کوئٹہ و ڈیرہ غازی خان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج و پریس کانفرنس

89

ڈیرہ غازی خان میں بلوچ لاپتہ افراد کے بازیابی کیلئے احتجاج جبکہ کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی مشترکہ پریس کانفرنس

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج کیا گیا جبکہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لواحقین کی آمد جاری رہی جنہوں نے اپنے پیاروں کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غاذی خان میں بلوچ طلباء اور بلوچ راج ڈیرہ غازی خان کی جانب سے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے احتجاجی ریلی نکالی گئی اور مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین حکومتی اداروں اور بلوچ، پشتون اور سندھی لاپتہ افراد کے عدم بازیابی کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم کل خاموش نہیں ہوتے تو آج ہزاروں کی تعداد میں ہمارے وکلاء، ڈاکٹر، انجینئر، شاعر و دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد لاپتہ نہیں ہوتے، ہزاروں افراد کا لاپتہ ہونا غیر معمولی بات ہے جبکہ گذشتہ کئی دنوں سے بلوچ خواتین کوئٹہ میں سڑکوں پر بیٹھے ہوئے احتجاج کررہی ہیں لیکن ایوانوں میں بیٹھے افراد کی جانب سے وہ نظر انداز کیئے جارہے ہیں۔

مظاہرین نے کہا کہ سالوں سے ہماری نسل کشی ہورہی ہے جبکہ مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے سوال کرتے ہوئے کہا ہمیں بتایا جائے کہ بلوچستان میں کس قانون کے تحت پاکستان کے خفیہ ادارے اور فورسز لوگوں کو لاپتہ کررہے ہیں۔

انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے چیف جسٹس نہیں بلکہ پنجاب کے چیف جسٹس ہے، اگر آپ پاکستان کے چیف جسٹس ہوتے تو بلوچستان میں ظلم وجبر کا نوٹس لیتے۔

مظاہرین نے کہا کہ بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو بندوق سے حل کرنے کی کوشش کی گئی جو قابل مذمت ہے۔ جب بھی بلوچوں نے حقوق کا مطالبہ کیا تو انہیں غدار کراردیا گیا اور ہمیں حقوق کے بدلنے مسخ شدہ لاشیں دی گئی جو ہمیں منظورنہیں ہے جبکہ سیاست کو آج بلوچستان میں ایک جرم کرار دیا گیا ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں ریاستی دہشتگردی کو بند کیا جائے اور لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے۔

دریں اثناء بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ افراد کے لواحقین کی آمد جاری رہی اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے پیاروں کے جبری گمشدگی کے بعد اذیت، مالی مشکلات اور دیگر مصائب کا شکار ہیں لہٰذا ہم وفاقی، صوبائی حکومتی اداروں اور ہائی کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کے بازیابی کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں اور ہم انسانی حقوق کے ملکی و بین الاقوامی اداروں، سیاسی، سول سوسائٹی ، طلباء تنظیموں اور تمام مکتبہ فکر کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے لاپتہ پیاروں کے بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

لواحقین نے اپنے پیاروں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیٹیکنیک کالج کوئٹہ کے طالبعلم مشتاق احمد ولد سیف اللہ سرپرہ کو 4 دسمبر 2016 کو ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ سے تین افراد سمیت اغواء کیا گیا جنہیں 5 ماہ بعد چھوڑ دیا گیا لیکن مشتاق احمد تاحال لاپتہ ہے، بولان میڈکل کالج کوئٹہ سے اسرار اور رفیق کو 5 فروری 2015 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، اقبال ولد حاجی قادر بخش کو یکم جنوری 2018 کو پنجگور بازار سے، میر حفیظ اللہ ولد حاجی رحیم الدین کو 30 اگست 2016 کو کلی قاسم دالبندین میں حاجی ولی کے گھر سے لاپتہ کیا گیا ، سمیع اللہ مینگل ولد میر ہزار خان کو 16 نومبر 2009 کو ڈاکٹر بانو بالمقابل TDS ٹیلر کے سامنے سے اس کے بھائی پروفیسر عبدالرحمٰن کے ہمراہ حکومتی اداروں نے گرفتار کیا جبکہ عبدالرحمٰن کو اسی دن چھوڑ دیا گیا لیکن سمیع اللہ تاحال لاپتہ ہے، بلوچستان یونیورسٹی کے طالبعلم صدام حسین بنگلزئی ولد محمد قاسم کو 4 اگست 2015 کو کلی بنگلزئی سریاب روڈ گریڈ اسٹیشن اور گل محمد مری ولد بہادر خان مری کو 7 اگست 2018 کو سریاب روڈ کلی بڑھ سریاب روڈ کوئٹہ سے پاکستانی خفیہ اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا جبکہ میر حبیب اللہ محمد حسن ولد حاجی رحیم الدین کو 30 اگست 2016 کو دالبندین کلی قاسم آباد سے اور عرفان علی ولد رسول بخش کو 25 جولائی 2015 کو سریاب روڈ کلی تاجک آباد میں گھر پر چھاپہ مارکر حکومتی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔

لواحقین نے کہا جب تک ہمارے پیارے بازیاب نہیں ہونگے ہم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ بیٹھیں گے اور اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن احتجاج کرتے رہیں گے۔