طلباء تنظیموں کی جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر کیخلاف احتجاج

44

وائس چانسلر نے اپنی خفیہ تنظیم بنائی ہیں جس کو طلباء تنظیموں کو ختم کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کو جیل بنا دیا گیا ہے جس میں طلباء، طالبات اور اساتذہ کو قیدی بنایا گیا ہیں – طلباء تنظیموں کی ڈگری کالج میں مشترکہ جلسہ

کوئٹہ: طلباء ایکشن کمیٹی میں شامل طلباء کے زیر اہتمام گورنمنٹ ڈگری کالج کوئٹہ میں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں بلوچستان یونیورسٹی کرپٹ وائس چانسلر کی برطرف، وائس چانسلر کے کرپشن کی تحقیقات اور یونیورسٹی میں اظہار رائے اور طلباء سیاست پر پابندی کی مذمت کی گئی۔

اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے طلباء ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں زبیر شاہ آغا، کبیر افغان، امین اللہ بلوچ، حافظ سعید نور، ثناء اللہ آغا، یار محمد بریال اور محمد دین نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کرپشن کی آماہ جگاہ بن چکی ہے موجودہ وائس چانسلر نے یونیورسٹی کو طلباء و اساتذہ کے لیے نو گر ایریا میں تبدیل کر دیا ہے۔ اظہار رائے اور طلباء کو سیاسی سر گرمیوں پر غیر اعلانیہ پا بندی لگائی گئی ہے۔ وائس چانسلر نے اپنی خفیہ تنظیم بنائی ہیں جس کا مقصد طلباء و طالبات کو تنظیموں سے الگ کر کے غیر ضروری سرگرمیوں میں ملوث کرنا ہیں اور اس کو طلباء تنظیموں کو ختم کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں بعض شعبہ جات میں بعض اساتذہ و چیئرمینوں کے ذریعے با قاعدہ کلاسز میں سیاسی پارٹیوں و طلباء تنظیموں کے خلاف وائس چانسلر کے ایماء پر غلط تبلیغات کی جا رہی ہیں اور طلباء کو بد ظن کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہیں جس کو ہر صورت میں ناکام کیا جائیگا ۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو جیل بنا دیا گیا ہے جس میں طلباء، طالبات اور اساتذہ کو قیدی بنا دیا گیا ہیں۔ یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات میں ہونیوالی کرپشن پر نیب نے خاموشی اختیار کر رکھی ہیں حالانکہ یہ کرپشن ثابت ہو چکی ہیں اور جعلی ڈگریوں کے حوالے سے بنائے گئے کیسز کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے تاکہ ملوث عناصر کو بچایا جا سکے۔ یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی میں ہونیوالے کرپشن سے یونیورسٹی کا ہر فرد باقاعدہ آگاہ ہے۔

انہوں نے چیف جسٹس بلوچستان، گورنر بلوچستان اور نیب کے چیئرمین سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان یونیورسٹی کے کرپشن کا نوٹس لے اور وائس چانسلر کی برطرفی کیلئے اقدامات اٹھا کر صوبے کے عوام کو اس اذیت صورتحال سے نجات دلائے۔