حب: مبارک ولیج کے ساحل پر آلودگی پھیلانے والے جہاز کا پتہ چل گیا

71

تیل گڈانی کے ساحل پر لنگر انداز 2 ہزار ٹن وزنی جہاز سے نکالا گیا تھا۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گذشتہ دنوں بلوچستان کے صنعتی شہر حب، گڈانی کے قریب مبارک ولیج کے ساحل پر آلودگی پھیلانے والے جھاز کا پتا لگا لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں ساحل سمندر پر تیل بہہ جانے سے سمندری آلودگی پھیل گئی تھی جس پر مقامی لوگوں نے احتجاج کی تھی کہ آلودگی کے وجہ سے آبی حیات کو خطرہ لاحق ہوگئی ہے اور مقامی مچھیروں کی روزگار بند ہوگئی ہے ۔

ذرائع کے مطابق تیل گڈانی کے ساحل پر لنگر انداز 2 ہزار ٹن وزنی جہاز سے نکالا گیا تھا، جہاز کے مالکان نے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کے ٹھیکیدار کو جہاز کا فالتو بنکر آئل ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری دی تھی جس پر ٹھیکیدار نے ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے جہاز کے ایندھن کو سمندر میں پھینک دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار نے 7 سے 10 میٹرک ٹن بنکر آئل ساحل کے قریب ہی گرایا، بنکر آئل نے 5 اسکوائر کلومیٹر کو آلودہ کیا جس سے یہ آئل بلوچستان اور سندھ کے ساحلوں پر پھیل گیا جب کہ جہاز کے بنکر سے ملے آئل اور سمندر میں پھیلے تیل کے نمونے فرانزک معائنے کیلئے بھجوا دیئے گئے ۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اور میری ٹائم کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مبارک ولیج کے ساحل سے ملنے والا تیل پاکستان میں کوئی بھی ریفائنری استعمال نہیں کرتی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ساحل پر آنے والا تیل بنکر آئل تھا جو بحری جہاز ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں، مبارک ولیج سے ملنے والے تیل کے نمونوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا گیا جس میں بائیکو کی پائپ لائن سے تیل کا رسا نہ ہونے کی تصدیق ہوئی۔

واضح رہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے مبارک ولیج کے ساحل پر تیل کے باعث شدید آلودگی سے مچھلیوں سمیت دیگر آبی حیات مرنے لگیں جبکہ اس وجہ سے ماہی گیروں کا روزگار بھی متاثر ہورہا ہے۔ حکومتی اداروں کی جانب سے ساحل کی صفائی کا کام بھی جارہی ہے۔