عالمی ادارے حسن بلوچ کی بازیابی میں کردار ادا کریں- لواحقین

59

ضلع آواران سے لاپتہ ہونے والا نوجوان 2 سال بعد بھی بازیاب نہیں ہوسکا۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 2 سال قبل بلوچستان کئ ضلع آواران سے فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ ہونے والا عصاء ولد حیبتان بلوچ تاحال بازیاب نہیں ہوسکا۔

عصاء بلوچ کے لواحقین نے دی بلوچستان پوسٹ کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے بتایا کے 2 سال قبل آواران کے علاقے سیاگزی میں رات 2 بجے فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حسن اور اس کے بھائی جمعہ بلوچ کو شدید تشدد کا نشانہ بناتے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

لواحقین کے مطابق فورسز نے گھر میں موجود دیگر افراد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر میں تھوڑ پھوڑ بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی اور عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حسن بلوچ کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں-

لواحقین نے نمائندے سے بات کرتے ہوئے بتایا کے حسن اپنے والد اور بھائی کے ساتھ زمینداری کرتا تھا اس کا کسی سیاسی یا مسلح تنظیم سے تعلق نہیں نہیں اور نہ ہی وہ ایسے کسی سرگرمی کا حصہ رہے ہے۔

لواحقین کے مطابق انہوں کئی مرتبہ آرمی کیمپ میں اپنی درخواست جمع کرائی اور پولیس نے بھی کیس لینے سے منع کیا تاہم چار ماہ بعد جمعہ ولد حیبتان شدید تشدد کے بعد آرمی کیمپ سے رہا ہوگئے جبکہ حسن بلوچ کا 2 سال سے کچھ پتا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جبکہ لاپتہ افراد کی بازیاب کیلئے آواز اٹھانے والی تنظیموں کے مطابق ان افراد کو لاپتہ کرنے میں ریاستی فورسز اور خفیہ ادارے براہ راست ملوث ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے نمائندے کے دورہ پاکستان کے مناسبت سے بلوچ قومپرست جماعتیں احتجاجی مظاہروں اور سوشل میڈیا کمپئین کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ بلوچ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی جانب سے بھی بلوچستان میں لاپتہ افراد اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیلئے سوشل میڈیا میں کمپئین چلایا جارہا ہے۔