آخر کب تک؟ – گروشک بلوچ

95

آخر کب تک؟

گروشک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بزدل، بےحِس، مردہ ضمیر اور انسانیت سے عاری کم ظرف لوگوں کا ہمیشہ سے یہی شیوہ رہا ہے، اپنے سے کمزور اور مظلوموں پر ظلم کرتے ہیں اور اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرکے اپنے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور لوگوں سے غیر انسانی برتاؤ کرکے انہیں ظلم و تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

آج سوشل میڈیا پر میری نظروں کے سامنے سے ایک ایسی پوسٹ گزری جس میں ایک وڈیو کو شیئر کیا گیا تھا، جس پر لکھا تھا ایک سفید ریش بزرگ بلوچ پر پاکستانی فوج کی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ کےکارندے تشدد کر رہے ہیں اور اس وڈیو کلپ کو سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے مسلسل مشتہر کیا جارہا تھا، اور انسان دوست لوگ اس ناروا عمل کی مذمت بھی کررہے تھے۔

اول تو مجھ میں اس وڈیو کو دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی بلاآخر میں نے اس وڈیو کو دیکھنے کا فیصلہ کیا جس میں دیکھا ایک بزرگ اور ضعیف العمر شخص پر ایک مسلح شخص تشدد کرکے اُس اس کی عزت نفس کو مجروح کررہا ہے، وڈیو کلپ کو دیکھتے ہی دل سے ایک آہ نکلی اور آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ۔

نا جانے اس سفید ریش ضیف العمر شخص نے اپنی زندگی میں کتنے دکھ، درد، تکلیف دیکھے ہونگے( وہ دکھ اور تکلیفیں اُس کے چہرے پر ظاہر تھے) اور اپنی آنکھوں میں کتنے ارمان کتنی امیدیں اور خواب سجائے ہونگے اپنے آنے والے نسل کے لئے۔

اس کے ارمانوں اور امیدوں کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جب اُس کے سامنے اُس کےاپنے ہی ہم زبان ہم قوم مگر مردہ ضمیر تھالی چٹ ریاست کے پشت پناہی میں پلنے والے بے ضمیر دلال ریاستی طاقت سے لیس مگر بزدل اور بےحس جب اس سفید ریش شخص کو زبردستی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگوانے کی کوشش کر رہے تھے تو اس نے یہ نہیں دیکھا میں کتنا مجبور، بے بس ضعیف اور غریب ہوں، یہ ضعیف شخص اندر سے مظبوط ایک چٹان کی طرح نہ کسی کا خوف نہ کسی کا ڈر، باایماں بلند حوصلے والا بزرگ بلوچ اُن بزدلوں کے سامنے زیر نا ہوا بلکہ وہی کہا جو اُس کے دل میں تھا ” ڈاکٹر اللہ نظر زندہ باد”

وہ جانتے تھے ہمارے لئے ہمارے بہتر مستقبل کے لئے جو مادر وطن کے درد مند، ماوؤں لخت جگر، بہنوں کے شہزادے، والد کے بڑھاپے کے سہارے بھائیوں کے کاندھوں نے پہاڑوں کا رخ کیا ہے ہر مشکل، درد ، تکلیف، بھوک پیاس، زندگی کی ہر آسائش و آرام کو پسِ پشت ڈال کر، اپنوں سے دوری، خون جما دینے والی سردی، کھال کو جلا دینے والی گرمی برداشت کر رہے ہیں وہی ہے ہمارے حقیقی درد مند ہیں۔

میرے والد کے ہم عمر سفید ریش بزرگ جس طرح آپ کے عزت نفس کو مجروح کیا گیا ہے، ہماری بہنوں بیٹیوں اور معصوم بچوں کو سڑکوں پر رلایا جا رہا ہے، ہمارے شہزادے ہمارے نوجوانوں کو زندانوں میں قید کرکے انسانیت سوز تشدد سے گذار کر اُن کے مسخ شدہ لاشوں کو ہمیں تحفے میں دیا جا رہا ہے، اور اب تک ہزاروں کی تعداد میں ہمارے نوجوان بھائیوں، بزرگوں اور بہنوں کو لاپتہ کیا گیا ہے مجھے امید ہے بلکہ میرا ایمان ہے میرے وطن کے بہادر سرفروش بھائی ان سب مظالم اور ظالم کے تمام تر غیر انسانی اور ناجائز اعمال کا ضرور حساب لیں گے۔

جس طرح سرفروش ریحان جان نے خود کو قربان کیا اور دشمن کےہوش حواس اڑگئے ، جس طرح جلال جان، وسیم جان اور سنگت ازل جان دشمن پر پہاڑ بن کر ٹھوٹ پڑے، جس طرح فتح جان نے دشمن کو سبق سکھایا، جس طرح شہید دلجان، بارگ جان، پھلین امیرالمک، گزین جان، شیرا اور ساتک جان نے آخری گولی کا انتخاب کرکے دشمن کو رولایااور ہزاروں شہیدوں نے ایسے ہی دشمن کو ناکو چنے چھبوائے ہیں۔

وطن زادوں نے سروں پر کفن بھاند کر دشمن کو ہر قدم پے عبرت کا نشان بنانے چل پڑے ہیں۔

حرفِ آخر یہ ہے کہ

میرے قوم کے نوجوانو! اور کتنا! کب تک!

جب تک اس طرح کے دل دہلانے والے واقعات آپ لوگوں کے ساتھ نہیں ہوتے؟ جب تک آپ لوگوں کے عزت نفس کو مجروح نہیں کیا جاتا یا جب تک آپ لوگوں کو اٹھا کے زندانوں کا نظر نہیں کیا جاتا؟

اٹھو اس ظلم و جبر کے خلاف اس غلامی اور درندگیت کے خلاف اپنے خوف کو ختم کرو اور اپنی ضمیر کے زندہ ہونے کا احساس دلاؤ، اپنے اندر کے ڈر کو ختم کرو اپنوں کےلئے آواز اُٹھاؤ اپنے آنے والے کل کے لئے آواز اُٹھاؤ آپنے مستقبل کے لیئے آواز اُٹھاؤ۔ا

پنے اُن بھائیوں کا ساتھ دو جو بلوچ قومی بقاء اور تشخص اور اپنی مادر وطن کی دفاع کےلئے قبضہ گیر سامراج کے ناجائز قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں، جو اپنی جوانیاں اور اپنی قیمتی زندگیاں آنیوالے نسل کے بہتر مستقبل کےلئے نچھاور کررہے ہیں جو ایک آزاد، خوشحال اور انسان دوست سماج کی قیام کےلئے لڑ رہے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔