بلوچ لیجنڈز ۔ زمرک زہری

58

بلوچ لیجنڈز

تحریر۔ زمرک زہری

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں ہزاروں پھول جیسے نوجوان مادروطن پر جان نچھاور کرچُکے ہیں اور کررہے ہیں۔ بلوچ قوم اپنے عظیم فرزندوں کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اورتاریخ ایسے لیجنڈز کو نہ بھول سکتا ہے اور نہ ہمیں بھولنے دیتا ہے۔شہید کی موت قوم کی حیات ہوتی ہے، اور ایک روشن خوشحال مستقبل کی ضامن ہے۔

عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ، جو عظیم مقصد کی خاطر سب کچھ داو پر لگا سکتے ہیں، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دنیا کے سخت سے سخت ترین طوفانوں سے نبردآزما ہوجاتے ہیں۔ لیکن اپنی نظریاتی موقف سے ایک انچ تک پیچھے نہیں ہٹتے اور زندگی کی آخری لمحوں کو اپنے لہو سے تاریخ کی شہہ سرخیوں میں پیوست کردیتے ہیں۔ مرتے دم تک آجوئی کے گیت گنگناتے اپنے مادر وطن پر قربان ہوتے ہیں، اپنے مشن کو کامیاب بناتے بناتے اپنا پہچان دنیا بھر میں بنا کے یہ واضح کرچکے ہوتے ہیں کہ بلوچ قوم ایک زندہ قوم ہے اپنی آزادی، اپنی قوم،اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں۔

پُرکٹھن راستوں، پرخار سفر میں، گرم و سرد موسم میں یخ بستہ ہواؤں میں، ہر وقت طاق میں رہتے ہوئے دوشمن کے پلیت قدموں کے اپنے دھرتی پر پڑتے ہی اسے مٹی میں تہس نہس کرتے ہیں۔ ایسے لوگ بیان سے بہت آگے ہیں، ایسے بہادر لوگوں کو صرف وہ لوگ محسوس کرسکتے ہیں جو ان کے راہِ سفر پہ عمل پیرا ہوکر انکا ہم سفر بننا چاہتے ہیں۔

بلوچ گلزمین ایسے ہزاروں داستاتوں سے بھری پڑی ہے۔ جنہیں پڑھ کر آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لیتے، ہزاروں ماؤں کے لختِ جگر ان سے بچھڑے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں دشمن کے عقوبت خانوں میں ظلم سہہ رہے ہیں، آخری سانس تک اپنے مقصد اپنے قومی جدوجہد سے اپنے سوچ و نظریے سے پیچھے نہیں ہٹتے ہیں۔

دشمن کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بلوچ گلزمین پر جان نچھاور کرکے، دشمن کو یہ باور کرواتے ہیں کہ تمہارا ظلم ختم ہو جائےگا، تمہاری وحشت دم توڑ دیگی، تمہاری گولیاں ختم ہونگے، تمہارے عقوبت خانے بھر جائیں گے، مگر بلوچ جہدکار اس وقت تک بھی میدانِ جنگ میں سینہ تان کے اپنے منزل کی جانب گامزن رہے گی اپنے مشن کو پائے تکمیل تک پہنچائے گی۔!

ایسے انسانوں کو ہرانا بہت مشکل ہوتا ہے، جس بیٹے کو خود ماں پیٹ تھپتھپا کر کہتی ہے جا “میرے بیٹا میں نے تمہیں وطن پہ قربان کیا ہے”

مائیں اپنے بیٹوں کو رخصت کرکے مادر وطن پر قربان ہونے کا درس دیتے ہیں۔ سلام ان ماؤں کو جو بیٹے قربان کرکے فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس سفر سے دوبارہ زندہ لوٹنا ناممکن ہے، یہ جانتے ہوئے کہ آزادی قربانی کے بنا حاصل نہیں ہوسکتا، یہ جانتے ہوئے کہ بھوک و پیاس، سورج کی تیز تپیش، بنا سائے کے رہنا ہوگا۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہر موڑ پہ موت کا پہرا ہوگا، یہ جانتے ہوئے کہ ہر قدم خطروں سے خالی نہیں، یہ جانتے ہوئے کے آج کے بعد ریشمی تکیے کے بجائے ایک پتھر کو سرہانے بنا کے سوئے گا، یہ جانتے ہوئے کے نرم بستر پر سونے والا اپنے دھرتی کے خاک کو اپنے لیے آرام دہ بنائے گا، یہ جانتے ہوئے کہ خود کو بجھا کر یہ روح، اس بلوچ قوم کو روشن صبح دیگا۔

اس درد کو اس عمل کو اس لمحے کو وہی ماں سمجھ سکتی ہے، محسوس کر سکتی ہے، جس ماں نے وطن پر بیٹے قربان کئے ہوں، جس ماں نے کئی دنوں سے اپنے بیٹے کی انتظار میں راہ تکتے تکتے سیاہ راتوں میں دروازے کی ہر آہٹ کو پلک جھپک کر دیکھی ہو، اب آئے گا بیٹا، صبح آئے گا بیٹا، اسی انتظار میں ہزاروں ارمانوں کے ساتھ وقت گذرتا جاتا ہے۔ اس بے بس ماں کو یہ پتہ بھی نہیں اس کا بیٹا زندہ ہے یا دشمن کے ظلم ستم نے ٹارچر سیلوں میں اسے شہید کیا ہے۔ یا کسی ویرانے میں اس کی لاش مسخ کرکے پھینک دیا ہے۔

سب سے عظیم رشتہ ماں کا ہوتا ہے، دنیا میں ہر رشتہ انسان کے جنم لینے کے بعد ہی قائم ہوتا ہے۔ دوست ہوں، بھائی ہوں، رشتہ دار ہوں، کوئی ہم سفر ہو، ہر شے سے رشتہ انسان کے جنم لینے کے بعد ہوتا ہے۔ مگر ماں بیٹے کا رشتہ اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی ہوتا ہے، جب بچہ اپنے ماں کی کوکھ میں وجود پاتا ہے۔ اس رشتے کی وہی سے شروعات ہوتی ہے۔ اور تا قیامت قائم رہتی ہے۔ یوں سمجھو موت بس کسی کو ہم سےجسمانی طورپر جدا کرسکتا ہے، ان کی سوچ و یادوں کو نہیں مار سکتا۔

کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں ہم زندگی میں ہی زندہ لاش سمجھتے ہیں، جنہیں ہم نہ یاد کرتے ہیں، نہ محسوس کرتے ہیں، نہ کسی کام کی توقع رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ زندہ رہ کہ بھی مر جاتے ہیں، کسی مقصد کے بنا انسان کی زندگی ان سرکش موجوں کی طرح ہوتا ہے جنکا کوئی کنارہ نہیں ہوتا۔

کوئی بھی انسان ماں کے کوکھ سے عظیم نہیں ہوتا، ہاں مگر وہ خود کو عظیم بنانے میں کامیاب ضرور ہوسکتا ہے، کسی عظیم مقصد کے ساتھ ہم کنارہ ہوکر وہ ضرور عظیم بن سکتا ہے، شہداء بلوچستان کی قربانیاں، وطن دوستی، محنت، مخلصی، سچائی، لگن سے اپنی قومی جہد میں کامیابی حاصل کرچُکے ہیں ۔

اس بات کی گواہی آج تاریخ خود دے رہا ہے، اپنے قوم کا ذمہ کاندھوں پر اٹھائے، قبضہ گیر دوشمن کے خلاف پوری قوت کے ساتھ جہد کررہے ہیں۔ ہر طرح کے مشکلیں، مصیبت و رکاوٹوں کا سامنا کرتے، مسلسل چلتے رہنا جہد کرنا وطن اور قوم کے لیئے آزادی جیسے عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن شکست دیتے رہے ہیں۔ اور سلام ان ماؤں کو جو وطن کے لیئے بیٹے قربان کرکے فخر محسوس کرتے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔