مستحکم افغانستان کا حصہ بننے کے بجائے طالبان بھارت کے خلاف ایک باڑ کے طور پر استعمال ہورہے ہیں – امریکی جنرل

65

 امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکوم) کے اگلے سربراہ لیفٹننٹ جنرل کینتھ مکینزی نے افغان امن مذاکرات کے 2 اہم نکات پر بات چیت کرکے بھارت کے بڑھتے اثر و رسوخ پر پاکستان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات کے 2 اہم نکات، افغانستان میں بڑھتے ہوئے بھارتی اثر و رسوخ پر پاکستان کے تحفظات اور امریکا ان تحفظات کو کس طرح دور کرسکتا ہے پر امریکی کانگریس کی اہم سماعت میں روشنی ڈالی گئی۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکوم) کے اگلے سربراہ لیفٹننٹ جنرل کینتھ مکینزی نے اپنی تعیناتی کی تصدیق کے دوسرے دن سماعت کے بعد امریکی سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کو دیے گئے ایک تحریری جواب میں ان دونوں نکات کو اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ بطور سینٹکوم سربراہ وہ پاکستان سے ترجیحی طور پر شراکت داری بنائیں گے۔

کمیٹی کی ویب سائٹ پر شائع ان کے تحریری جواب میں کہا گیا کہ  اس وقت پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے اپنا مکمل اثر و رسوخ استعمال نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ مستحکم افغانستان کا حصہ بننے کے بجائے طالبان بھارت کے خلاف ایک باڑ کے طور پر استعمال ہورہے ہیں

جنرل مکینزی نے تسلیم کیا کہہ پاکستان کا قومی مفاد ہے اور وہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں سیاسی استحکام سمیت خطے کے مستقبل میں کسی بھی طرح کا سیاسی حل ہو۔

انہوں نے کہا کہ ان کی سربراہی میں امریکی سینٹکوم افغانستان میں تنازع کے سفارتی حل کے لیے ان کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی، جس میں یہ یقینی بنایا جائے کہ مسقبل میں کسی بھی معاہدے میں اسلام آباد کی مساوات کو تسلیم کا جائے۔

امریکی جنرل نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں استحکام امریکا اور پاکستان دونوں کے لیے  سب سے زیادہ اہم باہمی مفاد ہے اورہم پاکستانی قیادت کے ساتھ ضرور رابطہ رکھنا چاہیں گے تاکہ اس بات کا احساس کرسکیں کہ اس باہمی مفاد کو ہم کس طرح حاصل کرسکتے ہیں۔

جنرل مکینزی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طویل مدتی استحکام میں پاکستان ایک لازمی عنصر ہے اور وہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

امریکی جنرل نے پاکستان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات پر جواب دیا کہ  امریکا اور پاکستان کی افواج کے تعلقات مضبوط ہیں اور ہم اہم اسٹریٹجک تعلقات شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور روس، چین بھارت اور امریکا کے جغرافیائی مفادات اس سے منسلک ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایکشن یا ان ایکشن جو افغانستان میں استحکام سے تعلق رکھتا ہو اکثر ہماری حکومت اور فوج کے درمیان مایوسی کا باعث بنتا ہے۔