افغانستان و ایران کے درمیان آبی تنازعہ شدت اختیار کر گیا

79

ایران کی سرحد کےقریبی علاقوں میں افغانستان کی ڈیموں کی تعمیرو توسیع پر تہران نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

حالیہ عرصے کے دوران افغانستان میں طوفانی بارشوں اور ڈیموں کے بھرجانے کے پرایران نے افغانستان کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

ایران کی سرحد کے قریب افغانستان کا سب سے بڑا ڈیم’کجکی’ کہلاتا ہے۔ یہ ڈیم ھلمند صوبے میں قائم ہے۔ مغربی افغانستان کے نیمروز صوبے میں قائم کمال خان ڈیم پربھی ایران کو اعتراض ہے۔ ایران اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کے قریب سے بہنے والے دریائوں پر دونوں ملک اپنا اپنا حق جاتے ہیں۔

ہلمند میں کجکی ڈیم 1952ء میں بنایا گیا تھا۔ امریکا نے اس ڈیم میں ایک نئی ٹربائن کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کی تھی۔ دوسری طرف ایران نے کجکی ڈیم میں توسیع پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ نے ایک بیان میں‌ کہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ پانی کے اپنے حصے کے حصول کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں نیمروز میں کمال خان، ہرات کےسلما اور بخش آباد کے فراہ ڈیم میں ڈالے جانے والے دریائوں کا پانی ایرانی اراضی کو سیراب کرتا ہے مگر افغانستان اس پانی سے ایران کو محروم کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

ایران اور افغانستان نے 1972ء میں آبی وسائل کی تقسیم کا ایک مشترکہ معاہدہ کیا جس کے تحت دریائے ‘ھیرمند’ کےپانی کو برابر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا یہ دریا افغانستان سے نکلتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ بحیرہ ھامون میں گرتا ہے۔

افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے 20 اپریل 2017ء کو کمال خان ڈیم کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔ اس ڈیم کی توسیع کے لیے 7 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا بجٹ مختص کیا گیا تھا۔ توسیع کا منصوبہ چار سال میں مکمل ہوگا۔