بلوچستان میں لوگ خوف میں زندگی گزار رہے ہیں کہ کب انہیں لاپتہ کیا جائے گا – لشکری رئیسانی

58
لاپتہ افراد کی بازیابی ہمارے چھ نکات میں سب سے پہلا مطالبہ ہے اگر حکومت اسے پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تو ہم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے، ہم پرامن سیاست کی بدولت اپنے حقوق چاہتے ہیں – لشکری رئیسانی
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کیساتھ اس امید پر تعاون کیا کہ بلوچستان کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے انہیں حل کرینگے اگر ہمارے ساتھ کئے گئے چھ نکات پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو اس پر پارٹی فیصلہ کرے گی کہ مزید حکومت کا ساتھ دیں گے یا نہیں، ملک میں جمہوریت کے قیام میں ہمیشہ رکاوٹیں ڈالی گئی ہم پرامن سیاست کی بدولت اپنے حقوق چا ہتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی روانی میں ہمیشہ رکاوٹیں ڈالی گئی جس کی وجہ سے ملک اس دہانے پر پہنچا ہے ہم پرامن سیاست کے ذریعے بلوچستان کے حقوق کا دفاع کر ینگے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان کو آئینی حقوق دیئے جائے تو صوبے میں کوئی تعلیم کے بغیر نہیں رہے گا اور صوبے بھر میں کوئی بھی بے روزگارنہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ آج بھی بلوچستان کے عوام خوف میں زندگی گزار رہے ہیں، انہیں یہ خوف ستا رہی ہے کب اور کہاں سے انہیں لاپتہ کیا جائے گا۔ لاپتہ افراد کی بازیابی ہمارا چھ نکات میں سب سے پہلا مطالبہ ہے اگر حکومت اسے پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تو ہم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کیساتھ اس امید پر تعاون کیا کہ بلوچستان کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے انہیں حل کرینگے اگر ہمارے ساتھ کئے گئے چھ نکات پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو اس پر پارٹی فیصلہ کرے گی کہ مزید حکومت کا ساتھ دیں گے یا نہیں، ملک میں جمہوریت کے قیام میں ہمیشہ رکاوٹیں ڈالی گئی ہم پرامن سیاست کی بدولت اپنے حقوق چاہتے ہیں۔