تیرہ نومبر بلوچ نر مزاروں کا دن – لطیف بلوچ

56

 تیرہ نومبر بلوچ نر مزاروں کا دن

تحریر: لطیف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

13 نومبر 1839 کو خان محراب خان نے انگریز سامراج سے لڑ کر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا لیکن ہتھیار نہیں پھینکا، انگریز کی قبضہ گیریت اور سامراجیت کو تسلیم نہیں کیا بلکہ بلوچ وطن کی دفاع اور خودمختاری کےلئے لڑ کر جان دے دی یہ ثابت کردیا کہ طاقت اور لالچ کے بل بوتے پر کوئی طاقتور کسی کمزور کو غلام بناکر نہیں رکھ سکتا، کوئی طاقتور فوج اور بندوق کے بل بوتے پر کسی کمزور کے سرزمین پر قبضہ نہیں کرسکتا، اُنکے وسائل، رسم و رواج، زبان، تہذیب و تمدن کو نہیں مٹا سکتا اور نہ ہی کسی طاقتور کو یہ حق حاصل ہیکہ وہ اپنی طاقت اور غرور کی گھمنڈ میں مظلوموں کی آزادی، عزت، غیرت اور خودمختیاری کو روندتا چلا جائے۔

خان محراب خان نے اپنے چند وفادار ساتھیوں کے ہمراہ ملکر ایک طاقتور، جنگی تکنیک، ساز و سامان سے لیس فوج کا مقابلہ کرنے کا ٹھان لیا، وہ اپنے آنے والی نسلوں کو غلامی کے حوالے نہیں کرنا چاہتا تھا، اس نے وطن کو غیروں کے حوالے کرنے اور وسائل کو لوٹنے والوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے، مراعات و مفادات اور بادشاہت حاصل کرنے کے بجائے لڑ کر مرنے کو ترجیح دیا، قبضہ گیروں اور بیرونی حملہ آواروں کے خلاف مزاحمت کی بنیاد رکھی، بلوچ قوم نے خان محراب خان شہید و اُس کے جانثار ساتھیوں کے مزاحمتی سوچ پر کاربند رہتے ہوئے اپنے سرزمین کی دفاع اور آزادی کے لئے قربانیوں اور جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس عظیم قربانی اور محراب خان کی مقدس لہو کے ثواب سے بلوچ سرزمین 11 اگست 1947 کو انگریز سامراج کی قبضہ گیری سے آزاد ہوا اور بلوچ قوم سات ماہ تک آزاد و خود مختیار بلوچستان کے مالک رہے لیکن انگریز سامراج کے بعد کالے انگریزوں نے بلوچستان پر 27 مارچ 1948 کو بزور طاقت قبضہ کیا، بلوچستان کی آزاد و خودمختیار حیثیت پر شب خون مار کر نوزائیدہ پاکستان میں شامل کیا اور بلوچ قوم کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا گیا لیکن بلوچ فرزندوں نے پاکستان کی قبضہ گیری اور غلامی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے خان محراب خان کے راہ کا چناؤ کرتے ہوئے مزاحمتی جدوجہد کا آغاز کیا اور خان محراب خان کے فکری وارث خان عبدالکریم خان نے شہیدوں کا علم اُٹھا کر جدوجہد کا آغاز کیا۔

اُنہوں نے بلوچستان پر قبضہ گیریت کے خلاف قوم کو متحد کرکے مزاحمت کا فیصلہ کیا، وطن سے محبت، غلامی کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ نہیں ٹوٹا یہ تسلسل سے آج بھی جاری ہے، ایک کے بعد ایک وطن زادے نے وطن پر جان نچھاور کیا اور کررہے ہیں، وطن کی محبت نے عمر کا قید بھی ختم کیا ہے۔ 90 سالہ بزرگ نواب نوروزخان، اکبر خان بگٹی، نوجوان سنگت ثناء، سمیع بلوچ، قمبر چاکر، سمیت ہزاروں معلوم و نامعلوم بلوچ فرزندوں نے اور کم سن واحد بالاچ، مجید زہری نے جان قربان کیا۔ اس محبت نے زندگی کے آسائش سے زیادہ غلامی کے خلاف لڑنے اور آزادی کے لئے جان نچھاور کرنے کا حوصلہ بڑھایا اس محبت میں مجید جان، درویش، اور ریحان جان فدائین وطن بن گئے اور زندگی کی حسین ایام اور اپنے آج کو بلوچ قوم کی خوشحالی کل کے لئے قربان کرکے یہ ثابت کردیا کہ غلامی کی بدترین زندگی سے موت صد درجہ بہتر ہے۔

13 نومبر کو بلوچ شہیداء کا دن مشترکہ طور پر منانے کا اعلان بی ایس او (آزاد) نے 2010 میں کیا تاکہ بلوچ وطن پر مر مٹنے اور لہو کا نذرانہ پیش کرنے والے ہزاروں معلوم و نامعلوم بہادر سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاسکے کیونکہ ہزاروں بلوچ فرزند شہید ہوئے ہیں، جن کا یوم شہادت الگ الگ نہیں منایا جاسکتا اور 13 نومبر کو مشترکہ طور پر شہداء ڈے منانے سے یہ مثبت پیغام دیا جاسکتا ہے کہ کسی شہید کی قربانی دوسرے شہید سے کم اور زیادہ نہیں بلکہ تمام شہداء برابر ہیں، اُنکی جدوجہد اور قربانی عظیم ہے۔

13 نومبر کے دن کو صرف شہداء کو یاد کرنے، تعزیتی ریفرنسز اور دیگر تقریبات تک محدود نہیں رکھا جائے بلکہ اس عظیم دن کے موقع پر ہم اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور دیکھیں کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں کیا وہ شہیداء وطن کی تعلیمات اور اُنکے فلسفے کے عین مطابق ہے؟ کیا اُن کے مشن کو ہم درست سمت میں لے جارہے ہیں اور اُن کے بتائے ہوئے باتوں پر پورا اُتر رہے ہیں؟ کیونکہ شہداء نے ایک عظیم مقصد کے لئے جانیں نچھاور کیئے ہیں، اب اُن کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور وہ جو حسین خواب آنکھوں میں لیئے رخصت ہوگئے، اب اُن کے خوابوں کی تعبیر نظریاتی و فکری ساتھیوں کی ذمہ داری بنتی ہے اور 13 نومبر جہاں شہداء کے قربانیوں، جدوجہد اور یادوں کو تازہ کرتا ہے تو وہیں ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہم اپنی گروہی اختلافات کو ختم کرکے ایک آزاد، خود مختیار اور خوشحال بلوچستان کی قیام کے لئے متحد ہوکر جدوجہد کریں۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔