نواز شریف، مریم اور صفدر کی سزائیں معطل، رہائی کا حکم

33

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آبا دہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔

آج کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب اکرم قریشی نے اپنے دلائل مکمل کیے تو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے مختصر جوابی دلائل دیے جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا۔

تین بجتے ہی جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو احتساب عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزائیں معطل کردیں اور انہیں رہا کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔

عدالت کی جانب سے نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلوں کے فیصلے تک سزائیں معطل کی گئیں جب کہ عدالت نے تینوں شخصیات کو 5،5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے رواں برس 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال قید اور جرمانے، مریم نواز کو مجموعی طور پر 8 سال قید اور جرمانے اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔