مولانا سمیع الحق کے قتل میں بھارت و افغانستان ملوث ہیں۔ جے یو آئی

52

جمعیت علماء اسلام (س) نے الزام لگایا ہے کہ ان کے قائد مولانا سمیع الحق کے قتل میں بیرونی عناصر ملوث ہیں۔

 جے یو آئی (س) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’مولانا سمیع الحق کے اہل خانہ، دارالعلوم حقانہ، ان کی جماعت اور ان کے  ماننے والوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مولانا کا قتل اندرونی معاملہ نہیں بلکہ اس میں بھارتی، افغان اور دیگر عناصر ملوث ہیں۔

خیال رہے کہ 2 نومبر کی شام کو راولپنڈی میں نامعلوم افراد نے مولانا سمیع الحق کو ان کے گھر میں گھس کر قتل کردیا تھا۔

پارٹی بیان میں کہا گیا کہ کچھ عناصر اپنے نااہلی چھپانے کے لیے مولانا سمیع الحق کے قتل سے متعلق مختلف بیانات جاری کر رہے ہیں اور اس قتل کو خاندانی تنازع یا فرقہ وارانہ مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔

جے یو آئی کے مطابق کہ مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ طالبان اور دیگر گروپوں سمیت افغان حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، لہٰذا سیکیورٹی ایجنسیوں سے اپیل ہے کہ وہ مولانا کے اصل قاتلوں کو گرفتار کرکے اور انہیں قرار واقعی سزا دیں۔

بیان میں کہا گیا افغان حکومت کے ایک وفد نے اکتوبر میں مولانا سمیع الحق سے درخواست کی تھی کہ وہ طالبان کے ساتھ مذکرات میں کردار ادا کریں، تاہم جب وہ مولانا کو قائل کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے دارالعلوم حقانیہ کے خلاف پروپگینڈا شروع کردیا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا کی موت پر جہاں ایک طرف پوری امت مسلمہ افسوس کا اظہار کر رہی ہے تو وہی افغان میڈیا مولانا کی شخصیت کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا۔

بیان میں کہا گیا کہ نظریاتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود تمام فرقوں اور گروہوں کے ساتھ مولانا سمیع الحق کے دوستانہ تعلقات تھے۔