مفاد پرست بلوچ پارلیمنٹرینز _عبدالواجد بلوچ

90

مفاد پرست بلوچ پارلیمنٹرینز 

عبدالواجد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مفاد پرست رہنما ایک ظاہری اور ایک خفیہ ایجنڈا رکھتے ہیں۔ ان کی کاوشوں کا محور خفیہ ایجنڈا ہوا کرتا ہے. مخلص رہنما کے تمام مقاصد واضح اور متعین ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں پایا جاتا۔ وہ جو بات کرتے ہیں، صاف انداز میں کرتے ہیں اور ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔

مفاد پرست رہنما اپنے پیروکاروں کو اپنا فکری غلام بنانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس مخلص رہنما کبھی کسی شخص کو اپنا غلام بنانے کے لئے کوئی ہتھکنڈا استعمال نہیں کرتے بلکہ وہ انہیں آزادی فکر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

مفاد پرست راہنماؤں کے گرد مفاد پرست “مقربین خاص” کی ایک ٹیم ہوتی ہے، جو ہر ہر موقع پر اپنے شیخ کی پروموشن میں مشغول ہوتی ہے۔ مخلص راہنماؤں کے گرد ایسی کوئی ٹیم موجود نہیں ہوتی۔ ان کے شاگرد اور پیروکار بھی انہیں بس “ایک انسان اور ایک عالم” سمجھتے ہیں اور ان کی شخصیت کو کبھی حق و باطل کا معیار قرار نہیں دیتے۔

مفاد پرست راہنماؤں کے گرد مقربین خاص کا حلقہ انہیں عوام سے دور رکھتا ہے۔ ان کی شخصیت کے گرد پردے ڈال کر انہیں پراسرار بنا دیا جاتا ہے۔ مخلص راہنماؤں کے گرد ایسا کوئی حلقہ نہیں ہوتا اور یہ حضرات عوام سے گھل مل کر رہتے ہیں۔

مفاد پرست راہنماؤں کے حلقوں میں عقل کی بہت مخالفت کی جاتی ہے اور جذبات کو ہر طریقے سے ابھارا جاتا ہے۔ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ لوگ اپنے عقل پر اعتماد کرنے کے بجائے رہنما کی عقل پر اعتماد کریں۔ مخلص رہنماؤں کے ہاں عقل کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ لوگوں کو علم سے وابستہ کر کے انہیں ذہنی طور پر اس سطح پر لایا جاتا ہے کہ وہ خود اپنی عقل کو استعمال کرکے صحیح و غلط کا فیصلہ کریں۔

مفاد پرست رہنما کبھی پوری معلومات نہیں دیتے۔ ان کے ہاں تصویر کا صرف ایک رخ پیش کیا جاتا ہے اور دوسرے رخ کو اس طرح سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ وہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مخلص رہنماؤں کے ہاں تصویر کے دونوں رخ پیش کئے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ تصویر کا دوسرا رخ چھپانے کی بجائے اسے عوام کے سامنے پیش کر کے دلائل کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس میں کیا غلطی پائی جاتی ہے۔

بلوچ و بلوچستان بالخصوص بلوچیت کو لیکر ریاست پاکستان کی پارلیمنٹ پر براجمان قوت یا وہ قوتیں جنہوں نے نام نہاد مفاد پرستوں کو اس جانب راغب کیا اور انہیں اپنے منشاء کے مطابق اس ایوان تک پہنچایا کچھ خاص اہمیت نہیں دی بلکہ جوں جوں لوگ اس پارلیمان میں گئے بلوچ پر آسیب کے سائے مزید گہرے ہوتے گئے. ستر سالہ اس دورانیہ میں بلوچ نے پاکستان کے ساتھ سکھ کا سانس تو نہیں لیا البتہ کرب و بربریت کے نت نئے حربے بخوبی دیکھے.

بلوچستان میں انسانی المیہ تو کب کا پیدا ہوچکا ہے لیکن آج جس طرح بلوچ قوم کی صدائے احتجاج وہ بھی جائز انسانی بنیادوں پر بلند ہورہی ہے کو دبانے کا یہ سلسلہ روز بہ روز سنگین ہوتا جارہا ہے، لاپتہ افراد کو لیکر ان لواحقین کی چیخ و فریاد سے عرش تو ہل چکا ہے لیکن اس ضمن میں ریاست کا رویہ بوکھلاہٹ سمیت مزید سخت تر ہوتا جارہا ہے لیکن یہاں یہ امر اٹل ہے کہ صدائے حق کو جتنا دبایا جاتا ہے اتنا ہی وہ لاوا بن کر پھٹ جاتا ہے.

ریاستی رویہ تو واضح ہے لیکن انتہائی اہم بات یہ کہ بلوچ قومی مسئلے کو لیکر بلوچ پارلیمنٹ پرست پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی جس کی سربراہی سردار اختر مینگل کررہے ہیں کی منافقت اور دوہرا رویہ سب کے سامنے عیاں ہے، جناب کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی پارلیمان میں وزارت مراعات کی خاطر نہیں بلکہ بلوچ کی غصب شدہ حقوق کی خاطر وہاں براجمان ہیں لیکن انہیں شاید یہ نہیں معلوم کہ بلوچ کی غصب شدہ حقوق وزارت کی حصول نہیں اور نا ہی الیکشن کمپئین ہے بلکہ ان لواحقین کے پیارے ہیں جو ان کی راہ دیکھ رہے ہیں. جب بلوچستان کو انسانی حوالے سے بنجر کیا جائے بلوچ سیاسی کریم ایک ایک کرکے لاپتہ کئے جائیں، اس کے باوجود اس پارلمینٹ میں بیٹھنا اگر ذاتی حصول نہیں تو اور کیا ہے؟

ان سخت اور کٹھن حالات میں بالخصوص سردار اختر مینگل اور ان کی پارٹی کے لئے یہ قطعاً زیب نہیں دیتا کہ وہ لاپتہ افراد کی اس تحریک کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر اپنا الیکشن کمپئین چلائیں، اگر واقعتاً جناب کی پارلیمنٹ یاترا خالص بلوچ حقوق کے لیئے ہے تو بلوچ ساحل و وسائل کو سائیڈ پہ رکھیں، یہاں تو بلوچ بچے بوڑھے انسان لاپتہ کئے جارہے ہیں ان کا احساس کیجئے گا وگر نہ اپنے چھ نقاط میں سے لاپتہ افراد کا نقطہ نکال کر الیکشن کمپئین سمیت وزارت کے حصول کا نقطہ شامل کرلیں کیونکہ اس سے بیچارے ان لواحقین کو یقین ہوگا کہ ہمارے درد کو زبان دینے والا یہاں کوئی قوت نہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔