افغانستان : طالبان کا صدارتی انتخابات ملتوی و عبوری حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ

43

طالبان حکام اور آزاد ذرائع نے قطر میں طالبان اور امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے درمیان 3 روزہ مذاکرات کی تصدیق کردی۔

واضح رہے ماضی میں طالبان نے امریکا سے براہ راست مذاکرات کا متعدد مرتبہ مطالبہ کیا تھا، ان کا موقف تھا امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کے پاس تمام غیر ملک افواج کو افغانستان سے واپس بھیجنے کا اختیار نہیں، تاہم امریکا نے براہ راست مذاکرات سے انکار کیا تھا۔

میڈیا رپورٹ  کے مطابق امریکا اور افغان طالبان کے مابین مذاکرات کا مقصد افغانستان میں امن کی بحالی اور امریکی جنگی کا اختتام ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے 17 برس قبل افغانستان پر حملہ کرکے طالبان کی حکمرانی ختم کردی تھی لیکن تاحال افغانستان کے نصف حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے اور وہ حکومتی اور مقامی سیکیورٹی فورسز پر روزانہ کی بنیاد پر حملے کرتے ہیں۔

اس حوالے سے دو آزاد ذرائع نے تصدیق کی کہ طالبان کی جانب سے صوبہ ہرات کے سابق طالبان گورنر خیراللہ خیرخواہ اور سابق طالبان ملٹری چیف محمد فضل مذاکرات کا حصے بنے۔

دوسری جانب امریکی حکام نے مذاکرات پر فوری بات کرنے سے گریز کیا تاہم اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے مذاکرات سے متعلق بات کرنے سے انکار کردیا۔

ایک اور ذرائع نے بتایا کہ طالبان نے اگلے برس صدارتی انتخابات ملتوی کرنے اور غیر جانبدار قیادت کے تحت عبوری حکومت تشکیل دینے پر زور دیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ عبوری حکومت کے لیے تاجک اور اسلامی اسکالرعبدالستارسیرت کا نام پیش کیا گیا۔

آزاد ذرائع نے بتایا کہ زلمے خلیل زاد تمام امور 6 ماہ کے اندر حل کرنا چاہتے تھے تاہم طالبان نے مذکورہ وقت انتہائی مختصر قرار دے دیا۔

انہوں نے بتایا کہ زلمے خلیل زاد نے فوری جنگی بندی کی تجویز دی جو طالبان نے مسترد کردی تاہم قیدیوں کو آزاد کرنے اور طالبان کا آفس کھولنے اور طالبان پر سفری پابندی کے معاملے پر کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔