بلوچستان میں طلبہ کے خلاف کریک ڈاؤن میں اضافہ ہوا ہے _ بی ایس او آزاد

40

‎بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچ طالب علموں کی جبری گمشدگی، تعلیمی اداروں میں خوف کے ماحول کو جنم دینے اور بلوچ عوام بشمول طالب علموں کو دیوار سے لگانے کی سازشوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے طاقتور عسکری ادارے سول اداروں کی مدد و تعاون سے بلوچ طالب علموں پر کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ ریاستی اداروں کے اس مجرمانہ افعال نے بلوچستان کے عوام کو سراسیمگی اور خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔

‎گذشتہ دنوں بہاالدین ذکریا یونیورسٹی کے طالب علم جئیند بنگلزئی ولد عبدالقیوم کو اسکے بھائی حسنین اور والد سمیت لاپتہ کردیا گیا جبکہ اسی دن گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کوئٹہ کے فرسٹ ائیر میڈیکل کے طالب علم امین ولد عبداللہ کو بھی لاپتہ کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا جن کا تاحال کچھ پتہ نہیں اور بدھ کے روز متعدد طالب علم جن میں ظریف رند، چنگیز بلوچ ،اورنگزیب بلوچ اور دیگر کئی طالب علم فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے جن کی پراسرار گمشدگی خوف کے ماحول کو جنم دینے کا ثبوت ہے۔

‎اس سے قبل بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان اور نشتر یونیورسٹی انتظامیہ بلوچ طالب علموں کی فہرستیں مرتب کرکے انہیں ریاستی سیکورٹی اداروں کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچ طالب علموں کو دیوار سے لگانے کی سازشوں میں سول ادارے مکمل سیکورٹی فورسز کی معاونت کررہے ہیں۔ اسکے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹلز سے بھی سیکورٹی اداروں نے بلوچ طالب علموں کی فہرستیں طلب کی ہیں۔ جس سے یہ عیاں ہوجاتا ہے کہ بلوچ طالب علموں کو خوفزدگی کا شکار بنا کر ان پر تعلیم کے دروازے بند کرکے اپنے قبضے کو دوام دینے کی پالیسیوں کو مذید مستحکم بنایا جاسکے۔
‎ ریاست پاکستان نہ صرف تعلیمی اداروں میں خوف کے ماحول کو جنم دینے کی کوشش کررہی ہیں بلکہ وہ ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچ کو نشانہ بنا کر پورے بلوچ سماج کو خوف کی چادر تلے لپیٹنے کی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ گزشستہ دن رینجرز اور سادہ وردی میں ملبوس سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کراچی کے علاقے لیاری میں کئی گھروں پر چھاپہ مار کر تین بلوچ فرزندوں کو لاپتہ کردیا جن کا تاحال کچھ پتہ نہیں۔

‎ترجمان نے مذید کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے پرچم تلے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا علامتی بھوک ہڑتال گزشستہ ایک مہینے سے جاری ہے جس میں جبری گمشدگی سے متاثر سینکڑوں خاندان اپنے بچوں اور بچیوں کے ساتھ کوئٹہ کی سرد اور یخ بستہ موسم میں اپنے پیاروں کے بازیابی کے لئے پر امن احتجاج کررہے ہیں لیکن ریاستی کے قانونی و پارلیمانی اداروں کی جانب سے انہیں مسلسل نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

‎بلوچستان کے وزیر اعلی و اعلی حکام ریاستی آلہ کار بن کر بلوچ ماؤں اور بہنوں کی آواز کو نظر انداز کرنے کے عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انکو بلوچ عوام سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ ریاست کے آلہ کار بن کر پیٹ پرستی میں مصروف عمل ہے۔

‎ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور انٹرنیشنل میڈیا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لگائے جانے والے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیھٹے اہلخانہ کی آواز کو انٹرنیشنل دنیا تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ مہذب ممالک کے تعاون سے بلوچ عوام کو ریاست کی شر انگیز کاروائیوں سے محفوظ کیا جاسکے۔