سعودی عرب کا بلوچستان میں سرمایہ کاری پاکستان کی جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے – بی این ایم

99

بلوچستان ایک مقبوضہ اور متنازعہ سرزمین ہے۔ یہاں سرمایہ کاری عالمی قوانین کی صریحاََ خلاف ورزی ہے۔ اس کے خلاف بھی اسی طرح سیاسی مزاحمت جاری رکھیں گے جس طرح پاکستان اورچین کے خلاف بلوچ قوم مسلسل مزاحمت کررہی ہے ۔ ڈاکٹرمراد بلوچ

بلوچ نیشنل موومنٹ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مراد بلوچ نے سعودی عرب کے وفد کی حالیہ دورہ گوادر پر اپنے سخت ردعمل میں کہا ہے کہ سعودی عرب کا بلوچ ساحل اور بالخصوص گوادر میں مسلسل دلچسپی باعث تشویش اور پاکستان کی سازشوں میں شراکت داری کے مترادف ہے اور یہ بلوچ قوم اور ہمسایہ ملکوں اور عرب اقوام سے دیرینہ تعلقات کے منافی ہے۔ گوادر بلوچوں کی سرزمین ہے جسے برے وقت میں بلوچوں نے عمان کے عرب حکمرانوں کو تحفے میں دے کر ان کی مدد کی تھی۔ ان حالات میں عرب اتحاد میں ایک طاقتور فریق کی حیثیت رکھنے والا سعودی عرب کا بلوچوں کے وسائل کی لوٹ مار میں رضامندی ان کی توسیع پسندانہ خارجہ پالیسی، بلوچستان اور علاقائی حالات سے لاعلمی اور پاکستان کی مسلسل منافقت و دروغ گوئی اور نام نہاد جوہری طاقت کے سحر میں مبتلا ہونے کے سوا کچھ نہیں۔

ڈاکٹر مراد بلوچ نے کہا ہے کہ اس خطے میں بلوچستان کے وسائل اور تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت کو دیکھ کرمختلف قوتوں کی دلچسپی بلوچ قوم کے خلاف پاکستان کے جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایک زندہ قوم کی حیثیت سے بلوچ قوم نے اپنی قومی بقاء اور قومی تشخص کیلئے پرتگیز اور انگریزوں سمیت ہر حملہ آور اور قبضہ گیر کے خلاف مزاحمت کی ہے یہی مزاحمت آج پاکستانی قبضہ گیریت اور مظالم کے خلاف جاری ہے اور اس وقت ہم حالات جنگ میں ہیں ایسے میں سعودی عرب یا کسی اور ملک کا بلوچ سرزمین پرسرمایہ کاری یا ایسی کوشش ایک زندہ قوم کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے چینی سامراج بلوچ وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور بلوچ سرزمین کی تزویراتی پوزیشن کو اس خطے میں عسکری مقاصد کے استعمال میں لانے کے لئے بلوچ کے خلاف پاکستان کے جنگی جرائم اور ہولناک بربریت میں شریک جرم ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک مقبوضہ اور متنازعہ سرزمین ہے۔ یہاں سرمایہ کاری عالمی قوانین کی صریحاََ خلاف ورزی ہے۔ اس کے خلاف بھی اسی طرح سیاسی مزاحمت جاری رکھیں گے جس طرح پاکستان اورچین کے خلاف بلوچ قوم مسلسل مزاحمت کررہی ہے۔

ڈاکٹر مراد بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں چین کو عسکری بنیادیں فراہم کرنا اور وسائل کی مال غنیمت کی طرح لوٹ کھسوٹ کی اجازت دینا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان بلوچ قومی تحریک آزادی کے سامنے بے بس ہے اور اسے بلوچستان پر قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے سامراجی سہاروں کی ضرورت ہے۔ اس کام میں چین کے ساتھ سعودی عرب کی شمولیت کی خبریں بلوچستان کے اصل حالات سے ناوافقیت یا پاکستان کے ساتھ بلوچ نسل کشی میں شامل ہونے کی غماز ہے جو ہر دو صورتوں میں بلوچ قوم کے لئے ناقابل قبول ہے۔

ڈاکٹر مراد بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے جنگی حالات کو پاکستان پرامن دکھانے کے لئے عالمی برادری سے مسلسل جھوٹ بول رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں بے شمار فوجی کیمپ اور چیک پوسٹوں کی موجودگی خود پاکستانی دعووں کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ بلوچستان ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوچکا ہے اور بلوچ اس وسیع چھاؤنی میں قید ہیں اوربلوچ قوم پر پاکستان کی بربریت جاری ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی ملک انجان بن کر بلوچستان میں اپنی اور پاکستانی مفادات کی تکمیل کیلئے سرمایہ کاری کرے گا تو ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ وہ بلوچوں کے قتل عام میں پاکستانی فوج اور دوسرے اداروں کا معاون اور سہولت کار بن چکا ہے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ سعودی اور دوسرے ممالک کا اولین فرض ہے کہ بلوچ قوم پر پاکستانی مظالم اوراستحصال میں خاموشی تماشائی یا شریک جرم بننے کے اس درندگی و حیوانیت کے خلاف آواز بلند کرکے بلوچ قومی آزادی کے تحریک کا حمایت کریں تاکہ نہ صرف بلوچ قوم اس دہشت گرد قبضہ گیر سے نجات پاسکے بلکہ خطہ اور عالمی امن کا راہ ہموار ہوسکے کیونکہ اس وقت عالم انسانیت کو کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے زیادہ پاکستان سے خطرہ ہے۔ عالمی طاقتیں جتنی جلدی اس کا ادراک کریں گی بلوچ قوم اور عالم انسانیت کے حق میں اتنا ہی بہتر ہوگا۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ خطے کے امن و پائیدار ترقی کی راہیں آزاد بلوچستان سے نکلتے ہیں اور ہم خطے میں ایک بفر زون کا کردار کر سکتے ہیں جس سے پوری دنیا کو امن گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔