جنرل اسلم قومی تحریک کو ادارتی بنیادوں پر استوار کرنے کے قائل تھے ۔ بی این ایم

105

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں جنرل اسلم بلوچ و ساتھیوں کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے سفر میں بلوچ قوم نے پہلے بھی اپنے عظیم فرزند قربان کئے ہیں اور اب جنرل اسلم بلوچ جیسا انقلابی رہبر، سیاسی مدبر اور اعلیٰ کمانڈر قربان کیا ہے۔ جنرل اسلم بلوچ کی شہادت سے قومی تحریک ایک عظیم سپاہی سے محروم ہوچکا ہے۔ جنرل اسلم جیسے انقلابی رہبر کا خلاء پر ہونے میں ایک عرصہ لگتا ہے لیکن ایسے انسان سرزمین سے اپنے عشق ،کردار و عمل اورکمنمنٹ کی بدولت اپنے متبادل پیدا کرتے ہیں اور وہ ہر قیمت پر ان کا مشن پورا کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ جنرل اسلم بلوچ پاکستانی قبضہ اور چینی سامراج کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے تھے اور ان کا عزم اور حوصلہ اتنا بلند اور قوت فیصلہ اتنا قوی تھا کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی نہ ان کے قدم ڈگمگائے اور نہ ہی فیصلے لینے سے کسی پس وپیش کا مظاہرہ کیا۔ جنرل اسلم بلوچ بلوچ قومی تحریک کو ادارتی بنیادوں پر استوار کرنے کے قائل تھے اور جدوجہد کو شخصی انحصاریت سے نکالنے اور قومی مفاد کے لئے دورس اثرات کے حامل فیصلے کئے۔ ایسے فیصلوں کا ثمر بلوچ قوم کو جدید خطوط پر استوار تحریک اور قومی آزادی کے صورت میں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ جنرل اسلم بلوچ نے اپنی زندگی کے پچیس سال قومی آزادی کے جدوجہد کے خاردار سفر میں گزارے۔ وہ مختلف نشیب و فراز اور تلخ و شیرین حالات سے گزرکر ایک سیاسی و عسکری مدبر کی صورت میں اپنی تنظیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔

ترجمان نے کہا کہ جب تک بلوچ سرزمین پر آزادی کا روشن و تابان سورج طلوع نہیں ہوگا تب تک بلوچ قومی فرزند قربانیوں کا تاریخ رقم کرتے رہیں گے۔ جنرل اسلم بلوچ نے اپنی زندگی کے دو دہائی سے زائد عرصہ پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف جدوجہد میں گزارے اور جدوجہدکے دوران شہادت کے اعلیٰ مقام سے سرفراز ہوئے ۔

ترجمان نے کہا کہ قومی تحریکوں میں مسلح مزاحمتی عمل ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کی اہمیت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا۔ یہ ویتنام میں امریکی مداخلت کے خلاف جد و جہد ہو کیوبا کی، یا خود بنگلہ دیش کے بنگالیوں کا پاکستانی فوج کے خلاف، تمام اپنی نوعیت میں مسلح فوج کے خلاف اپنی دفاع میں مسلح جد و جہد کرتے رہے۔ بلوچ قوم کا مزاحمتی عمل بھی بین الاقوامی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ ہر تنظیم کا اپنا طریقہ کار ہے مگر منزل آزادی ہے۔ جنرل اسلم بلوچ نے مسلح محاذ میں کارہائے نمایاں انجام دے کر عالمی انقلابی روایات میں ایک نئی اور روشن مثال قائم کردی۔ شہیدجنرل کے کردار ہائے نمایاں نہ صرف بلوچ بلکہ پوری دنیا کے مظلوموں کے لئے مشعل راہ ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بلوچ سرزمین سے ہماری قومی وجود و شناخت کو مٹانے کے لئے حتمی تیاری کرچکا ہے اور دشمن کے اس غلیظ ارادے میں خطے کی سامراجی طاقت چین پاکستان کے ساتھ شریک جرم ہے۔ بلوچ قوم پرستی کے نام پر سیاسی دکان چمکانے والے اب تک بلوچ قوم کو بہلاپھسلانے کی کوشش میں مگن ہیں لیکن بلوچ کو شعوری طورپر اس امر کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ہماری قومی وجود، تشخص اور تہذیب و ثقافت اور زبان کو مٹانے کے درپے ہے اور ہمیں اپنے ہی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کرنے کی سازشوں پر تیزی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ اس میں ریاست پاکستان کے تمام ادارے اور بلوچستان کی وفاق پرست جماعتیں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ قوموں پر ایسے مشکل اورکٹھن حالات آتے ہیں تو جنرل اسلم بلوچ جیسے لوگوں کا تخلیق ہونا یقینی امر ہوتا ہے۔ اس جد و جہد کو منزل تک لے جانے کیلئے شہید جنرل جیسے عظیم انسانوں کا کردار، غلامی کا احساس اور پاکستانی مظالم ہی کافی ہیں جو ہمیں آزادی کی جدوجہد کی ترغیب دیتے رہیں گے۔

ترجمان نے کہا جنرل اسلم بلوچ کی قربانی اور جہد مسلسل تاریخ کاانمول باب ہیں اور بلوچ نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ جنرل اسلم بلوچ نے بلوچ قوم اور جہد کاروں میں خاص نقوش چھوڑے ہیں جو سب کی رہنمائی کرتے رہیں گے اور حوصلہ کا سبب بنیں گے۔ دشمن ریاست یہ نہ سمجھے کہ وہ ظلم و جبر سے قوموں کو ختم اورسرتسلیم خم کرنے پر مجبور کرے گی۔ جس طرح شہید جنرل نے فرمایا تھا کہ ’’پاکستان جتنا ظلم کرے گا ہم اتناہی زیادہ ابھریں گے‘‘۔ شہید جنرل کا یہ قول آفاقی سچائی ہے جس سے انحراف ممکن نہیں۔ آج جہد آزادی کے کاروان میں شامل جہدکاروں کی تعداد میں اضافہ جاری ہے اور اس حق اور باطل کے درمیان جنگ میں فتح حق اور سچ کی ہوگی۔