بھائی مجرم ہے تو عدالتوں میں پیش کیا جائے – سیما بلوچ

65

بی ایس او آزاد کے لاپتہ رہنما شبیر بلوچ کے گرفتاری کے دوسال مکمل ہونے پر ان کے بہن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہم جس کرب کا سامنا کررہے ہیں وہ میں بیان نہیں کرسکتی کیونکہ کسی کے گھر سے نوجوانوں کا لاپتہ ہونا زندگی کا ایک کربناک دور ہوتا ہے اور خدا کسی کو یہ دن نہ دکھائے، دو سال گزرنے کے باوجود ہمارا ایف آئی آر درج نہیں کیا جارہا ہے۔

لاپتہ بلوچ طالبعلم شبیر بلوچ کے ہمشیرہ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں سیما بلوچ لاپتہ شبیر بلوچ کی بہن آج ایک بار پھر آپ کے سامنے اپنے بھائی کا کیس لائی ہوں تاکہ آپ کے توسط سے ملک کے اعلیٰ اداروں تک اپنی آواز پہنچا سکوں۔ میرے بھائی شبیر بلوچ کو آج سے دو سال قبل تربت کے علاقے گور کوپ سے فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے ان کی اہلیہ کے سامنے سے اٹھا کر لاپتہ کردیا۔آج میرے بھائی کی گمشدگی کو دو سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن انکی زندگی کے بارے میں ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ وہ کس حال میں ہے، زندہ ہے یا اسے بھی دیگر لاپتہ افراد کی طرح ماروائے عدالت قتل کرکے ویرانوں میں پھینک دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے شبیر بلوچ کی باحٖفاظت بازیابی کے لیئے احتجاجی مظاہرے کئے، ریلیاں نکالیں، کراچی و دیگر مقامات پر پریس کانفرنسز کے ذریعے اپنی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچائی،انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے ذمہ داران سے ملاقاتیں کیں،ایشین ہیومین رائٹس کمیشن کو اس کیس کے بارے میں آگاہی فراہم کی اوربلوچستان ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی،انصاف کے اعلیٰ اداروں کے روبرو پیش ہوئے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کو اس کیس حوالے آگاہی فراہم کی لیکن نتیجہ صرف جھوٹی تسلیوں کی صورت میں سامنے آیا۔ہم نے اپنی بساط کے مطابق ملک کے تمام اداروں کے در کھٹکٹائے لیکن میرے بھائی کو ابھی تک منظر عام پر لانا کجا اس کے بارے ہمیں اطلاع بھی نہیں دی جارہی ہے۔

سیما بلوچ نے مزید کہااقوام متحدہ اور خود پاکستان کے اپنے آئین کے مطابق ریاست شہریوں کے تحفظ کا ذمہ دار ہوگا لیکن اس کے برعکس امن و امان قائم رکھنے والے ادارے جو ہمارے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ انہی کے اہلکار ہمارے بچوں اور بھائیوں کو اٹھا کر لاپتہ کررہے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی فرد کو حبس بے جا میں رکھا جائے لیکن بلوچ لاپتہ افراد آٹھ آٹھ سالوں سے عدالتوں کے سامنے پیش نہیں کیئے جاتے ہیں۔

انہوں نے صحافیوں سے مخاطب ہوکر مزید کہا اگر ہمارا بھائی گناہ گار ہے ،اس نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے، قانون کے مطابق سزا دی جائے یوں حبس بے جا میں رکھ کر پورے خاندان کو کرب میں مبتلا نہ کیا جائے۔ آج ہم جس کرب کا سامنا کررہے ہیں وہ میں بیان نہیں کرسکتی۔ کیونکہ کسی کے گھر سے نوجوانوں کا لاپتہ ہونا زندگی کا ایک کربناک دور ہوتا ہے اور خدا کسی کو یہ دن نہ دکھائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ظلم کی انتہاء تو یہ ہے کہ آج ہمارے بھائی کو لاپتہ ہوئے دو سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن اس کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج نہیں کرائی جاسکی جب ہم ایف آئی آر درج کرانے تربت پولیس اسٹیشن گئے تو پولیس ہمارا ایف آئی آر تک درج کرانے کو تیار نہیں ہوئے۔ اتنی ناانصافیوں کے باوجود ہم اپنے بھائی کی بازیابی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور آج ہم آپ کے توسط سے اپنے دکھ و درد کی داستان اعلیٰ عہدے داروں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں تک پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ ہمارا بھائی اور دیگر لاپتہ افراد بازیاب ہو کر صحیح سلامت اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔

انہوں صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں امید کرتی ہو کہ آپ حق و سچ کا ساتھ دیکر صحافتی اقداروں کو بحال کرنے کی جدوجہد کریں گے اور غیر جانبدارانہ رویہ اپنا کر لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے تکالیف و مصائب کی تشہیر پیشہ وارانہ بنیاد پر کریں گے۔ہم آپ کے توسط سے سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے اداروں سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی میں ان کے خاندانوں کا ساتھ دیں اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ میرے بھائی سمیت تمام لاپتہ افراد کو بحفاظت بازیابی کے لیے عملی بنیادوں پر اقدامات کریں تاکہ ان کے اہلخانہ سکون سے اپنی زندگی گزاریں۔