحد ولد بازید سکنہ بدرنگ گریشگ کوحراست میں لے کر لاپتہ کیا۔

۔۔۔ضلع آواران سے پاکستانی فوج نے تیرتیج سے چار افرادمراد جان ولد عزیز،اشرف ولد مراد بخش، چار شمبے ولد مراد بخش،اور بشیر نامی شخص کو گرفتاری بعد آرمی کیمپ منتقل کر دیا۔

ضلع چاغی سے 4 سال قبل ضلع چاغی کے علاقے سیندک سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے 2 افراد دستگیر ولد حبیب اور کریم ولد عیسی بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ۔

۔۔۔پسنی و گوادر سے لاپتہ 4افراد بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے۔ ضلع گوادرکے علاقے اورساحلی شہرپسنی سے 22 مارچ 2017 کو وارڈ نمبر6سے پاکستانی فورسزکے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے آصف ولد نذر گذشتہ روز بایاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔یکم اپریل 2017 میں پسنی وارڈ نمبر6سے قابض فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے خالد ولد آصف گذشتہ روز بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔

۔۔۔ گوادر سے چار سال قبل قابض فوج کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے ذاکر داد ولد اکبر داد محمد رہائشی کپٹن مراد بکش وارڈ گوادراور ڈیڑھ سال قبل گوادر کے علاقے سربندکے رہائشی عبدالستار ولد ابراھیم ریاستی عقوبت خانوں سے بازیاب ہوکر اپنے اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

۔۔۔مچھ سے میر گورگین دھانی 10 سال بعد بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔جسے 3جنوری 2009 کو قابض فورسز نے حراست میں لیکرلاپتہ کیاتھا۔

فوج کے ہاتھوں سال سے لاپتہ مہران بلوچ ،چھ سال قبل لاپتہ ہونے والء خان محمد بگٹی اورتیرہ مہینے قبل ارشد موسیانی سکنہ خضدار بازیاب ہوکراپنے گھر پہنچ گیاہے۔

۔۔۔ ضلع کیچ میں تمپ کے علاقے نذر آباد میں قابض فورسز نے عبدالرسول کے گھر پر چھاپے کے دوران ان کے 17 سالہ بیٹے جعفر کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔ فورسز نے گھر میں موجود افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

۔۔۔ تربت کے علاقے تجابان سے 27,28دسمبر 2018کے درمیانی شب کو پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے امیر بخش ولد زباد سکنہ تجابان سنگ آباد حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔

۔۔۔کولواہ کے علاقوں کنچتی،نلی اور گرد نواع کے علاقوں میں پاکستانی زمینی فوج آپریشن کررہاہے اوربڑی تعداد میں پہاڑی علاقے میں داخل ہورہا ہے ،فورسز کے ساتھ اونٹوں سمیت گدھے بھی بڑی تعداد میں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔ تربت کے علاقے آبسر آسکانی میں گذشتہ روزپاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے ایک گھر پر چھاپہ مارکرخواتین و بچوں کو تشدد اور ہراساں کرکے گھر کی قیمتی اشیا لوٹ لئے اور ایک نوجوان کم ولد گنگزار کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

21 جنوری
۔۔۔ضلع تربت سے 19 نومبر2016 کوگیبن میں دوران آپریشن حراست بعد لاپتہ ہونے والے شعیب ولد سبزل سکنہ گیبن بلوچ آباد فورسز کی حراست سے بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گیا۔

۔۔۔تربت سے جولائی 2017کوضلع کیچ کے علاقے شاپک میں پاکستانی قابض فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے راشد رضا ولد سخی دادرہائشی شاپک ضلع کیچ دیڑھ سال سے ریاستی اذیت خانوں میں تشدداور ایزارسانی کے بعد گذشتہ دنوں بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔

ادھر تربت کے علاقے تجابان سے 27,28دسمبر 2018کے درمیانی شب کو قابض فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے امیر بخش ولد زباد سکنہ تجابان سنگ آباد حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ۔

۔۔۔آواران کے علاقے مشکے سے قابض فورسزنے عبدالمجید ولد عبدالکریم سکنہ دائرہ کمبی کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔

22 جنوری
۔۔۔ ضلع سبی کے علاقے سبز ریک میں فورسز نے آپریشن کے دوران گھروں پر چھاپہ مار کر 4 افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا،
فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے دو افراد کی شناخت جمعہ ڈومکی اور حیردین ڈومکی کے ناموں سے ہوئی، باقی دو افراد کی شناخت تا حال نا ہوسکی ہے۔
۔۔۔تربت 17مارچ 2017کو تربت سے قابض فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ ہونے والا حاتر ولد مرزا سکنہ آبسر تربت آج حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔
۔۔۔جولائی 2018کو پاکستانی قابض فورسز کے تربت کے علاقے پیدراک درمکول سے حراست کے بعد لاپتہ ہونے والا ہمراز ولد اللہ بخش سکنہ درمکول پیدراک آج حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔

۔۔ فورسز خضدار کے علاقے گریشگ سے خیر محمد ولد محمود اوریٰسین ولد محمد ہاشم سکنہ بدرنگ گریشگ اور کریم جان اور گوہر خان سکنہ کو چہ گریشگ کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

23 جنوری
۔۔۔ آواران کے علاقے ماشی سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ امجد ولد غلام حیدر آواران آرمی کیمپ سے ایک سال بعد بازیاب ہوگیا
۔۔۔ 5 مارچ 2015 کو ماشکیل سے لاپتہ والا کبیر جان ریکی بھی آج بازیاب ہو گئے۔
کبیر بلوچ اپنے بھائی وزیر بلوچ کے ہمراہ فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے وزیر بلوچ تاحال بازیاب نہ ہوسکے 150
۔۔۔ مند سے 30 ستمبر 2018 کو لاپتہ ہونے والا فدا ولد محمود آج بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے 150
۔۔۔آواران پیراندر میں فورسز نے گھروں پر چھاپہ مارکر مکینوں کو جہدکاروں سے وابستگی رکھنے کی صورت میں لاپتہ کرنے کی دھمکی دی۔
آواران پیراندرمیں پاکستانی فوج نے علاقے کا محاصرہ کرکے چادرو چاردیواری کی تقدس کوپامال کیا اور گھروں پرچھاپہ مار کر تلاشی لی۔خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر ہراساں کیاگیا۔

۔۔۔ ضلع کیچ کے پی آئی اے اسپتال سے قابض فورسز نے وحید سکنہ گوارگو پنجگو ر کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ فورسز نے وحید کو حراست میں لینے کے وقت تشدد کا نشانہ بنایاجس سے وہ شدید زخمی ہوگئے تو فوج نے پی آئی اے ہسپتال میں ان کے زخموں پرپٹی باندھی اوراس کے بعد ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر نامعلوم مقام منتقل کردیا۔

24 جنوری
۔۔۔آواران کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ 3 افرادریاستی اذیت خانوں سے بازیاب ہوکراپنے گھر پہنچ گئے۔
جھاؤ نوندڑہ بدرنگ کے رہائشی صوالی ولد ریکو 3 سال بعد گزشتہ روز 23 جنوری کو آواران کے آرمی کیمپ سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں۔
آواران پیراندر لوپ کے 2رہائشی گل محمد ولد پیر محمد اور دادو ولد بابو بھی گزشتہ روز آواران کے آرمی کیمپ سے باز یاب ہوکراپنے گھر پہنچ گئے ہیں کہ گل محمد کوقابض فورسز نے 29 جون 2018 کوپیر اندر سے حراست میں لیکر جبری طور پرلاپتہ کیا تھا۔

۔۔۔پنجگورتسپ قابض فوج نے یوسف ولد یونس کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

25 جنوری
نال گروک ضلع خضدار سے پاکستانی فوج نے تمر ولد محمد حیات، سفر ولد محمد رمضان، بہادر ولد محمد رمضان، لواری ولد شئے مرید اور ولی محمد کو اغوا اور لاپتہ کیا۔
۔۔۔ خضدارکے علاقے گریشگ اور جھاؤمیں قابض فورسز نے بڑے پیمانے پرآپریشن شروع کردی ہے ۔

۔۔۔گریشگ اور نال کے راستے سے فوج بڑی تعداد ٹرک ،بکتر بند اور موٹرسائیکل کے ذریعے جھاؤکے مشرقی اور شمال مشرقی پہاڑی سلسلوں میں فوج داخل ہوکر آپریشن کررہاہے ۔
۔۔۔قابض پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ ہونے والا شخص بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔21جنوری2015کو نوشکی سے حراست کے بعد لاپتہ ہونے والا محمد یوسف حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔

۔۔۔ قلات کے علاقے گرانی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے میاں بیوی 5 سالہ بچی کو قتل کردیا ہے۔
قتل کے وجوہات معلوم نہ ہوسکے۔

26 جنوری
آواران : کولواہ کینچی میں آپریشن جاری،بزدادکلی میں متعدد گھر نذر آتش
ضلع آوارن کے علاقے بزداد کلی میں آج پاکستانی فورسز نے آپریشن کرکے گھر گھر تلاشی لی۔
دوران آپریشن فورسز نے گھروں میں لوٹ مار کرکے قیمتی اشیا لوٹ لئے جبکہ کئی گھروں کو نذر آتش بھی کردیا۔
علاقے میں موجود جھاڑی نما چھوٹے چھوٹے پیش کے پیڑوں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔
جبکہ کولواہ کینچی میں آپریشن جاری ہے جہاں پورا علاقہ فورسز کے محاصرے میں ہے۔

۔۔۔گوادرمسانی قابض فوج نے رجب ولد فتح محمدکوحراست میں لے کر لاپتہ کیا۔
۔۔ ۔فوج کے ہاتھوں لاپتہ ستار ولد سخی داد سکنہ لوپ بالگتر ضلع کیچ جنہیں 22دسمبر2018کو فوج کے ایک آپریشن کے دوران دیگر دس لوگوں کے ہمراہ گرفتار کرکے لاپتہ کیاتھاآج کیچ سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیاہے لیکن اسی آپریشن میں لاپتہ کئے جانے والے دیگر دس لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں۔

۔۔۔۔خضدارکے علاقے گریشگ میں فوجی آپریشن ،بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ،گھر نذرآتش ، پاکستانی فوج نے خضدارکے گریشگ اور گردونواح میں آپریشن کے دوران متعدد لوگوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے اور کئی لوگوں کے گھروں کو نذرآتش کردیاہے۔ گریشگ کے دور درازعلاقے لوپ،نارک اورباہڑی میں گزشتہ دو دنوں سے فوجی آپریشن جاری ہے اور فوج نے متعددافراد کو حراست میں لینے کے لاپتہ کردیاہے جبکہ لوپ اور نارک میں ایک درجن سے زائد گھروں کونذرآتش کردیاہے۔
لاپتہ ہونے والوں میں چندلوگوں کا شناخت ہوا ہے جن میں سمیع اللہ ولد محمد ،تمر ولد محمد حیات، سفر خان ولد محمد رمضان، بہادر ولد محمد رمضان، مہیم خان ولد گوہر خان، لواری ولد شے محمد، اور ولی محمد کے نام شامل ہیں۔ تاہم دیگر افراد کی شناخت نہ ہو سکی۔
فوج نے باہڑی کے مقام پرآبادی کے بیچ ایک نئی فوجی کیمپ قائم ہے۔

واضح رہے کہ لوپ،نارک اورباہڑی گریشگ سے متصل دوردرازاورپہاڑی علاقے ہیں جہاں زیادہ تر مالدار پیشہ لوگ آباد ہیں

27 جنوری
۔۔۔تربت سے قابض فورسز 2 فراد صغیر احمداور نویدکوحراست میں لے کر لاپتہ کردیاہے۔
۔۔۔۔ دشت شولی کے رہائشی نسیم ولد عبدالعزیز کو اس وقت فورسز نے چگلی سنٹ چیک پوسٹ پر روک کر حراست میں لیا جب وہ خواتین و بچوں کے ہمراہ گوادر شہر جارہے تھے۔
۔۔۔قابض سیکورٹی فورسز نے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے علاقے مونڈی میں گزشتہ روزگھر پر چھاپہ مارکر امام ولد حبیب سکنہ دشت شولیگ کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔
۔۔قابض فورسز نے گوادر کے علاقے مونڈی میں چھاپہ مارکر نسیم ولد عبدالعزیز سکنہ دشت شولیگ کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

۔۔ وشبود پنجگور نامعلوم افرادکے فائنرنگ سے ناصر ولد لقمان ہلاک ہوگئے تاہم قتل کے محرکات معلوم نہ ہوسکے۔

28 جنوری
۔۔۔ پنجگورپاکستانی فورسز نے شہید ٹھیکداریونس کا بیٹا حراست کے بعد لاپتہ کردیا۔
چار دن قبل پاکستانی فورسز نے پنجگور سے شہید ٹھیکدار یونس کے بڑے بیٹے یوسف سکنہ تسپ پنجگورکو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

۔۔۔کیچ قابض فورسزنے طالب علم مالک ولد محمد سکنہ کوہاڈ کو نظر آباد سے دوران امتحان اسکول پر چھاپہ مارکرکو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔
۔۔۔ دشت باڈری علاقے سیسدی میں پاکستانی فورسز نے چھاپہ مارکر غنی ولد عباس کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔
غنی کو اس سے پہلے بھی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا جو کئی مہینوں تک حراست میں رہنے کے بعد بازیاب ہوا تھا۔

۔۔ پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ ہونے والا شخص بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔
28نومبر2018کو پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں تربت کے علاقے پیدراک سولانی سے حراست کے بعد لاپتہ ہونے والا مراد ولد بائیان سکنہ سولانی گورکوپ حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔
یاد رہے 28نومبر کو پاکستانی فورسز نے تربت کے علاقے پیدراک ،نیامی کلگ ،سری کلگ ،گورکوپ اور سولانی سے پاکستانی فورسز نے 16افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیاتھا جن میں آٹھ افراد بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں اور آٹھ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

۔۔۔ پاکستانی فوج کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے چھ افراد بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔
پاکستانی فوج کے ہاتھوں 22دسمبر 2018کو حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے لیاقت ولد گرکو،پولات ولد جنگیان،دولت ولد فقیر ،شاہ جان ولد توطا،اسماعیل ولد صاحب داداور18جنوری 2019کو بالگتر کے علاقے گوری سے حراست میں لے کر لاپتہ ہونے والاعزت ولد دلدارآج حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔

یاد رہے 22دسمبر کو پاکستانی فورسز نے تربت کے علاقے بالگتر لوپ میں آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے بالگتر لوپ سے نوافراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا جن میں ایک شخص پہلے اور پانچ افراد آج بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں اور عیسیٰ ولد محمد ،روستم ولد قادربخش اور نوربخش ولد بلوچ خان تاحال لاپتہ ہیں۔
۔۔۔۔ 18جنوری 2019کو بالگتر کے علاقے گوری سے عزت ولد دلداد اورایک ذہنی معذور شفیع ولد جہانگیر کو گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کیاتھا عزت آج بازیاب ہوگیاہے جبکہ ذہنی معذور شفیع تاحال لاپتہ ہیں۔

29 جنوری
۔۔۔۔ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے دشت میں سیکورٹی فورسز کا سرچ آپریشن۔
ایک شخص حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ۔ 28نومبر 2018کو تربت کے سولانی پیدراک سے حراست سے بعد لاپتہ ہونے والے مراد ولد بائیان سکنہ سولانی بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ۔
۔۔۔آٹھ افراد حراست سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔ 22دسمبر2018کو تربت کے علاقے بالگتر لوپ سے حراست سے بعد لاپتہ ہونے والے لیاقت ولد گرکو،پولات ولد جنگیاں ،دولت ولد فقیر ،شاہ جان ولد توتا،اسماعیللد صاحب داد اور 18جنوری 2019کو حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے عزت ولددلداد بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔

۔۔۔ 26جنوری2019کو حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے یونس ولد زہری اور راشد ولد پھلان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے

30جنوری
۔۔۔کوئٹہ سے لاپتہ ہونے والے نیوروسرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل بازیاب ہوکرگھر پہنچ گئے ہیں۔نیوروسرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل کو 13دسمبر کو کوئٹہ سے اغوا کرلیاگیاتھا۔

31 جنوری
۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ مشکئی میں پاکستانی فوج نے سولو ولد بابو، ملا رشید ولد کمالان، قمبر ولد یوسف، منیر ولد ولی محمد، حاصل ولد موسیٰ، واہگ ولد موسیٰ، بشیر ولد قادر بخش، سبزل ولد قادر بخش کو اغوا بعد لاپتہ کیا ۔

۔۔۔ضلع کیچ کے مختلف علاقوں ہوشاپ اور گور کوپ کے درمیانی علاقوں میں فوجی آپریشن شروع کردیاآپریشن میں زمینی فوج بڑی تعداد میں حصہ لے رہی ہے جبکہ انہیں فضائی کمک بھی حاصل ہے۔
فورسز کی ایک بڑی تعداد نے گذشتہ رات ہوشاپ سے نکل کر تلسر اور گودّر کے علاقوں کو مکمل گھیرے میں لے لیاہے ۔

۔۔زامرن،نامعلوم مسلح افراد کاخونریز حملہ دو سگے بھائی سمیت پانچ افراد ہلاک ، زامران کے علاقے سرکیزہ میں نامعلوم مسلح افراد کاخونریز حملہ دوسگے بھائی سمیت پانچ افراد جان بحق ہوگئے ہیں جان بحق ہونے والوں کا شناخت اسماعیل ولد غلام محمد ،شہداد ولد بہرام ،نواز ولد نظر سکنہ پروم رحمدل اور مصطفی ولد مراد سکنہ پنجگور کے ناموں سے ہوگیا ہے۔