تیرہ نومبر یوم شہدائے بلوچستان – مزار بلوچ

35

تیرہ نومبر یوم شہدائے بلوچستان

تحریر- مزار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

جب انسان اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے اور انسانیت کے درد کو محسوس کرتا ہے، تو وہ اپنے ذات اور جان سے زیادہ اپنے فکر کو عزیز رکھتا ہے اور اپنے اس فکر کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہوتا ہے اور ہر وہ سچا عمل کر گزرتا ہے جس سے مظلوم کی حق و داد رسی ممکن ہو۔

اپنے اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے وہ کسی بھی طاقتور اور ظالم کے پھیلائے ہوئے جال کو توڑنے لگتا ہے، اپنے منزل تک پہنچتے پہنچتے عظیم ماؤں کے عظیم بیٹے اپنا جان نچھاور کرکے اپنے لہو سے دھرتی پر ایک شجر لازوال کی طرح ابد تک قائم ہوجاتے ہیں، جسے مادر وطن کے شہید کہتے ہیں۔

یوں تو دنیا کے ہر خطے میں وہاں کے باسیوں نے اپنے خون سے اپنے دھرتی ماں کی حفاظت کی ہے اور امر ہوئے ہیں لیکن آج 13 نومبر یوم شہدائے بلوچستان کے حوالے سے میں اپنے سرزمین بلوچستان کی اس زرخیز زمین کو جھک کر سلام پیش کرتا ہوں جس نے ہر دور میں قابض کے ہر یلغار کے سامنے ایسے بہادر بیٹے پیدا کیئے جو بلوچستان، بلوچ قوم اور بلوچی ننگ و ناموس کی حفاظت میں سینہ سپر ہوکر اپنے خون سے بلوچستان کے پہاڑ اور بیابانوں کی آبیاری کی اور دلیری کے وہ جوہر دکھائے جو ہر قابض یلغار نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، ان شہداء کی بہادری کی باز گشت رہتی دنیا تک سنائی دیتا رہے گا۔

یوں تو بلوچ شہداء کی سرزمین بلوچستان کے لیئے دی گئی، قربانیوں کی طویل داستانیں ہیں لیکن 13 نومبر 1839 کو ہم یوم شہداء بلوچستان اسلیئے مناتے ہیں کہ آج سے 150 سال پہلے اسی دن برٹش سامراجیت کو طویل کرنے کے لئے انگلستانی فوج نے بلوچستان کے پایہ تخت قلات پر باقاعدہ حملہ کیا تو اس وقت کے خان بلوچ اور بلوچوں کی عظیم رہبر خان محراب خان اپنے ساتھیوں کے ساتھ انگریز فوج کے سامنے ڈٹ گئے اور آخری سانس تک لڑ کر شہید ہوگئے، بلکہ قابض کے خلاف پہلی مزاحمت کی بنیاد رکھ کر سرزمین کے لئے قربانی دینے والوں کو صحیح معنوں میں اس عظیم راستے پر گامزن کیا، جس کے بعد اپنے سرزمین کی آزادی کے لئے ہر قابض کے خلاف بلوچ نوجوانوں کے قربانیوں کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔

بلوچ شہداء کی فہرست یوں تو بہت طویل ہے، جن کا شمار اور ان کی قربانیوں کی داستانیں شاید چند اوراق میں سمیٹ نہ سکوں، جب بھی جس محاذ پر بلوچستان کی آزادی کے لئے قربانی مقصود ہوا ہے، بلوچ نوجوانوں نے قربانی دی ہے، کہیں پیر سال بابو نوروز خان کی شکل میں میرگھٹ سے اور کہیں نورا کی شکل میں جھالاوان سے تو کہیں اکبر خان کی شکل میں تراتانی سے تو کہیں علی دوست کی شکل میں پارود سے تو کہیں محمد مراد کی طرح بلوچستان کے ریگستانوں سے کہیں سردار جیئند کی شکل میں سیندک کے پہاڑوں سے تو کہیں سفرخان کی شکل میں چلتن و شاشان سے شالکوٹ سے سہراب آیا، تو ساحل سے غلام محمد و حمید، مستونگ سے پُر مہر حکیم جان تو مچھ سے علی شیر کرد و شفیع جان فولادی ارادوں سے میرغفار جان تو قربانی کے جذبے سے سرشار مجید جان، ٹھنڈے چھاوں کے ساتھ محمود خان تو محکم سوچ کے ساتھ بالاچ خان، زانت و فکر کے ساتھ امتیاز جان تو مہربان مسکراہٹ کے ساتھ کریم جان، امیر جان تو للکار کیساتھ ضیاء جان علم کا پروانہ قمبر چاکر تو دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والا جاوید اختر، اوتان کے ریگستان سے عامر جان تو شور کے چٹانوں سے ساتک جان دشمن کے دلوں کو دہلادینے امیربخش و مجید جان تو وطن پر جان نچھاور کرنے والے درویش و ریحان دشمن کے لئے خوف کا علامت سلمان گھوڑا تو کہیں دشمن پر ٹوٹ پڑنے والا چئیرمین فتح جان، مورچے میں ڈٹے رہنے والا ظفر جان تو دشمن کو نشانہ بنانے والا زبیر جان و حق نواز پیر مرد جان محمد و دولت خان قلو سے گلبہار جان مستونگ سے اشرف جان تو معمار کی شکل میں صبا دشتیاری تو رہنمائی کرنے والا بابو حمل و ستار مہربان دوست قمبر قاضی و میرل جان تو حوصلہ دینے والا سنگت ثناء و جلیل جان۔

عرض یہ کہ جب بھی مادر وطن نے پکارا ہے تو اس کے بہادر بیٹے سرزمین بلوچ پر مٹنے اٹھ آئے اور تاریخ کو اپنے لہو سے لکھا اور مادر وطن کی سینے میں آسودہ خاک ہوگئے اور وطن کی فضاؤں میں اپنے خوشبو کو چھوڑ گئے بلوچستان کی آزادی تک بلوچ نوجوان پیر و زن قربانی دیتے رہیں گے کیونکہ یہ شہداء کے نہ رکنے والا قافلہ ہے شہداء بلوچستان کو سلام پیش کرتے ہیں

کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیوں
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔