آئیں کلہاڑی کا دستہ بننے سے انکار کریں ۔ شاہمو کلائیت خشک

90

آئیں کلہاڑی کا دستہ بننے سے انکار کریں

تحریر۔ شاہمو کلائیت خشک

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان میں بلوچ دوسرے اقوام کے مقابل اپنے ہی وطن میں اتنی آسانی سے کیوں غلام بنائے گئے اور اغیار کے زیر دست صدیوں سے چلے آرہے ہیں؟ کیا وجوہات ہیں کہ قابض اقوام نے جب بھی چاہا بڑی آسانی سے اور قابل قدرمزاحمت نہ ہونے کے سبب آسانی سے اس قوم کو اپنا غلام بنایااور پورے علاقے کو بندر بانٹ کرنے سمیت زیر نگین کیا؟ اس داستان کے مختلف کردار اور وجوہات رہے ہیں، تاہم بڑا فیکٹر منظم حکومتی ڈھانچے کا نہ ہونا ہی اس کی کمزوری رہی۔ جس کی سبب ہر آنے والے قابض نے پہنچتے ہی ایک مخصوص طبقے کو ہاتھ میں لیکر بقیہ بلوچ کو انہی کے ذریعے کچل ڈالا۔ اگرہم بلوچستان کے جغرافیہ، سنگلاخ پہاڑوں، لق دق سحراؤں کا جائزہ لیں تو ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر پوری دنیا کے ممالک فیصلہ کرلیں کہ ہم مل کربلوچ سرزمین کو قبضہ کرکے کالونی بنانا چاہتے ہیں تو وہ لاکھ جتن کرنے کے باوجود نامراد لوٹیں گے کیونکہ بلوچستان کی جغرافیہ انکے سامنے روڑے اٹکاکر انھیں نیست و نابود کرکے دم دبانے پر مجبور کرے گی۔ اگر ( جیسا صدیوں سے ہورہاہے)بلوچ کے آستین کے سانپ انکا ساتھ دیں تو نہ صرف دنیا کے سپر پاور ملک بلکہ پاکستان جیسا چاپلوس ملک بھی بڑی آسانی سے انھیں کچل کر اپناغلام بنانے پر مجبور کردیتاہے۔

جیساکہ ہمارے سامنے ہے، پاکستان نے بلوچستان کے چند سردار اور نوابوں کے کاندھے پر بندوق رکھ کر معمولی مزاحمت بعد اس وطن کو اپنا کالونی بناکر اس کے ساحل و وسائل لوٹنے سمیت ان پر اپنے ظلم و جبر کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اگر ہم بلوچستان کے ماضی کے واقعات کوعارضی طور پر زیر بحث نہ لاکر صرف پاکستان کے فوج کی اس سرزمین پر آمد اور انھیں گلے لگانے کے تاریخ کا پنہ کھول کر دیکھیں تو حسب روایت اسی مخصوص طبقے نے ہی اس کی خوشنودی کیلئے اپنے ہی سرزمین کو قبضہ کروانے اور عوام کو کچلنے کے سیاہ کارنامے کو خندہ پیشانی سے قبول کیا ہے۔ ماناکہ کچھ سرداروں نے آٹے میں نمک کے برابر قوم اور وطن کیلئے کچھ قربانیاں ضرور دیں، مگر انکے ظلم کے داستان بھی تاریخ کے اوراق میں اپنا مقام اور جگہ بنانے میں کامیاب دکھائی دیتی ہیں۔ فالحال یہ ایک الگ بحث ہے کہ مجموعی طور پر بلوچ قوم نے انکے سیاہ کارناموں کو ایک سائیڈ پر رکھ کر بحالت مجبوری انکے مثبت کارنامے ہی دنیا اور اپنوں کے سامنے بیان کرنے پر مجبور ہیں مگر مستقل طورپر انھیں کوئی ذی شعور بھولنے کیلئے تیار ہے ناہی نظر انداز کرکے تاریخ کے پنوں کو خالی چھوڑنے کا محتمل۔ حالانکہ بلوچ قوم نے خلوص نیت سے نواب اور سرداروں کو اپنا مسیحا سمجھ کر پیغمبرانہ درجہ دینے سے بھی چک پد نہیں ہوا، مگر انھوں نے انکے محبت اور خلوص کی وہ قدر نہیں کی جس کے وہ مستحق تھے۔ وہ چاہتے تو اکہتر میں بلوچ بھی بنگالیوں کی طرح اپنے گلے سے طوق غلامی نکالکر پھینک سکتے تھے، وہ بھی آج ایک آزاد قوم کی حیثیت سے جانے جاتے مگرایسا نہ ہوکر اکیسویں صدی کے جدید دور میں بھی بلوچ اپنے پیارے مسنگ اور مسخ شدہ لاشوں پر ماتم کناں اور انکے ڈھانچے پہچاننے سے قاصر ہیں کہ یہ تو میرے پیارے کا ڈھانچہ سرے سے ہی نہیں ہوسکتا، اگر اکہتر کی آزادی کے جنگ کو ایک زہر کاگھونٹ پی کر بھولنے کی ناکام کوشش کریں اور حالیہ جنگ آزادی جوکہ رواں ہے کہ بابت دوہزار سے آج تک کے مختصر پیریئڈکا جائزہ لیں تو دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ اس جہد کو لیڈ کرنے والے رائل خاندانوں یعنی نواب اور سردار جہد کار تنظیموں میں گھس کر انھیں یرغمال نہ کرتے، تو آج بلوچ آزادی کی جہد سے دنیا کے ممالک اتنی لاتعلق نہیں ہوتے۔

بے شک وہ ہمیں گلے نہ لگاتے مگر آئے روز کے دشمن کے ہاتھوں مارو پھینکو کی پالیسی کو بحیثیت انسان مسترد ضرور کرتے۔ اسی طرح ہمارے آزادی کیلئے دنیا کو سفارش نہ کرتے، مگر اتنا ضرور کہتے کہ بلوچستان کے آزادی کو پاکستان نے سلب کرکے انھیں زور زبردستی غلام بناکر انکے وسائل تیزی سے چین کے ساتھ مل کرلوٹ رہاہے۔ بیرونی عوامل بجائے اگر ہم بلوچستان کے اندورونی معاملات کے بارے میں غورفکر کریں، تو یہ بات صاف دکھائی دیتی ہے کہ اگر یہی میر، سردار، نواب جہد میں نہ گھس جاتے تو بلوچ ایک مٹھی کے مانندہوتے۔ ایک پلیٹ فارم پر سیاست کرتے اور ایک ہی دشمن جس کا نام مردود پنجابی (پاکستان) اسکے خلاف لڑتے تو دشمن کو اس طرح آئے دن بمباری کرکے بستیوں کے بستیاں جلاکر راکھ کرنے کی ہمت کرتے نہیں، ہمارے پیارے مسنگ اور مسخ لاشوں میں بدل جاتے دشمن ضرور ظلم کرنے بعد پیچھے مڑ کر دیکھتا کہ کہیں کوئی پیچھے سے تو وار نہیں کرنے آرہا۔

بلوچ آزادی کے جہد کے بارے میں ہم مجموعی طورپر کہہ یا رائے قائم کرسکتے ہیں کہ بلوچ سرزمین کے حقیقی وارثوں نے اپنے آستین کے سانپوں کو ٹھیک پہچان کر آزادی کے حالیہ جنگ کو چار چاند لگاکر جو جلا بخشی ہے، جو قابل دید عمل ہے۔ ہم بحیثیت قوم یہ بات فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کریڈٹ استاد شہید سدو اور استاد رحمدل مری سمیت بی ایل ایف کے ان قومی سپوتوں کو جاتاہے جو دوہزار چار میں بی ایل ایف کو سردار اور نوابوں کے شرسے بچانے میں کامیاب ہوئے، اسی طرح استاد اسلم اور بشیر زیب کی انتھک محنت اور جرات نے بی ایل اے جیسے قومی مسلح جہدکار تنظیم کو نام نہاد نواب سرداروں سے چھٹکارا دیا، اسی طرح حالیہ دنوں کا بی آر اے کو گلزار امام اور اسکے فکری ساتھیوں کے کاوشوں نے بلوچ کے اس تنظیم کو بھی ناسور اور ایڈزدہ نواب زادوں سے بچانے میں کامیاب ہوکر ثابت کیا کہ بلوچ شہیدوں کا خون رائیگان نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بلوچ سیاست میں یہ بدلتا ہوا سیاسی منظر نامہ ایک طرف بلوچ اور بلوچستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو وہیل چیئر پر بیٹھنے پر مجبور کیاہے تو دوسری طرف ان بلوچ جہد کاروں کیلئے بھی ایک پیغام چھوڑاہے۔

جتنی بھی جلدی ہو بقیہ بلوچ مسلح تنظیموں کو نام نہاد نواب سرداروں کے پنجے سے آزاد کرنے کیلئے اپنا کمر کس کر ان گتے کے برجوں کو آگ لگا کر اپنی توجہ دشمن پر مرکوز کریں کیونکہ جب تک ہم کلہاڑی کیلئے دستہ مہیا کرتے یابنتے رہیں گے، وہ طاقتور ہوکرہمیں ہی کاٹتا رہے گا۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔