پاکستان کے خفیہ اداروں نے میڈیا سینسر شپ کے نئے طریقے ایجاد کر لیے ہیں

28

واشنگٹن کے ولسن سینٹر میں بدھ کے روز صحافیوں کے تحفظ کے بین الاقوامی ادارے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کی پاکستان پر شائع ہونے والی رپورٹ پر ایک مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی جس میں پاکستان میں صحافت کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کی گئی۔

مقررین کا کہنا تھا کہ اگرچہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان میں صحافیوں کی ہلاکتوں میں کمی آئی ہے لیکن ملک سینسر شپ کی پابندیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اس کے لیے نئے طریقے اپنائے جا رہے ہیں جن سے سینسر شپ کا تاثر بھی نہیں ملتا۔

اس پینل گفتگو میں’ سی پی جے‘کے ایشیا پروگرام کے کو آرڈنیٹر، سٹیون بٹلر، پاکستان کے روزنامہ ڈان کے واشنگٹن کے لیے نمائندے انور اقبال، صحافی اور سابق ممبر قومی اسمبلی فرح ناز اصفہانی اور بروکنگز انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر مدیحہ افضل نے حصہ لیا۔

پروگرام کے آغاز میں سی پی جے کی جانب سے ایک ویڈیو رپورٹ دکھائی گئی جس میں پانچ شہروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا احوال دکھایا گیا جنہیں کسی نہ کسی حوالے سے ریاستی اداروں کے دباؤ، تشدد یا سینسر شپ کا سامنا کرنا پڑا۔ ویڈیو میں صحافیوں کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا گیا۔

سٹیون بٹلر نے’ سی پی جے‘کی رپورٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں صحافیوں کی ہلاکتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے جب کہ اب پہلے سے زیادہ تعداد میں صحافی سینسر شپ میں مسلسل اضافے کی شکایت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس پیچیدہ معاملے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی۔

انہوں نے بتایا کہ حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد میڈیا میں واضح تفریق نظر آئی۔ جیو ٹی وی اور فوج کے مابین براہ راست کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس سارے معاملے کے بعد ریاستی اداروں کو کیبل آپریڑرز کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول کرنے کا طریقہ بھی سمجھ میں آ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد میڈیا کا ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا بھی میڈیا پر عوامی اعتماد میں کمی کا باعث بنا۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد فوج نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن تیز کر دیئے۔ کراچی میں پیراملٹری فورسس کی مدد سے ایم کیو ایم سے منسلک پر تشدد واقعات کو ختم کیا گیا۔ تشدد پسند گروہوں کے خلاف جاری ان آپریشنز کی کامیابی کی وجہ سے ملک میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی میں آئی جس سے عوام میں فوج کا امیج بہتر ہوا۔ لیکن ان کامیابیوں کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ اب فوج میڈیا کو با آسانی کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے کچھ برسوں سے حکام کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اگر آدھی رات کو کسی صحافی کو کسی نامعلوم نمبر سے کال آئے اور آپ کو اپنے پیشے سے متعلق ہدایات دی جائیں تو تشدد اور جبری گمشدگیوں کے ماحول میں کوئی بہت ہی نڈر صحافی ہوگا جو بات ماننے سے انکار کرے گا۔

فرح ناز اصفہانی نے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ فوج بیانئے پر اپنی گرفت قائم رکھنا چاہتی ہے۔ ریاستی اداروں پر کسی قسم کی تنقید غداری شمار کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم سلیم شہزاد کی کہانی سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ حساس حقائق کی رپورٹنگ اور اپنے ذرائع حساس اداروں سے چھپانا بھی جرم شمار ہوتا ہے۔

ریاستی اداروں کی جانب سے سینسر شپ کے نئے طریقے کا ذکر کرتے ہوئے مدیحہ افضل نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ڈان اخبار اور جیو نیوز کو بندش کا سامنا کرنا پڑا مگر یہ مکمل بندش نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ سینسر شپ کے اس نئے طریقے میں جہاں کسی علاقے میں کچھ گھروں کو اخبار کی ترسیل جاری رکھی جاتی ہے وہیں اکثر گھروں تک اخبار پہنچنے نہیں دیا جاتا۔ اس صورت میں اگر کوئی یہ شکایت کرے کہ اسے اخبار نہیں ملا تو اسی علاقے سے کوئی اور اس دعویٰ کو جھٹلا دیتا ہے کہ اس کے گھر تو اخبار آیا ہے۔ یہی رویہ ٹی وی چینلز کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان طریقوں کی مدد سے حکام کو سینسر شپ اور بندش کے دعوے جھٹلانے کا موقع مل جاتا ہے۔

سینیر صحافی انور اقبال نے کہا کہ پاکستانی صحافت کو ماضی میں کافی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک وقت تھا کہ ضیاالحق کے زمانے میں صحافیوں کو براہ راست سینسر کا نشانہ بننا پڑا۔ آج سینسر کرنے والوں نے سینسر کے نئے طریقے ڈھونڈ لیے ہیں اور اب مزاحمت کے میدان زیادہ وسیع ہو چکے ہیں جس کے لئے صحافیوں نے بہت جدوجہد کی ہے۔

وائس آف امریکہ نے پینل میں شریک ماہرین سے اسٹیبلشمنٹ کے حامی چینلز میں اضافے اور ریاست کے مستقل اداروں کے بیانئے کو آگے بڑھانے پر معمور میڈیا کے کردار کے بارے میں پوچھا۔

اس بارے میں مدیحہ افضل نے کہا کہ تمام کمزور جمہوریتوں کو ایسے مسائل کا سامنا ہے۔ مگر پاکستان کو اس معاملے میں یہ سبقت حاصل ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نواز ٹی وی چینلز کے ساتھ ساتھ یہاں ایک آزاد میڈیا بھی موجود ہے۔ ایسے چینل ریاستی اداروں کے بیانئے کو سامنے لانے کا ایک طریقہ ہیں۔

ولسن سینٹر میں ساؤتھ ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کیوگل مین نے بھی اس تبصرے سے اتفاق کیا اور وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کسی بھی بیانئے کی تشکیل میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے اور پاکستان کے طاقتور حلقے یہ چاہتے ہیں کہ ان کی سوچ کو میڈیا میں شامل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بہت اچنبھے کی ہے کہ اکثر بڑے میڈیا ادارے پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ کے بیانئے سے مطابقت پیدا کر چکے ہیں اور بڑے بڑے صحافی اپنے پروگراموں اور سوشل میڈیا پر موجودہ حکومت اور آرمی چیف کی مدح سرائی کرتے پائے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طاقت ور حلقوں کی جانب سے ان کے نقطہ نظر کو پیش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور بول ٹی وی اس کی ایک مثال ہے۔ بول اور ایسے ہی دوسرے چینلز کے ذریعے میڈیا میں جاری بیانئے کی کشمکش میں توازن پیدا کرنے کی کوشش پو رہی ہے۔