بلوچستان کے سمندری حیات کی بقاء خطرے میں پڑگئی

23

بلوچستان کے سمندری حدود میں باریک سلاخوں نماء جال وائرنیٹ، گجہ نیٹ سے شکار کے باعث سمندری حیات خطرے میں پڑ گئے۔

لسبیلہ کے ساحل گڈانی، سونمیانی ڈام بندر، کنڈملیر تا 175 کلومیٹر سمندری حدود میں غیرقانونی ٹرالنگ شروع ہوچکی ہے اور دوران ٹرالنگ لاکھوں کی تعداد میں چھوٹی مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں جو ان کے کام کے نہیں ہوتی ہے جس کے باعث انہیں مردہ حالت میں سمندر میں پھینکا جاتا ہے جو ضائع ہو جاتی ہیں اور اس کے باعث دوسرے سمندری حیات کی جان کو خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ چھوٹی مچھلیوں کے شکار کے باعث کئی مچھلیوں کی نسلیں ناپید ہو چکی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ فشریز کی جانب سے مچھلی کی ہونے والی نسل کشی و دیگرسمندری حیات کے تحفظ کے لیے سمندر میں وائرنیٹ گجہ نیٹ پر مکمل پابندی لگا رکھی تھی تا کہ سمندری مخلوقات کو تبائی سے بچایا جاسکے ایک ماہ عائد پابندی کے دوران وائرنیٹ گجہ نیٹ ٹرالر مافیاء پابندی کے خاتمے میں کامیاب ہوگئے۔ سمندر میں باریک سراخوں نما جال وائرنیٹ گجہ نیٹ ٹرالر مافیاء قائم انڈسٹریلز میں مرغیوں کی فیڈ وغیرہ میں استعمال ہونیوالی ہرطرح کی باریک مچھلیوں کا سمندر میں شکار جاری ہے جس مقامی چھوٹے ماہی گیروں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔

ذرائع کے مطابق سندھ کے شہر کراچی سے قریباً 200 ٹرالرز بلوچستان کے سمندری حدود میں داخل ہوگئے جبکہ گجہ وائرنیٹ سے سمندر میں غیرقانونی شکار کا سلسلہ جاری ہے۔

مقامی چھوٹے ماہیگیروں کا کہنا ہے کہ وائرنیٹ گجہ نیٹ کے ذریعے غیرقانونی شکار کرنیوالے ٹرالر مافیاء کیخلاف سیکریٹری محکمہ فشریز کوتحریری درخواست دی گئی ہے کہ سمندری حیات کو ہونے والی نقصان کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر وائرنیٹ گجہ نیٹ کے ذریعے شکار پر پابندی لگائی جائے۔

واضح رہے بلوچستان کا ساحلی حدود گڈانی سے جیونی تک 175 کلو میٹر طویل پٹی پر مشتمل ہے بلوچستان کے سمندری حدود میں باریک سلاخوں نماء جال وائرنیٹ، گجہ نیٹ سے شکار کے باعث سمندری حیات کو خطرہ ہے جبکہ کچھ عرصے کے لیے غیر قانونی ٹرالینغ و شکار پر متعلقہ اداروں کی جانب سے پابندی عائد کی گئی تھی لیکن بعد میں پابندی ختم کردی گئی۔