شہید سلیمان مجھے معاف کرنا ۔ پندران زہری

124

شہید سلیمان مجھے معاف کرنا

تحریر۔ پندران زہری

دی بلوچستان پوسٹ 

کچھ دنوں سے میں شھید علی کے بارے میں کچھ لکھنے کی کوشش کر رہا تھا، کہیں قلم تو کہیں الفاظ ساتھ چھوڑ رہے تھے۔ خیر وقت کے بے رحم شکنجوں سے نکل کر میں نے کچھ لکھنے کی کوشش کی، شھید علی خضدار کے علاقے باغبانہ کا رہاشی تھا، آپ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے، میں شھید علی کو بچپن سے جانتا تھا اور اس کا قریبی دوست رہ چکا تھا۔ آپ ایک ایسے انسان تھے جو ہر وقت ہنستے مسکراتے تھے اور نرم مزاج انسان تھے۔ ایسے انسان بہت کم ہوتے ہیں۔

مجھے یاد ہےجب علی نے خضدار سے میٹرک کیا، اپنا تعلیم مزید جاری رکھنے کے لیے کوئٹہ چلا گیا، کچھ مہینوں بعد واپس خضدار آگیا، میرا اس کے ساتھ ملاقات ہوا میں نے سمجھا علی صرف چھٹی گذارنے آیا ہے لیکن جب علی نے کہا کہ اپنا تعلیم جاری رکھ نہیں سکتا کیونکہ تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے جو میرے پاس نہیں، یہ سب سنتے ہی میں اندر ہی اندر ٹوٹ گیا۔ بس میرے پاس اس کے لیئے افسوس کے سوا اور کچھ نہیں تھا لیکن علی اس حال میں بھی مسکراتا دکھائی دیتا تو میں نے کہا اب آپ کیا کروگے؟ کہنے لگا بس اب ڈگری کالج خضدار میں داخلہ لیکر پڑھائی جاری رکھونگا، ساتھ میں کسی دوکان میں کام کرونگا تاکہ میرا پڑھائی کاجو خرچہ ہے وہاں سے نکلے اور پڑھائی جاری رہے۔ کئی دنوں بعد، ایک دن علی سے ملاقات ہوا تھوڑی جلدی میں تھا اور کہنے لگا یار معاف کرنا میں جارہا ہوں گھر جانا ہے روٹی کھانا ہے واپس مجھے درزی والے دکان پر جانا ہے جہاں میں کام کرتا ہوں۔

علی کہتے جارہا تھا اور ہاں آج 6 بجے کے وقت ریلی ہے، وہاں بھی جانا ہے آپ بھی ضرور آنا اس وقت علی بی ایس او (آزاد) میں تھا۔ علی اپنے سارے کام ایمانداری اور مخلصی سے کرتا تھا، جب بھی کسی بھی وقت اس کو کام دیا جاتا وہ اسے بہتر انداز میں کرتا تھا۔

جب ڈگری کالج سے فارغ ہوئے، تو اس وقت آپ درزی کے دوکان پر استاد بن گئے تھے، کئی دن سے علی نظر نہیں آرہا تھا اس کا موبائل بھی بند تھا میں نے بہت کوشش کیا اس کے ساتھ حال حوال کرنے کی مگر نہیں ہوا ایک دوست سے معلوم کرنے کے بعد پتا چلا کہ علی اغواء ہوگیا ہے۔

علی پورے ڈیڑھ سال تک دشمن کے اذیت خانوں میں اذیت سہہ کر دشمن کو اپنی سرخ آنکھیں دکھاتا رہا، جب اس کو رہائی ملی تو شھید اپنے گھر جانے کے بجائے دوستوں کے پاس جاکر محاذ کو سنبھالنے لگا۔

کچھ مہینے گذرنے کے بعدکسی انجان نمبر سے مجھے کال آیا، میں نے ایک دم وہ مہربان آواز پہچان لیا۔ میں نے اس کے ساتھ بات کی سنگت علی نے کہا آپ سے ملنا ہے میں نے کہا ٹھیک ہے میں کچھ گھنٹوں کا سفر کرکے علی کو پہنچا، اس کے ساتھ ملاقات ہوا کئی دنوں بعد میرا اس سے پہلا ملاقات تھا۔ پہلے تو میں نے اسے پہچانا نہیں کیونکہ وہ دشمن کے اذیت سہہ کر میرے سامنے تھا۔ جی چاہتا تھا کہ بس اس کو سنتا جاوں، اس کی دلیری کی داستانیں جو وہ ہنس کے سنا رہا تھا، ایسے میں علی نے کہا یار کچھ دن بعد مجھے چھٹی پے جانا ہے اور ماں سے ملنا ہے۔ تقریباً دو سال ہوا ہے ماں کو دیکھا نہیں۔ میں نے کہا ہاں یار آپ میرے گھر آجاؤ اور امی کو وہاں بلاتے ہیں، آپ امی سے مل لیں۔

کچھ دن کے بعد علی ہمارے گھر آئے، اپنے امی کو بلا کر کچھ دن ہمارے گھر میں گذارے، جب سنگت کی چھٹیاں ختم ہو رہے تھے اور اس کو واپس محاذ پے جانا تھا تو علی اپنی ماں کو بڑے نرم مزاجی کے ساتھ حوصلہ دے رہا تھا، اس وقت چاہے جتنا سنگدل انسان ہوتا وہ پگھل جاتا، بہہ جاتا خیر میں نے اسے دوستوں کو پہنچا کر واپسی کا رخ کیا مجھے کوئٹہ جانا تھا۔

سلیمان نے شہادت سے کچھ دن پہلے مجھے کال پر حال حوال کیااور کہا سنگت مجھے چھٹیوں کے سلسلے میں آنا ہے اور امی سے بھی ملنا ہے، میں اپنے فضول زندگی میں مگن تھا، تواس وقت میرے پیپرز ہورہے تھے۔ میں نے سنگت سے کہا کچھ دن کے بعد میرے پیپرز ختم ہونگے اس کے بعد میں آتا ہوں آپ کے لیئے، اس نے کہا میری چھٹیاں کم ہیں، میں نے کہا ٹھیک ہے میں کسی دوست کو دیکھتا ہوں وہ آپ کے لیے آئے گا لیکن بدقسمتی سے وہاں کوئی نہیں تھا۔ مجبوراً مجھے یہ کہنا پڑا کہ آپ کچھ دن برداشت کرلیں تو شھید نے کہا ٹھیک ہے آپ اپنے پیپرز تسلی سے دیں، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر دیکھتے ہیں، میں نے کہا ویسے اپ کی طبیت ٹھیک ہے نہ؟ کہنے لگا جی ہاں ہم لوگ خیریت سے ہیں آپ اپنے امتحان سے فارغ ہوجائیں پھر ملتے ہیں۔

میرے کچھ پیپرز ہوگئے تھے، باقی دو پیپر رہ گئے تھے کہ دسمبر (2016)مغرب کے وقت مجھے میسج آیا کہ علی ہمارے ساتھ نہیں رہا، میں اس میسج کو پڑھکر، جہاں بیٹھا تھاوہیں پر ایسے سوچ میں پڑ گیا کہ میرے سامنے جو کچھ ہو رہا تھا مجھے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا، میں خود کو بے جان محسوس کر رہا تھا ایسا لگ رہا تھامیرا جسم کا آدھا حصہ میرے ساتھ نہیں ہے۔ تھوڑی دیر بعد، ہوش سنبھالتے ہی اپنے آپ کو مجرم قرار پایا اور کچھ سوالوں کے جواب دے نہ سکا، اب بھی کہہ رہا ہوں کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟
ایسا کیسے میں نے کیا؟
کیا مجھے علی معاف کریگا؟
کیا مجھے علی کی ماں معاف کریگی؟ اب کیا کہونگا؟
اج تک میں ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکا؟

کریس محشر زند اے الاس ہناس
تسوس غم تہ بڑ اس الاس ہناس

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔