تعلیم کے حوالے سے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ ایکشن کمیٹی

125

کسی بھی فورم پر مل بیٹھ کر گفت و شنید کے ساتھ ان مسائل کوحل کرنے کیلئے کوشان ہے۔وائس چیئرمین غنی بلوچ

بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا ایک وفد مرکزی وائس چیئرمین غنی بلوچ کی سربراہی میں وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان سے ملاقات کی۔

وفد میں تنظیم کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان بلوچ، مرکزی ورکنگ کمیٹی ممبرڈاکٹر صبیحہ بلوچ، ڈاکٹر یونس بلوچ تھے۔

صوبائی وزیر اطلاعات و ہائر ایجوکیشن ظہور بلیدی،وزیر تعلیم محمد خان لہڑی، وزیر ریوینو میر سلیم کھوسہ، صوبائی اراکین اسمبلی میر سکندر عمرانی، مبین خان خلجی، عبدالرشید بلوچ، اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات سجاد احمد بھٹہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

مرکزی رہنماؤں نے وزیر اعلی بلوچستان سے مسائل کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت بلوچستان میں تعلیم کے حوالے سے بہت سے مسائل ہیں جو کہ حل طلب ہے،ہماری جدوجہد بھی یہی ہے کسی بھی فورم پر مل بیٹھ کر گفت و شنید کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ گذشتہ ادوار میں تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں لائی گئی۔اس وقت کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں لائبریریوں کا مسئلہ در پیش ہے اور خاص کر پورے سریاب علاقے میں کوئی لائبریری موجود نہیں ہے تاکہ اس سے علاقے کے طلباء فوائد حاصل کر سکے۔

رہنماؤں کہا کہ میڈیکل کالجز میں انٹری ٹیسٹ میں تاخیر کی وجہ سے ایک طرف طلباء و طالبات میں پریشانی پائی جاتی ہے وہی دوسری جانب دیگر صوبوں میں بلوچستان کے کوٹے پرجو100سیٹیں ہیں وہ ضائع ہو رہے ہیں۔تربت گرلز کالج کے مسئلے پر وزیر اعلی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کیا جائے کیونکہ طالبات سخت پریشانی میں مبتلا ہیں اور اس حوالے طالبات نے احتجاج بھی کیے ہیں لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

وزیر اعلی بلوچستان نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ تعلیمی معیار کو بہتر کرنا اور اہل امیدواروں کو اعلی تعلیمی اداروں میں میرٹ کے مطابق داخلوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،اس حوالے سے کسی حقدار طالب علم کی حق تلفی نہیں ہونے دی جائے گی۔میڈیکل کالجز کے داخلوں کے حوالے سے بولان میڈیکل کالج انتظامیہ کو فوری ہدایت کی جاتی ہے کہ آئندہ تین سے چار دن کے اندر اخبارات میں داخلے مشتہر کر دیئے جائیں۔

وزیر اعلی بلوچستان نے مزید کہا کہ تعلیمی مسائل کے حل کیلئے حکومت مؤثر اقدام کر رہی ہے، جن میں بلوچستان ایجوکیشن کونسل کا قیام بھی شامل ہے،کونسل تعلیمی معیار کی بہتری اور فروغ کے لئے سفارشات تیار کرے گی۔