بلوچستان ایک کربلا – نگار بلوچ

138

بلوچستان ایک کربلا

تحریر: نگار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آزادی کا کیا مطلب ہے؟ آزادی کہتے کسے ہیں؟ آزادی کا مطلب ہے سوچ کی آذادی، بولنے کی آزادی، صحیح کو صحیح غلط کو غلط بولنے کی آزادی، مذہب کی آزادی، مظلوم کی مدد کرنے کی آزادی، ظالم کو ظلم سے روکنے کی آزادی، حاکم سے اپنے حقوق مانگنے کی آزادی۔ اگر آزادی کے معنی کو ایک جملے میں کہا جائے تو اس کا اصل معنی ہوگا انسانی حقوق کی آزادی، آزای کا مطلب اپنے روزمرہ کے ضروریات آزادی سے پورا کرنا ہے۔

اصل میں ہم نے کھبی آزادی کی اصل معنی کو سمجھنے کی ضرورت نہیں سمجھی، کیونکہ جب سے ہم پر پاکستان نے زبردستی قبضہ کیا ہوا ہے۔ تب سے ہم غلامی کی زندگی گزار رہےہیں۔ اس لیئے ہم آزای کی اصل لفظ کو سمجھنے سے قاصر ہیں، ہمیں بچپن سے یہی کہا گیا ہے، ہم غلام ہیں لیکن یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ آزادی ہوتی کیا چیز ہے اور آزاد وطن کیا ہے؟

اگر دیکھا جائے، تو آج ہماری مثال اس جانور کی ہوگئی ہے، جسے چارہ دیا جاتا ہے، اسکو باہر باندھا جاتا ہے، تاکہ وہ کھلی ہوا میں سانس لے اسکو پانی بھی دیا جاتا، ہر طرح سے اس جانور کا خیال رکھ جاتا ہے لیکن اس سب کے باوجود اس کے پاوں میں ایک زنجیر باندھ دیا جاتا ہے تاکہ وہ مالک کے مرضی کے خلاف کہیں بھاگ نہ جائے، اس سب کے باوجود وہ جانور خود کو خوش نصیب مانتا ہے۔ اس جانور کے نسبت جو جنگلوں میں رہ کر خود مختار ہے۔ آج اگر دیکھا جائے، تو ہم اس جانور سے بالکل الگ نہیں ہیں، پاکستان نے ہمیں بھی ایک ایسے زنجیر میں باندھا، جسے ہم اسکے مرضی کے بنا کچھ نہیں کر سکتے ہیں یعنی ہمیں وہ آزادی نہیں دی ہے، جس پر ہم غلط کو غلط اور صحیح صحیح کہہ سکیں یا اپنے کسی مظلوم بھائی کی مدد کر سکیں، صرف زندہ رہنے کا نام آذادی نہیں اگر تم کسی انسان کو ایک کال کوٹھڑی میں سال بھر بند کرو، وہ تب بھی زندہ تو رہے گا لیکن وہ زندگی ایک موت سے بھی بدتر ہوگی۔

اگر ہم اسلام کے رو سے دیکھیں، تو ہمیں صاف طور پر اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ اپنے آزادی کے لیئے جدوجہد کرنا لازمی ہے، کسی ظالم اور غلط حکمران کے غلامی قبول نہیں کرنی چاہیئے، اس کے لیئے خود کو قربان کیوں نہ کرنا پڑے۔

اسی طرح جب یزید نے حضرت امام حسین کو بیعت کے لیئے کہا تو حضرت امام حسین نے یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی حالانکہ یزید ایک ملسمان تھا، صحابی رسول کا فرزند تھا لیکن یزید مسلمان ہونے کے باوجود ایک ظالم حکمران تھا، تو اس لیئے حضرت امام حیسن نے اسکے ہاتھ پر بیعت نہیں کی بلکہ انہوں نے خوداریت کی راہ کو اپنایا، انہوں نے اپنی جان کی قربانی دی لیکن ایک ظالم وجابر بادشاہ کی غلامی قبول نہیں کی۔ بلکہ آزادی کی زندگی کو ترجیح دی۔

کربلا کے میدان میں جب لشکر عہد میں سے کسی نے پکاراکہ دشمن خیام حسینی کے طرف جا رہا ہے تو امام حسین نے کہا اگر تمہارا کوئی دین نہیں ہے، تو کم از کم اپنے دنیا میں آزاد انسان تو بن جائے۔اس بات سے یہ ثابت ہوتاہے کہ خود کو آزاد کرنے کے لیئے ظالم کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، اگر ہم قرآن پاک کا ترجمہ پڑھیں، توہمیں صاف پتہ چلےگا کہ اللہ پاک نےخودقران پاک میں فرمایا ہےکہ “ظالم کےظلم کےخلاف آوازبلند کرنا لازمی ہے” اللہ پاک کا ارشاد ہے “لا یحب اللہ الجھرباسو من القول الا من ظلم وکان اللہ سمیعا علیما” اللہ کسی کی بری بات کو بآواذ بلند کہنا پسند نہیں فرماتے سوائے اس کے جس پر ظلم ہوا ہو (اسے ظالم کے ظلم کو اشکار کرنے کی اجازت ہے) اور اللہ پاک خوب سننے اورجانے والا ہے۔

اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی حاکم ظلم اور زیادتی پر اتر آئے تو اس ظالم بادشاہ کو ظلم سے روکنا ہے یا ایسے ظلم کے خلاف احتجاج کرناہے اور اسکو اقتدار سے ہٹانا ہے۔ اگر کسی ملک کا نظام حکومت ظلم , زیادتی ,قتل و غارت، کرپشن ,غنڈہ گردی، لوٹ مار, دہشت گردی پر مبنی ہے تو جو شخص بھی ایسی سوچ رکھتا ہے یا ایسے نظام کو تقویت دیتا ہے تو وہ فرعونیت اور یزیدت کہلاتا ہے۔

فرعون اور یزید نے بھی ظلم کا راستہ اختار کیا تھا، فرعون کے لیئے اللہ پاک نے حضرت موسیٰ کو بھیجا، یزید کے لیے حضرت امام حسین کو بیھجا لیکن ہمیں خود اپنی آزادی کیلئے آواز بننا ہو گا کیونکہ ہماری جنگ ایک ایسے ظالم حکومت کے ساتھ ہے جن کے ساتھ خود ہمارے علمائے دین کا پورا پورا سپورٹ ہے۔

میں پوچھتی ہوں اپنے ان علماۓ دین سے جنھوں نے اسلام کا جھنڈا اونچا کر کے ایسے ظالم ریاست کا ساتھ دے رہے ہیں، کیا وہ اس بات سے انجان ہیں کہ یہ ظالم ریاست کیا کر رہا ہے؟ بلوچ عوام کے ساتھ کیسے ان کے لیئے ان کی ہی زمین تنگ کر دی گئی ہے؟ کیسے ان کو لاپتہ کرکے اذیتوں کا نشانہ بنا رہا ہے؟ کیسے انہیں ایک ہی قبر میں بنا کفن اور بنا جنازے کے چون اور تیزاب میں دفن کر رہا ہے۔ کیسے ان کی عورتوں کی عزت پامال کر رہے ہیں؟ کیسے بچوں اور بڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، کیا آپ لوگ اس ظلم سے بے خبر ہو یا آپ لوگوں نے اپنے آنکھیں بند کر دی ہیں؟

اگر اتنے ظلم ہونے کے باوجود آپ لوگ اسکو جہاد نہیں بغاوت کہوں گے، تو مھجے ترس آتا ہے آپ جیسے علمائے کرام پر جنہوں نے ریاست کی ہاتوں میں اپنا ضمیر بیچ دیا ہے اور ایک قوم کے تباہی کا سبب بن رہے ہو۔ اگر جہاد کے بارے میں پڑھا جائے تو اس میں جہاد کےاقسام میں سے ایک قسم ظالم بادشاہ کے خلاف حق کی آواذ بلند کرنا جہاد ہے، بلکہ افضل جہاد ہے۔ آپ خود بھی اس حدیث سے غافل ہو کر اللہ کے ہاں جوابدہ ضرور بنو گے۔ بلکہ آپ لوگ عوام کو جہاد کا راستہ دیکھا کر ان کو ایک آذاد قوم بنانے کی جہدوجہد کرو نا کہ بغداد کے علماۓ کرام کے طرح ریاست کی غلامی کر کے اور اپنا ضمیر بیچ کر گناہ کبیرہ کا مرتکب بنو۔ جس طرح بغداد کے علماۓ کرام نے بغداد کے عوام کو سلا کر ہلاکو خان کے ہاتھوں تباہ و برباد کردیا، آج اپ لوگ بلوچ قوم کو سلا کر ان کو پاکستان کے ہاتھوں تباہی و بربادی کا راستہ دیکھاو گے تو اللہ پاک ان مظلموں کے حق کا اور ان کے جان کا سوال ضرور کرے گا۔ اس وقت کے آنے سے پہلے اپنی آنکھیں کھولو اور اپنے ضمیر کو آواز دو کہ مظلوم کی داد رسی ہر مسلمان پر فرض ہے، تو اپنا فرض پورا کرو اور اپنے قوم کا حق ادا کرو۔

آج بلوچستان کی تحریک آزادی کو اسلامی شدت پسندوں کے ذریعے زیر کیا جارہا ہے۔ بلوچ قوم کے آزادی کے جنگ کو اسلام کے خلاف قرار دینے والے خود اسلام سے واقف ہونے کے باوجود منافقت اختیار کئےہوئے ہیں۔ ہماری تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ ہمیشہ سے ایک سیکولر قوم رہا ہے۔ جہاں تمام اقلیتوں کو ان کے مذہبی رسومات ادا کرنے کے مکمل آزادی حاصل تھی۔ بلوچ نے کبھی مذہب کے نام پہ کسی مظلوم کا خون نہیں بہایا۔ کربلا مسلمان کے مسلمان کے خلاف حق کی جنگ تھی۔ آج ویسا ہی جنگ کا میدان بنا ہوا ہے بلوچستان، جہاں ظلم کے خلاف ہزاروں بلوچوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے ہے۔

 دی بلوچستان پوسٹ : اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔