اسد مینگل کی بازیابی اور خونی پنجرہ – نادر بلوچ

73

اسد مینگل کی بازیابی اور خونی پنجرہ

تحریر: نادر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

بچپن سے دماغ کے دروازے پر شعور کے دستک دینے سے پہلے، طفل سے جوانی میں قدم رکھنے اور سنگتوں کے کچاریوں میں وطن کے گیت گنگنانے، ان بہاروں، ندی نالوں، بزگر و شوان، چاکر و گوہرام، غلامی و آزادی کے فرق کے تسلیم ہونے تک، اسد مینگل کو قوم اور خانودہ سے پہچان مل چکی تھی۔ اسد بلوچ قوم کے اس نامکمل ارمان کا نام ہے جو آج بھی جوان ہے لیکن یہ ارمان پھر کبھی واپس بلوچستان نہیں لوٹا۔ ریاستی جبر جب اپنے جوبن پر تھی، غرور و تکبر نے جب قابض قوتوں کو اندھا کرکے ان سے آنکھوں کی روشنی چھین لی تھی۔ بربریت اپنے وحشت سے بلوچ سرزمین پر اٹھنے والے غیور فرزندوں، رہنماوں کی زبان بندی کرنا چاہتی تھی۔ قہر و غضب بلوچ وطن کے ہر کوچہ و گدان پر بجلی بن کر بے گناہ و معصوم بچوں کو وطن کی عزت و عظمت پر قربانی کا درس لینے سے پہلے غاصبوں کے توپ و بمبوں کے انگاروں کو جسموں کی لوتھڑوں سے ٹھنڈا کررہی تھی۔ جب دشمن وطن کے ہر ذرہ خاش و خاک پر قبضہ جمانے کی جستجو میں تھی تب اسد اس کارواں میں شامل ہوا، جب قابض نے پنجاب راج کو برقرار رکھنے کیلئے انکے والد اور دیگر بلوچ رہنماوں کو پابند سلاسل کرچکی تھی۔

اسد مینگل بلوچ وطن و قوم کی خاطر جیل و بند کی تشدد و سختیاں برداشت کرنے والے بزرگ قومپرست رہنماء سردار عطاءاللہ مینگل کے بیٹے تھے۔ جنکو ریاست نے بغاوت اور باغیانہ سوچ کی پرچار کرنے پر زندانوں میں ڈال دیا تھا۔ بلوچ وطن میں جہد و بغاوتوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ جب بھی قوم کے غیور فرزندوں کو منظم ہونے کا موقع ملا تو پہلی فرصت میں قابض کے خلاف صف بندی میں مشغول ہوتے ہیں۔ خوفزدہ قوتوں نے ہمیشہ ظلم و جبر کا بازار گرم رکھ کر بلوچ قومی خون و غیرت کی تپش کم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی و بربادی ہر بغاوت میں انکے منہ پر کالک ملتی رہی ہے، جبر و زیادتیوں نے بلوچ نوجوانوں کی شعور اور ایمان کو جہد پر مزید پختہ کیا ہے۔ جہد کی پاداش اور سردار عطااللہ مینگل کی مذاکرات سے مسلسل انکار اور دوسری طرف ان مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بننے میں ریاست نے اسد مینگل کو جبری طور پر اپنی ایجنسوں کے مدد سے غائب کردیا۔

اس نوجوان کو غیر انسانی سلوک اور شدید ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ ریاستی عقوبت خانوں میں اسد کے ساتھ ہونے والے سلوک پر خود ریاستی گماشتے بھی آنکھوں میں آنسو لیکر شرمندہ تھے۔ اسد مینگل اس جبر کا مقابلہ کرتے رہے لیکن انکی سانسوں نے انکی تکیلف کو سہنے سے انکار کردیا، اسد کی زندگی اور شہادت کی گواہی کسی نے کھبی نہیں دی، سوائے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل کے جنہوں نے مبہم انداز میں کہا کہ اسد مینگل کو شہید کر کے مارگلہ کی پہاڑیوں میں ایبٹ آباد کے قریب کسی نامعلوم جنگل میں نامعلوم مقام پر دفنایا گیا تھا۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کے دور فرعونیت میں اسد مینگل کو اپنے خاندان، بلوچ قوم اور بلوچستان سے جدا کیا گیا۔ بھٹو پنجابی بالادست فوج کی ایماء پر بلوچستان میں مشرف کی طرح مکا لہرا لہرا کر پنجابی فوجی طاقت کا اظہار کرتا رہا، سندھ دھرتی کی تہذیب اور قوم کو فراموش کرکے وہ غاصبوں کا ہمنواء بن کر بلوچ قوم پرست قیادت کے خلاف غداری کی سندیں بانٹ رہا تھا۔ اس زمانے میں جو جبر بلوچ قوم پر کی گئی اسکی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے، لیکن بھٹو راج میں پنجاب نے اسد مینگل کی گمشدگی کا ایک ایسا غم دیا، جو آج بھی ہرا ہے۔ آج بھی ایسا گمان ہوتا ہے کہ سال، دو سال، دس سال سے جبری لاپتہ افراد اسد کے ساتھ کسی قلی کیمپ و ٹارچر سیل میں اذیت برداشت کررہے ہونگے۔ کوئی نوجوان بازیاب ہوتا ہے تو خیال آتا ہے کہ ایک دن اسد مینگل بھی بازیاب ہوگا اسکی روح کو بھی بازیابی نصیب ہوگی۔ بھٹو کے خاندان اور بیٹوں کی ریاستی اداروں کی جانب سے قتل و غارت سے کھبی لگتا ہے کہ قدرت نے اسد پر ہونے والے ظلم کا بدلہ لیا ہے، لیکن پھر شعور کہتا ہے کہ بھٹو تو ایک مہرہ تھا ظلم و جبر کا نشان تو پنجاب اور یہ غیر فطری ریاست ہے۔ اسد مینگل کیلیے سوگ منانے انکے والد سردار عطاء الللہ مینگل کھبی تعزیت کے تڈاء پر نہیں بیٹھے، جوان بیٹے کا درد آج بھی انکے سینے میں ہے۔

اسد کو کوئی نہیں بھولا وہ آج بھی وطن کا ایک سچاء فرزند ہے، جو ریاست کی سفاکیت کا چالیس سالوں سے بہادری سے مقابلہ کررہا ہے۔ حمید گل کی سیاہ زبان پر کوئی حمید گل ہی یقین کرے لیکن بلوچ قوم تب تک اسد کو ریاستی عقوبت خانوں میں تلاش کرتی رہیگی جب تک قابض ریاست اور اسکے درندہ صفت، انسانی حقوق سے عاری ادارے اس سچائی کو فاش نہیں کرتیں کہ اسد کے ساتھ کیا ہوا اور اب اسد کہاں ہے؟ بلوچستان پر قبضے کی سیاہ گھٹاوں کی تاریخ جتنی پرانی ہے اسی طرح ریاست کی بلوچ قوم کے ساتھ نارواء سلوک اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی قصے بھی اتنی پرانی ہیں۔ بلوچ قوم ایک گلاس پانی کیلئے سو سالہ وفاداری کا حلف اٹھاسکتی ہے، تو اپنے غیور و جانباز اسد مینگل و دیگر ہزاروں لاپتہ فرزندوں کو کس شرط پر فراموش کریگی؟

تاریخ اس بات کا گواہ ہے کہ جہاں بھی جبر ہوا ہے، وہاں انصاف و آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوئی ہے۔ بلوچ قوم و جہد کار بھی اسد مینگل کی بازیابی چاہتے ہیں وہ چاہے اسکی جسمانی صورت ہو یا روحانی لیکن ریاست کو ایک نہ ایک دن ان مظالم پر سر تسلیم خم کرکے بلوچ قوم پر ہونیوالی ناانصافیوں، اور قتل و غارت گری پر معافی مانگنا ہوگا۔ ایک ایک جبر پر بین الاقوامی قوانین کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔