ہمارے مطالبات کی ضمانت پاکستان کی آئین و قانون دیتے ہیں۔ ماما قدیر بلوچ

32

کوئٹہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3454 دن مکمل ہوگئے۔ سماجی کارکن ممتاز کلپر بگٹی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنماء سلیمان کاکڑ، قادر آغا، پی ٹی ایم کے حسین آغا، سماجی کارکن حمیدہ نور، بی ایچ آر او کے چیئرپرسن بی بی گل، وائس چیئرپرسن طیبہ بلوچ اور مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے کیمپ کا دورہ کیا-

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا صاحب اقتدار لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ریلی، مظاہرے اور جنگ جیسے اقدام اٹھائیں اور جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تب مذاکرات کا نعرہ بلند کرتے ہیں، کیوں وہ پہلے یہ نہیں سوچتے اور لوگوں کو اتنا مجبور کرتے ہیں کہ وہ ایسے اقدام اٹھاتے ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ ہم کو اتنا مجبور نہیں کرتے کہ ہم پچھلے دس سالوں سے بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر لوگوں کی بازیابی کے لئے پرامن احتجاج نہیں کرتے اور اس کے باوجود وہ ہمیں سنتے اور ہمارے جتنے مطالبات تھے انہیں پورا کرتے۔ ہر روز لوگوں چھوڑنے کے بجائے مزید لوگوں کو حراست میں لے کر اپنے ٹارچر سیلوں کی زینت بنا رہے ہیں ۔

ماما نے مزید کہا ہم نے نہ صرف علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے آواز بلند کی بلکہ ہم نے پر امن احتجاج کے تمام طریقے اپنائے ہیں، چاہے وہ سیمنار ہو یا احتجاجی مظاہرہ ہو یا کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک تاریخی لانگ مارچ ہو ہم نے تمام پرامن احتجاج کے تمام طریقے اپنائے مگر اس کے باوجود بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اگر کوئی ان تمام چیزوں کو باریک بینی سے دیکھ لیں ہم اتنے مجبور کیوں ہوئیں کہ پچھلے دس سالوں سے بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر احتجاج کریں اور اتنی بڑی لانگ مارچ کیوں کی؟ تو جواب آتا ہے کہ پاکستان نے ہم سے ہماری زندگی چھین لی ہے، ہمارے سیاسی کارکن، طالب علم، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل اور پروفیسروں کو سرِعام اٹھا کر لاپتہ کیا گیا یا دن دھاڈے سرے بازار انہیں شہید کیا گیا تو ہم مجبور ہیں کہ اس طرح کے اقدام اٹھائیں اور پوری دنیا جانتی ہے اس میں کون سے طاقت ملوث ہیں اور ہم بھی جانتے ہیں وہ کون سے طاقت ہیں اس کے باوجود ہم خاموش بیٹھ جائیں ؟

ما ما قدیر نے کہا ہمارے مطالبات کی ضمانت پاکستان کی آئین و قانون دیتے ہیں اور عالمی قوانین بھی پاکستان کو پابند کرتے ہیں کہ وہ کسی شخص کو لاپتہ نہیں کرسکتا اور کسی بھی فرد کو لاپتہ رکھنا پاکستانی اور عالمی قوانین کے رو سے ایک قابل تعزیر جرم ہے لیکن اس کے باوجود ریاستی ادارے بڑی تعداد میں لوگوں کو لاپتہ کررہے ہیں۔

ماماقدیر نے کہا کہ ہم کئی بار اس بات کو واضح کرچکے ہیں ہم امن پسند ہیں اور ہماری احتجاج بھی پر امن ہے ہم صرف یہی چاہتے ہیں جتنے بھی لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اگر آپ جانتے ہیں انہوں نے کوئی جرم کی ہے تو پاکستان میں عدالتیں موجود ہیں انہیں عدالتوں میں پیش کریں اگر وہ گناہ گار ثابت ہوئے انہیں جو سزا دینگے ہمیں قبول ہے مگر اس طرح لوگوں رات کی تاریکی میں حراست میں لے کر دس دس سالوں تک اپنے عقوبت خانوں میں رکھ کر ان کے لواحقین کو زندگی عذاب نہ بنائیں ۔