ارمان لونی کا قتل اور نوشتہ دیوار – شہیک بلوچ

67

ارمان لونی کا قتل اور نوشتہ دیوار

تحریر: شہیک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

یہ اپنی نوعیت کا ناہی پہلا واقعہ ہے اور ناہی اس پر ریاست نادم ہوکر ذمہ داران کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کریگی بلکہ حسب روایت ارمان لونی کو غدار قرار دینے اور جھوٹے الزامات کی آڑ میں باطل ثابت کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ دراصل پاکستان کے معنی پنجاب کے ہی لیے جائے کیونکہ فوج پنجاب کی ہے اور بقایا قومیتوں کے لیے ان کی حیثیت اس حد تک ہے کہ وہ اسے غیر انسانی طریقوں سے اجتماعی طور پر ٹارچر کرنے کو اپنا من پسندیدہ مشغلہ سمجھتے ہیں۔ بلوچ گلزمین،پشتون گلزمین، سندھی گلزمین دیسی باسیوں کے لیے جہنم بنا دی گئی۔ چن چن کر باشعور فرزندوں کو اغوا کرنا اور پھر انہیں اذیت ناک سزاؤں کے ذریعے موت دینا تاکہ اپنے نوآبادیاتی دھونس کو برقرار رکھا جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ نوآبادکار بالاخر اپنے ہی تضادات کے کھڈے میں گر جاتا ہے اور محکوم قوموں کا اتحاد اس کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتی ہے۔

آج بلوچ، پشتون سندھی اور ہزارہ تک سب ہی نوآبادیاتی پالیسیوں کے زخم خوردہ ہیں اور آج اس حد تک پست عزت نفس تک دھکیلے جاچکے ہیں کہ وہ انسانی زندگی کے معیاری تصور تک کو بھول چکے ہیں لیکن ایسا کب تک چلتا رہیگا اس کا فیصلہ ان سب نے مل کر کرنا ہوگا۔ منتشر جدوجہد میں میں زیادہ توانائی درکار ہوگی لیکن متحد و منظم جدوجہد ہی اس کا سب سے بہترین راستہ ہوگا کیونکہ ہر پل مرنے ہر واقعہ پر مرنے سے بہتر ہے کہ اپنی تقدیر کا فیصلہ ایک مستقل مزاحمتی جدوجہد کی صورت میں کیا جائے۔ وگرنہ پچھلے انسٹھ سالوں سے مسلسل نوآبادیاتی شکنجوں نے ہمیں مفلوج بنا کر رکھ دیا ہے۔

بلوچ کی مسلح جدوجہد ہو یا پشتون کی پرامن جدوجہد دونوں کو ریاست ایک ہی عینک سے دیکھتی ہے اور یہ کوئی ذہن سے نکالے کہ جبر کے خلاف پرامن رہ کر منزل مقصود کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس ریاست کے پاس ہزار حربے ہیں اس کے خلاف جب تک ایک منظم مزاحمتی تحریک تشکیل نہیں دی جاتی، تب تک نقصان اٹھانا پڑیگا اور الگ الگ نقصانات ہمارے زیادہ ہونگے لیکن جب ہم مشترکہ جدوجہد کرینگے تب ہم حاوی ہونگے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے قابل ہونگے۔

ارمان لونی کا قتل ہو یا مشعال خان کا ان کے پیچھے محرک نوآبادیاتی ہے کیونکہ نوآبادکار کو شعور سے خطرہ ہے اس لیے وہ کہیں مذہب کے نام پر تو کہیں سیکورٹی کے نام پر باشعور فرزندوں کو راہ سے ہٹاتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہیگا اور جب تک مکمل طور پر نوآبادیاتی نظام سے نجات حاصل نہیں کی جاتی، اس وقت تک اس سلسلے کو روکا نہیں جاسکتا۔ گذرتے وقت کیساتھ یہ نوآبادیاتی پالیسیاں ہمیں مزید زخم دینگے اور جس حد تک مصلحت پسندی برتی جائیگی اتنی ہی غلامی کو دوام حاصل ہوگا۔ پشتون ارمان لونی اور بلوچ صبا دشتیاری جیسے اساتذہ کو بیدردی سے قتل ہوتا دیکھنگے اور ان کی سرزمینیں ان کے لیے جہنم بن جائینگی۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔