شمالی کوریا کا اٹلی میں تعینات سفیر لاپتہ

36

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اٹلی میں تعینات شمالی کوریا کے سفیر جو سونگ اِل لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ اعلان اٹلی میں پیانگ یانگ کے سفیر کی ایک نامعلوم مغربی ملک سے سیاسی پناہ حاصل کرنے کی غیرمصدقہ اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے۔

اٹلی کے دارالحکومت روم میں تعینات شمالی کوریا کے قائم مقام سفیر جو سونگ اِل کے والد اور سسر دونوں ہی شمالی کوریا کے اعلیٰ ترین اہلکاروں میں سے ہیں۔

شمالی کوریا کے آخری منحرف ہونے والے سینیئر سفارتکار لندن میں تعینات نائب سفیر تھائی یانگ ہو تھے۔ 2016 میں تھائی یانگ ہو نے اپنا عہدہ چھوڑ کر اپنے بیوی اور بچوں سمیت جنوبی کوریا میں پناہ لے لی تھی۔

منحرف ہو کر پناہ لینے والے شمالی کوریا کے اعلیٰ سطح کے افسروں میں شمار ہونے کے ناطے تھائی یانگ کے اس اقدام کو کِم جون اُن کی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا گیا تھا۔

جمعرات کو جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کی طرف سے دی گئی بریفنگ کے بعد جنوبی کوریائی حکومت کے رکنِ پارلیمان کِم مِن کی نے رپورٹرز کو بتایا کہ جو سونگ اِل ایک ماہ پہلے روم میں سفارتخانے سے فرار ہو گئے تھے۔

حکومت کے رکنِ پارلیمان کا کہنا تھا کہ ’قائم مقام سفیر جو سونگ اِل کے عہدے کی مدت نومبر کے آخر میں اختتام پذیر ہونی تھی مگر وہ نومبر کے شروع ہی میں سفارت خانے سے فرار ہو گئے۔’

جنوبی کوریا کے خفیہ ادارے نے حکام کو بتایا کہ نومبر سے ان کا جو سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ایجنسی نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ کسی دوسرے ملک میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جو سونگ کی بیوی ان کے ہمراہ ہیں۔

اٹلی کی وزارتِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جو سونگ کی طرف سے سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے کوئی درخواست نہیں دی گئی تھی۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اطالوی حکومت نے آخری بار جو سونگ کے بارے میں گذشتہ برس اس وقت سنا تھا جب حکام کو شمالی کوریا کی حکومت کی طرف سے جو سونگ کی تبدیلی کا خط ارسال کیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا کے اخبار جونگ انگ ایلبو نے سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو سونگ اور ان کا خاندان محفوظ مقام پر موجود ہے۔

اڑتالیس برس کے جو سونگ اکتوبر سنہ 2017 سے روم میں قائم مقام سفیر کی خدمات انجام دے رہے ہیں جب اٹلی نے شمالی کوریا کی طرف سے کیے گئِے جوہری دھماکوں پر اجتجاج کرتے ہوئے اُس وقت کے سمیر من جونگ نم کو ملک سے نکال دیا تھا۔

پیانگ یانگ کے لیے اٹلی میں شمالی کوریا کا سفارتی مشن اس لیے اہم ہے کیونکہ اقوام متحدہ کا خوراک اور زراعت کا ادارہ روم میں واقع ہے اور شمالی کوریا میں اکثر خوراک کی قلت رہتی ہے۔

عام طور پر بیرون ملک تعینات شمالی کوریائی سفیروں کو اپنے چند خاندان والوں کو پیانگ یانگ میں چھوڑ کر آنا پڑتا ہے تاکہ سفیر خاندان سمیت ملک نہ چھوڑ دیں۔

لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ جو سونگ ایک با اثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اسی بنا پر وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ روم میں تعینات تھے۔

عام طور پر بیرون ملک تعینات شمالی کوریا کے سفیروں پر ان کے ساتھی کڑی نظر رکھتے ہیں اور انھیں حکام کی طرف سے واضح ہدایات ہوتی ہیں کہ انھیں کسی بھی ساتھی کے ملک سے منحرف ہونے کا کوئی بھی اشارہ ملے تو اسے رپورٹ کریں۔