اورناچ: فورسز کے ہاتھوں 3 افراد حراست بعد لاپتہ

81

اورناچ سے فورسز کے ہاتھوں 3 افراد حراست بعد لاپتہ، خاران سے ملنے والے لاش کی شناخت ہوگئی۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے اورناچ سے فورسز نے تین افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام منتقل کردیا جبکہ ضلع خاران سے ملنے والے لاش کی شناخت ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق ضلع خضدار کے علاقے اورناچ سے آج بروز پیر تین افراد عبداللہ جان، عبید اور ملا خان محمد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پے منتقل کردیا ہے۔

دریں اثناء ضلع خاران سے گولیوں سے چھلنی ملنے والی لاش کی شناخت ادریشن احمد قمبرانی ولد ڈاکٹر ایوب قمبرانی کے نام سے ہوئی ہے تاہم ان کو قتل کرنے وجوہات تاحال معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔

یاد رہے آج خاران سے تعلق رکھنے والے دو افراد کئی سال لاپتہ ہونے کے بعد بازیاب ہوگئے جبکہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے بجائے ہر روز لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اسی ہفتے تربت سے مالک نامی طالب کو سیکورٹی فورسز نے دوران امتحان حراست میں لے کر لاپتہ کردیا اور آواران و تربت سے پاکستانی فوج نے دوران آپریشن ایک درجن سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لاپتہ بلوچوں کے مسئلے کو تاریخی حقائق اور بلوچ عوام کے امنگوں و خواہشات کے مطابق حل کرے ۔