فاٹا انضمام، درہ آدم خیل میں اسلحہ سازی کے پیشے سے وابستہ لوگ پریشانی میں مبتلا

24

آدم خیل ، جہاں اسلحے کی قیمت موبائل فون سے بھی کم ہے ، تاریخی حثیت رکھنے والے اس علاقے کے زیادہ تر لوگ اسلحہ سازی کے پیشے سے وابستہ ہیں لیکن فاٹا انضمام کے بعدیہاں کے مکین اس کام کو جاری رکھ سکیں گے یا نہیں؟ اس کشمکش نے انہیں پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔

درہ آدم خیل پشاور سے تقریبا 30 کلومیڑ کے فاصلے پرخوبصورت پہاڑوں کے درمیان واقع ہے، یہاں ذیادہ تر افراد اسلحہ سازی سے وابستہ ہیں، درہ بازار اور گرد و نواح میں اسلحے کی سینکڑوں دوکانیں اور کافی تعداد میں آرمز فیکٹریاں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسلحے کی یہ ایشیا میں سب بڑی مارکیٹ ہے۔

یہاں ناصرف درہ آدم خیل اور خیبر پختونخوا بلکہ پنجاب اور دوسرےعلاقوں سے تعلق رکھنے افراد محنت مزدوری کرتے ہیں ۔ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے یہ محنتی کاریگر جدید مشینری کی عدم دستیابی کے باوجود ہر قسم کے ہتھیار انتہائی مہارت کے ساتھ بناسکتے ہیں ۔

یہاں کام کرنے والے کاریگروں کادعویٰ ہے کہ وہ یورپی، امریکی اور روسی ساختہ سمیت دنیا بھرکی کسی بھی بڑی کمپنی کے بنائے گئے اسلحے کانمونہ دیکھ کراس کی نقل انتہائی کم قیمت میں بناسکتے ہیں مثلا 2 لاکھ کی قیمت والی پستول صرف 25 ہزار میں فروخت کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلحے کے شوقین ملک بھر سے خریداری کے لئے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

اسلحے بنانے والے کاریگر عابد خان کا کہنا ہے کہ چند سال قبل تک یہاں پر بڑی تعداد میں غیر ملکی بھی خریداری کے لئے آتے تھے جو ان کے کام کوبے حد پسند بھی کرتے تھے لیکن شدت پسندی نے اسلحہ کی صنعت کو کافی نقصان پہنچایا ۔

سال 2005 میں بدامنی شروع ہونے کے بعد زیادہ ترکارخانے بند ہو گئے جس کے باعث وہ فاقوں پرمجبور ہوگئے اوراس دوران بیشتر کاریگروں نے دوسر ے کاروبارشروع کئے جبکہ کئی افراد نےاپنی مشینریاں اور اوزار بھیچ کر اپنے گھر کا خرچہ چلایا۔

کاریگروں کے بقول وہ اس کام کے علاوہ کوئی اورہنر جانتے ہیں نہ ہی کوئی اورکام کرسکتے ہیں ۔ وہ بچپن سے ہی اس پیشے سے وابستہ ہیں اور یہاں محنت کرنے سے ان کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں لیکن اب انضمام کے فیصلے نے انہیں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

درہ آدم خیل کے مرکزی بازار میں اسلحے کا کاروبار کرنے والے حاجی فہیم اللہ آفریدی کا کہنا ہے کہ کافی عرصے بعد یہا ں کے حالات بہتر ہو گئے ہیں لیکن اب انہیں معلوم نہیں کہ صوبے میں ضم ہونے کے بعد وہ اپنے آباؤ اجداد کے اس کام کوجاری رکھ سکیں گے یا نہیں؟

حاجی فہیم کا کہنا ہے کہ اگرحکومت اس صنعت کی جانب توجہ دے اور یہاں ماہرکاریگروں کی حوصلہ افزائی کرے تو وہ ملکی معیشت میں بہتری کے لئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں