ڈونلڈ ٹرمپ کو دھچکہ :وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل

22

 امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹ اراکینِ نے پارلیمنٹ (کانگریس) کے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2 سالہ دورِ صدارت میں بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اب تک کے موصول ہونے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کی 189 اور ڈیموکریٹس کی 203 نشستیں ہیں جبکہ سینیٹ(ایوانِ بالا) میں ریپبلکنز کو 51 نشستوں پر برتری حاصل ہے اور ڈیموکریٹس کے پاس 43 نشستیں ہیں۔

اسی طرح 36 گورنروں کے عہدوں میں سے اب تک کے موصول ہو نے والے نتائج کے مطابق 23 عہدے ریپبلکنز جبکہ 19 عہدوں پر ڈیموکریٹ سے تعلق رکھنے والے گورنر کامیاب ہوئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی نشریاتی اداروں نے نتائج کی تصدیق کی ہے جس میں ریپبلکن کو ایونِ بالا میں دوبارہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔

حالیہ انتخابات کے نتیجے میں امریکی عوام کے رجحانات واضح طور پر دو مختلف سمت میں تقسیم ہوئے نظر آئے جبکہ اس سے قبل 2016 کے صدارتی انتخابات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کو دونوں ایوانوں میں برتری حاصل تھی۔

خیال رہے ایوانِ زیریں میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد اب ڈیموکریٹس اراکین کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی قانون سازی کو روک سکیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مالیاتی امور اور 2016 کے انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کر کے انہیں مشکل میں ڈال سکیں۔

مذکورہ وسط مدتی انتخابات کو ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر اعلانیہ ریفرنڈم سے بھی تعبیر کیا جارہا تھا تاہم ابھی کچھ ریاستوں میں ووٹنگ کا سلسلہ جاری اور ووٹوں کی گنتی کے باعث حتمی نتائج کا تاحال انتظار ہے۔

حالیہ انتخابات میں امریکی صدر کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ تقریباً سارا دن ہی وائٹ ہاؤس میں اہلِ خانہ اور دوستوں کے ہمراہ انتخابی نتائج دیکھتے رہے۔

انتخابات میں امریکی عوام نے بھرپور جوش و خروش سے حصہ لیا جس میں نیو یارک سے کیلیفیورنیا اور میسوری سے جارجیا تک پولنگ اسٹیشنز کے باہر عوام کی طویل قطاریں نظر آئیں۔

واضح رہے کہ امریکا میں ہر 4 سال بعد مڈٹرم انتخابات ہوتے ہیں جنہیں عام انتخابات بھی کہا جاتا ہے اور اس میں ایوانِ زیریں کی تمام 4 سو 35 نشستوں، سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر اراکین اور 36 ریاستوں کے گورنروں کا انتخاب کیا جاتا ہے، یہ انتخابات امریکی صدر کے عہدہ سنبھالنے کے 2 ہر سال بعدمنعقد ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ انتخابی نتائج آنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے تاہم کہا جارہا ہے کہ سینیٹ میں ریپبلکن اراکین کی کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس کی جانب سے ایوانِ بالا میں’بلیو ویو‘ لانے کا خواب ٹوٹ چکا ہے ۔

دوسری جانب امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر حتمی نتائج آنے سے قبل ہی جیت کا اعلان کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کردیا

اپنی ٹوئٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کاکہنا تھا کہ آج رات بہت بڑی کامیابی ، آپ سب کا شکریہ۔

امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق اس سے قبل 2002 میں 3 دہائیوں کے بعد پہلا موقع آیا تھا جب وائٹ ہاؤس پر حکمرانی کرنے والی جماعت نے سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کی تھی۔

حالیہ انتخابات کی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ بہت فخر سے معاشی اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے عوام کو یہ انتخابات ان کے اپنےریفرنڈم کی حیثیت سے دیکھنے کی دعوت دیتے رہے۔